Inquilab Logo Happiest Places to Work

عیدالفطر: انسان سازی کے ہمہ گیر نظام کا عملی مظہر

Updated: March 20, 2026, 4:32 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

یہ محض خوشی کا ایک دن نہیں، بلکہ ایک طویل تربیت کے بعد آنے والا وہ مرحلہ ہے جس میں انسان اپنے اندر پیدا ہونے والی کیفیات کو عمل میں ڈھالتا ہے۔

The communality seen until Eid-ul-Fitr, I wish it were permanent. Photo: INN
عیدالفطر تک نظر آنے والی اجتماعیت، کاش کہ دائمی ہو۔ تصویر: آئی این این

اسلام کوئی محدود دائرے میں قید تصور نہیں، بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر نظام ہے جو انسان کی پوری زندگی کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔ یہ محض چند رسومات یا مخصوص اوقات کی بندگی کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے ہر لمحے، ہر کیفیت اور ہر موڑ پر اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ انسان جب عبادت میں کھڑا ہوتا ہے تو بھی یہ اس کے ساتھ ہوتا ہے، اور جب وہ دنیا کے معاملات میں الجھتا ہے تو بھی یہی اس کا رہبر بنتا ہے۔ اس طرح زندگی کا کوئی گوشہ ایسا باقی نہیں رہتا جہاں اس کا نور اور اس کی روشنی نہ پہنچتی ہو۔ 
اگر انسان اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر مختلف نظاموں کا جائزہ لے تو اسے معلوم ہوگا کہ اکثر نظام، زندگی کے کسی ایک پہلو کو سنوارتے ہیں مگر دوسرے پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کوئی نظام صرف روحانیت پر زور دیتا ہے اور دنیا سے کٹ جانے کی ترغیب دیتا ہے، تو کوئی صرف مادیت کو مقصد بنا کر انسان کو محض ایک جیتی جاگتی اور چلتی پھرتی مشین میں تبدیل کر دیتا ہے۔ لیکن یہاں ایک ایسا توازن نظر آتا ہے جہاں نہ روح کو دبایا جاتا ہے اور نہ ہی دنیا کو چھوڑنے کا حکم دیا جاتا ہے، بلکہ دونوں کے درمیان ایک ایسا ربط قائم کیا جاتا ہے جو انسان کو مکمل بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: موجودہ حالات میں ہمیں سیرت نبویؐ سے کون کون سی رہنمائی ملتی ہے!

انسانی زندگی خوشی اور غم، آسانی اور مشکل، تنہائی اور اجتماع جیسے متضاد حالات سے عبارت ہے۔ ایک ایسا نظام جو ان تمام کیفیات میں انسان کی رہنمائی نہ کر سکے، وہ مکمل نہیں کہلا سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ یہاں انسان کو صرف عبادت کا طریقہ ہی نہیں سکھایا جاتا، بلکہ اسے یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ غم کے لمحوں میں کیسے سنبھلے، خوشی کے مواقع پر کس طرح اعتدال اختیار کرے، اور روزمرہ کے معاملات میں کس اصول کو بنیاد بنائے۔ اسی ہمہ گیری کی وجہ سے یہ ایک ایسا جامع نقشۂ حیات بن جاتا ہے جو انسان کو کسی ایک رخ پر نہیں چھوڑتا، بلکہ اسے ایک متوازن اور بامقصد زندگی کی طرف لے جاتا ہے،ایسی زندگی جس میں عمل بھی ہو، شعور بھی، اور ایک ایسی باطنی بیداری بھی جو انسان کو محض جینے نہیں بلکہ صحیح طور پر جینے کا سلیقہ عطا کرتی ہے۔اسی ہمہ گیر نظام کی ایک جیتی جاگتی جھلک ماہِ رمضان کے مکمل ہونے پر عیدالفطر کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ 
یہ محض خوشی کا ایک دن نہیں، بلکہ ایک طویل تربیت کے بعد آنے والا وہ مرحلہ ہے جہاں انسان اپنے اندر پیدا ہونے والی کیفیات کو عمل میں ڈھالتا ہے۔ یہاں خوشی کو بھی ایک نظم کے تابع کیا گیا ہے، گویا انسان کو یہ سکھایا جا رہا ہو کہ مسرت بھی بےقید نہ ہو بلکہ اس کے پیچھے ایک اخلاقی شعور کارفرما ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس موقع پر سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ معاشرہ کا کمزور طبقہ اس خوشی سے محروم نہ رہ جائے، اور اگر اس کا حق ادا نہ کیا جائے تو اجتماعی عبادت بھی ادھوری رہتی ہے۔
یہ ترتیب خود اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ انسان کی تکمیل صرف اس کی ذاتی کیفیت سے نہیں بلکہ اس کے سماجی رویے سے بھی وابستہ ہے۔ ایک ایسا شخص جو خود تو روحانی بالیدگی کا دعویٰ کرے مگر اپنے اردگرد کے محتاج انسانوں کو نظر انداز کر دے، درحقیقت اس نے اس تربیت کی روح کو نہیں پایا۔ اسی لئے یہاں پہلے انسان کو ایک پورے مہینے تک ایک خاص نظم میں رکھا جاتا ہے، جہاں وہ اپنی بنیادی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے، بھوک اور پیاس کی شدت کو برداشت کرتا ہے، اور یوں وہ ایک ایسی کیفیت سے گزرتا ہے جو اسے دوسروں کے درد سے آشنا کرتی ہے۔ یہ محض ایک ظاہری عمل نہیں بلکہ ایک باطنی تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے، جہاں احساس جنم لیتا ہے اور ہمدردی ایک فطری جذبہ بننے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ربّ کی معرفت کا ذریعہ

انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ اکثر اسی چیز کو شدت سے محسوس کرتا ہے جس کا وہ خود تجربہ کرے۔ جب تک بھوک ایک تصور ہو، وہ دل پر اثر نہیں ڈالتی، لیکن جب یہی بھوک خود انسان کے وجود کا حصہ بن جائے تو وہ ایک نئے ادراک میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں اسی اصول کو بنیاد بنا کر انسان کو اس مرحلے سے گزارا جاتا ہے تاکہ وہ دوسروں کی محرومی کو محض سن کر نہیں بلکہ محسوس کر کے سمجھے۔ پھر جب اس کے اندر یہ احساس پختہ ہونے لگتا ہے تو اس سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس احساس کو عملی صورت دے، اپنے مال میں سے حصہ نکال کر اس خلا کو پر کرے جو معاشرے میں عدمِ توازن کی صورت میں موجود ہے۔
اس پورے عمل میں ایک اور پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے، اور وہ ہے نظم و ضبط کی تربیت۔ وقت کی پابندی، معمولات کی ترتیب اور احتیاط کی عادت۔ یہ سب انسان کے اندر ایک ایسی داخلی ساخت پیدا کرتے ہیں جو اسے منتشر ہونے سے بچاتی ہے۔ انسان جب بار بار اپنے آپ کو ایک اصول کا پابند بناتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کی طبیعت میں سنجیدگی اور ذمہ داری پیدا ہونے لگتی ہے۔ اسی کے ساتھ اسے یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ اس کی ہر کوشش کا محور ایک اعلیٰ مقصد ہو، اور وہ یہ کہ اس کا ہر عمل ایک ایسی رضا کے حصول کے لئے ہو جو اس کی ذاتی خواہشات سے بالاتر ہے۔
اسی طرح خوف اور امید کے درمیان ایک توازن قائم کیا جاتا ہے۔ انسان نہ اس قدر بے خوف ہو کہ وہ اپنے اعمال کے نتائج سے غافل ہو جائے، اور نہ اس قدر مایوس ہو کہ اس کا جذبۂ کوشش ہی ختم ہو جائے۔ اسے یہ شعور دیا جاتا ہے کہ اس کا ہر عمل معنی رکھتا ہے، اور اس کی ہر کوتاہی کا اثر بھی اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا۔ یوں اس کے اندر ایک باطنی نگرانی پیدا ہوتی ہے جو اسے ظاہر و باطن میں یکساں بننے کی طرف لے جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آئیے! پھر ایک بار ہم رمضان کا سبق تازہ کریں!

الغرض، یہ پورا نظام انسان کو محض چند اعمال کا پابند نہیں بناتا بلکہ اس کی فکر، اس کے احساس اور اس کے رویے کو ایک نئے سانچے اور اسلوب میں ڈھالتا ہے۔ یہاں اسے سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کو ازسرِ نو ترتیب دے، اپنے مفاد سے بلند ہو کر ایک وسیع تر خیر کو سامنے رکھے، اور یوں ایک ایسا انسان بنے جو نہ صرف خود سنورے بلکہ اپنے وجود سے دوسروں کے لئے بھی آسانی پیدا کرے اور اس طرح رحمت کا سبب بن جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK