Inquilab Logo Happiest Places to Work

کاروباریوں کیلئے پانچویں’ایمرجنسی کریڈٹ گارنٹی اسکیم ‘ کا اعلان

Updated: May 07, 2026, 12:40 PM IST | Agency | New Delhi

معیشت اور کاروبار کو سنبھالنے کیلئے حکومت کا بڑا قدم،چھوٹی اور متوسط صنعتوں کو ۱۰۰؍ کروڑ تک اور ایئر لائنس کو ۱۵۰؍ کروڑ تک قرض کی سہولت، کسی ضمانت کی ضرورت نہیں ہوگی۔

Small And Medium Scale Industries Are The Backbone Of The Economy In Terms Of Employment Generation.Photo:INN
چھوٹی اور متوسط درجہ کی صنعتیں روزگار کی فراہمی کے معاملے میں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں-تصویر:آئی این این
ایسے وقت میں جبکہ کاروبار عالمی غیر یقینی صورتحال کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، حکومت نے نئی امدادی اسکیم کے ساتھ مداخلت کی ہے۔مرکزی کابینہ نے ’’ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم -۵ء۰‘‘کو منظوری دے دی ہے۔   یہ قرض ملنے کی ضمانت کی اسکیم  ہےجس کا مقصد مائیکرو، چھوٹے اور درمیانی درجہ کے کاروبار(ایم ایس ایم ای )، ایئرلائنس اور دیگر متاثرہ شعبوں کو نقدی کی کمی اوراس کے بہاؤ کے مسئلے سے  نجات دلانے، کاروبار کو سنبھالنے اورکام جاری رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
نقدی کی کمی کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش
فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی وزیر اشوینی ویشنو نے بتایا کہ یہ اسکیم مغربی ایشیاء میں جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والے لیکویڈیٹی  بحران(پیسوں کی کمی ) سے نمٹنے کیلئے  تیار کی گئی ہے۔۱۸؍ ہزار ۱۰۰؍ کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ اس اسکیم کے ذریعے تقریباً۲ء۵۵؍ لاکھ کروڑ روپے تک کے اضافی قرض جاری کئے جانے کی توقع ہے۔ اس میں سے۵؍ ہزار  کروڑ روپے ہوا بازی کے شعبے کیلئے مختص  کئے گئے ہیں۔
’’ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم۵ء۰‘‘  کے تحت حکومت ایم ایس ایم ای کیلئے ۱۰۰؍ فیصد اور غیر ایم ایس ایم ای  نیز ایئرلائنز کیلئے ۹۰؍  فیصد کریڈٹ گارنٹی فراہم کرے گی۔ یہ گارنٹی نیشنل کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹی کمپنی لمیٹڈ کے ذریعے دی جائے گی، جس سے قرض دینے والے اداروں کو ڈیفالٹ کے خوف  کے بغیر قرض فراہم کرنے کا اعتماد ملے گا۔ اس کیلئے حکومت کی نیشنل کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹی کمپنی لمیٹڈ  بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اس اسکیم کے تحت۱۰۰؍ فیصد تک کریڈٹ گارنٹی کو َر فراہم کریگی۔یہ اسکیم۳۱؍ مارچ ۲۰۲۷ء تک نافذ رہے گی۔
کون فائدہ اٹھا سکے گا اور کیسے
یہ اسکیم اُن ایم ایس ایم ای ، نان-ایم ایس ایم ای  جن کے پاس پہلے سے ورکنگ کیپٹل (سرمایہ )موجود ہے، اور ان ایئرلائنز کیلئے دستیاب ہوگی جن کے قرض کھاتے۳۱؍ مارچ۲۶ء تک اسٹینڈرڈ زمرے میں ہوں گے۔
قرض لینے والی کمپنیاں مالی سال۲۶ء کی آخری سہ ماہی میں استعمال کئے گئےاپنے  ورکنگ کیپٹل کا زیادہ سے زیادہ ۲۰؍  فیصد تک اضافی قرض حاصل کر سکیں گے۔اس  کی حد ۱۰۰؍ کروڑ روپے ہوگی۔ ایئرلائنز کیلئے  یہ حد بڑھا کر ۱۵۰۰؍ کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔قرض پر کوئی گارنٹی فیس نہیں لی جائے گی۔ ایم ایس ایم ای  اور دیگر کاروباروں کو ۵؍ سال کی مدت دی جائے گی، جس میں ایک سال تک ادائیگی سے چھوٹ ہوگی، جبکہ ایئرلائنس کو ۷؍سال کی مدت اور ۲؍سال کا مورٹوریم  (یعنی  قسطوں کی ادائیگی سے چھوٹ) ملے گا۔
 
 
صنعتی شعبے نے بروقت راحت قرار دیا
پرووگ کیپ کی شریک بانی پلوی شریواستو نے حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم۵ء۰ ؍ کا اعلان  ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بہت سے ایم ایس ایم ای  نقدی کے سخٹ دباؤ اور روزمرہ کاروبارکی  غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سب سے اہم چیز بروقت ورکنگ کیپٹل تک رسائی ہوتی ہے، اور۱۰۰؍فیصد گارنٹی کا ڈھانچہ قرض فراہم کرنے والوں  کو تیزی سے فیصلہ لینے کا اعتماد دیتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ’’زمینی سطح پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ مختصر مدت کیلئے لچکدار قسطوں پر قرض کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے، اور اس طرح کی اسکیمیں کاروباروں کو مضبوط رکھنے، ان کے آپریشن جاری رکھنے اور سپلائی چین سے جڑے لوگوں کے روزگار کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔‘‘
 
 
روزگار اور کاروباری تسلسل پر توجہ
حکومت کا ماننا ہے کہ یہ اسکیم کاروباروں کو جاری رکھنے، روزگار بچانے اور سپلائی چین کو بغیر رکاوٹ جاری رکھنے میں مدد دے گی۔بہت سی چھوٹی کمپنیوں اور ایئرلائنس کیلئے یہ موجودہ غیر یقینی صورتحال سے نکلنے میں اہم سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK