آج ۱۶؍ واں روزہ ہے۔ دیکھتے دیکھتے پندرہ دن گزر گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے آئندہ تیرہ چودہ دن بھی گزر جائینگے۔ ہر سال یہی ہوتا ہے۔ رمضان آتا ہے، رمضان چلا جاتا ہے۔
آج ۱۶؍ واں روزہ ہے۔ دیکھتے دیکھتے پندرہ دن گزر گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے آئندہ تیرہ چودہ دن بھی گزر جائینگے۔ ہر سال یہی ہوتا ہے۔ رمضان آتا ہے، رمضان چلا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ رمضان کے اپنے کس عمل کو ہم پورا سال جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں ۔ مثلاً، رمضان میں اکثر لوگوں کو نماز ِ فجر ادا کرنے کی سہولت ہوتی ہے کیونکہ سحری کیلئے ویسے بھی جاگنا ہی پڑتا ہے۔ کچھ لوگ نمازِ فجر ادا کرکے سوتے ہیں اور کچھ نمازِ فجر کے بعد ہی اپنے روزمرہ کے معمولات کی ابتداء کرتے ہیں ۔ اہمیت اس بات کی نہیں ہے کہ ہم نمازِ فجر کے بعد سوتے ہیں یا ہمارا عمل اس کے برخلاف ہوتا ہے۔ اہمیت نمازِ فجر کی ہے۔ کیا وہ لوگ جو بقیہ گیارہ مہینوں میں نمازِ فجر باجماعت ادا نہیں کرتے، پورا رمضان باجماعت نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد یہ عزم کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ تیس روزہ نہیں تھا بلکہ سال کے باقی ماندہ مہینوں میں بھی جاری رہے گا؟ اگر اب تک کے کسی رمضان میں یہ عزم نہیں کیا گیا ہے تو اب کرنا چاہئے۔ یہ رمضان کے ایک لازمی عمل کو بقیہ مہینوں تک توسیع دینے کا بہترین طریقہ ہوسکتا ہے۔
رمضان میں ہم آپ انفاق کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ۔ جس کا معنی ہے راہِ خدا میں دینا۔ جاری ماہِ رمضان میں یہ عزم کیا جاسکتا ہے کہ ہم اسلام کے فلسفہ ٔ انفاق کو رمضان تک محدود نہ رکھ کر پورے سال جاری رکھیں گے۔ اس طرح، جہاں ناداروں اور ضرورتمندوں کی مدد ہوسکتی ہے وہیں ایک وسیع تر مقصد کی تکمیل میں حصہ دار بننے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے۔ دین مبین نے ارتکازِ دولت سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم عالمی یا قومی سطح کی اس نابرابری کو ختم نہیں کرسکتے مگر اسے کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
ماہِ رمضان بہی خواہی سکھاتا ہے۔ اس کا معنی ہے خیرخواہی، ہمدردی یا دوسروں کے ساتھ نیکی کرنا۔ خیرخواہی ایک شخص کی دوسرے شخص کے ساتھ بھی ہو اور ایک شخص کی دوسرے بہت سارے لوگوں کے ساتھ بھی ہو۔ اسی طرح بہت سارے لوگوں کی دوسرے بہت سارے لوگوں کے ساتھ بھی۔ اس کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا خلق ِ خدا کو اُتنا فیض پہنچے گا۔ یہ دینی نقطۂ نظر سے تو ضروری ہے ہی، دُنیوی نقطۂ نظر سے بھی اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اس سے خلق ِ خدا کے دلوں میں خیرخواہی کرنے والوں کے لئے نرمی پیدا ہوتی ہے اور خیرسگالی کو فروغ ملتا ہے۔
دین مبین نے بھلائی کی دعوت دینے اور بُرائی سے روکنے کا حکم دیا ہے۔ ایسا نہیں کہ بھلائی کی دعوت تو دی جائے مگر بُرائی سے روکنے کی فکر نہ کی جائے۔ دورِ حاضر میں اس کی ضرورت اسلئے زیادہ ہے کہ سماج میں بگاڑ زیادہ ہے۔ بعض اوقات بگاڑ سامنے دکھائی دیتا ہے، اُسے روکنے کی قدرت بھی ہوتی ہے مگر اس کی فکر نہیں کی جاتی۔ اگر قدرت ہے تو اسے ضرور روکنا چاہئے اور کون ایسا ہوگا جو کم از کم اپنے اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں کو بُرائی سے روکنے کی کوشش نہ کرسکتا ہو؟
ایسی اور بھی کئی باتیں ہوسکتی ہیں مگر مندرجہ بالا چار باتوں ہی کو پیش نظر رکھا جائے تو اس رمضان کے ختم ہونے سے پہلے یہ عہد کیا جاسکتا ہے کہ ہم یا تو چاروں باتوں کو سال بھر جاری رکھیں گے یا کم از کم دو باتوں (پہلی اور بعد کی کسی ایک) کو گرہ میں باندھ لیں گے اور اسے سال بھر جاری رکھیں گے۔کیا یہ نہیں ہوسکتا؟