Inquilab Logo Happiest Places to Work

کاکروچی مظاہرہ اور ’’انڈیا‘‘ میٹنگ

Updated: June 06, 2026, 1:47 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

درسی کتابوں میں ۶؍ جون کی بابت یہ تو نہیں لکھا جاتا تھا کہ یہ موسم گرما کا آخری دن ہوتا ہے مگر یہ مفہوم اخذ کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کتب میں یہ ضرور لکھا ہوتا تھا کہ ۷؍ جون سے موسم باراں کا آغاز ہوتا ہے۔ ۶؍ جون کے بارے میں جو نہیں لکھا مگر جو مفہوم نکلتا تھا وہ موسم گرما کے آخری دن کا تھا۔

INN
آئی این این
درسی کتابوں  میں  ۶؍ جون کی بابت یہ تو نہیں  لکھا جاتا تھا کہ یہ موسم گرما کا آخری دن ہوتا ہے مگر یہ مفہوم اخذ کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کتب میں  یہ ضرور لکھا ہوتا تھا کہ ۷؍ جون سے موسم باراں  کا آغاز ہوتا ہے۔ ۶؍ جون کے بارے میں  جو نہیں  لکھا مگر جو مفہوم نکلتا تھا وہ موسم گرما کے آخری دن کا تھا۔ اس اعتبار سے آج گرمی کا موسم ختم ہوجائیگا جبکہ اس کے آثار دکھائی نہیں  دیتے۔ آج سے سیاسی درجۂ حرارت بھی بڑھے گا۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ آج، ۶؍ جون کو، کاکروچ جنتا پارٹی کا مظاہرہ ممکن ہوسکے گا یا نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے امریکہ سے دہلی تو آرہے ہیں  مگر اُن کا یہ کہنا نہایت بچکانہ ہے کہ ایئر پورٹ سے سیدھے پولیس اسٹیشن جاکر جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت طلب کرونگا۔ کیا جس دن دھرنا دینا ہے اُسی دن طلب کرنے سے اجازت مل جاتی ہے؟ چونکہ نیٹ اور دیگر داخلہ امتحانوں  کی بے ضابطگی، پرچہ لیک اور طلبہ کو پہنچنے والی ذہنی و نفسیاتی اذیت سے سماج میں  کافی غم و غصہ ہے اس لئے نئی نسل کے افراد بالخصوص طلبہ کی بڑی تعداد آج دہلی میں  یکجا ہوسکتی ہے مگر طے شدہ کچھ بھی نہیں  ہے اس لئے جم غفیر جمع ہوجائے تب بھی کیا نتیجہ نکلے گا یہ اہم سوال ہے۔ ممکن ہے یہ ٹائیں  ٹائیں  فش ہوجائے کیونکہ ابھیجیت دپکے یا کاکروچ جنتا پارٹی کا کوئی کیڈر تو ہے نہیں ۔ کیڈر کیا اس کا کوئی بیس ہی نہیں  ہے بالکل اسی طرح جیسے اس کے نظریات کا کسی کو علم نہیں ۔ اس کی پہلی پریس کانفرنس کیلئے جگہ آر جے ڈی کے رُکن پارلیمان منوج جھا کی ’’سفارش‘‘ سے حاصل کی گئی جس کا اُنہیں  علم نہیں ۔ یعنی اس کی ابتداء ہی دھوکہ سے ہوئی ہے۔
دو روز بعد انڈیا اتحاد کی میٹنگ ہونے جارہی ہے۔ اس اتحاد کے بارے میں  ہماری سمجھ یہ ہے کہ اسے ملک کی تمام غیر این ڈی اے پارٹیوں  کا ایک طاقتور پلیٹ فارم ہوناچاہئے تھا مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ بے دلی کا گٹھ جوڑ ہے جس میں  کوئی کسی کے ساتھ نہیں  اور اگر ہو بھی جاتا ہے تو وہ وقتی حکمت عملی کے تحت ہوتا ہے اُس غبارہ کی طرح جس میں  گیس بھری ہوتی ہے اور جو تھوڑی دیر کیلئے فضا میں  بلند ہوتا ہے، پھر جب زمین پر واپس آتا ہے تو اس کی ہیئت پہلے جیسی نہیں  رہ جاتی۔ اس اتحاد کی قیادت کانگریس پارٹی کو کرنی چاہئے تھی جس نے کوئی خاص دلچسپی نہیں  دکھائی۔ نہ تو اس کا کوئی مرکزی دفتر بنا نہ ہی کنوینر منتخب کیا گیا۔ نہ تو تواتر کے ساتھ میٹنگوں  کا سلسلہ جاری رہا نہ ہی الیکشن میں  ایک دوسرے کے خلاف اُمیدوار اُتارنے کے بجائے مشترکہ اُمیدوار پر اتفاق کیا گیا حتیٰ کہ الیکشن ہار جانا گوارا کرلیا گیا۔ حالیہ دِنوں  میں  ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی نے انڈیا اتحاد کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا مگر تب جب بنگال بھی اُن کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ اب تک ’’انڈیا‘‘ میں  اتحاد کے نام پر جو کچھ دیکھنے کو ملا وہ بہار میں  کانگریس، آرجے ڈی اور بائیں  محاذ کی مشترکہ کاوشیں  تھیں  مگر وہاں  بھی عناد زیادہ اتحاد کم تھا۔ اس کے بعد اتحاد کی تھوڑی بہت رمق تمل ناڈو میں  نظر آئی جہاں  کانگریس اور ڈی ایم کے کی مفاہمت الیکشن کے بعد مخاصمت میں  بدل گئی۔ مخاصمت نہ ہو تب بھی مفاہمت تو ہرگز نہیں  ہے۔ اب وہاں  نئی پارٹی ٹی وی کے اور کانگریس ایک دوسرے کی حلیف ہیں ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ انڈیا اتحاد میں  ڈی ایم کے تو ہے مگر ٹی وی کے کے بارے میں  ابھی کچھ واضح نہیں  ہے۔تازہ اطلاع یہ ہے کہ ڈی ایم کے نے ۸؍ جون کی میٹنگ میں  شرکت سے انکار کردیا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے کے حریف ترنمول اور بایاں  محاذ بھی اتحاد میں  ہیں  مگر دونوں  میں  ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا کتنا جذبہ پیدا ہوا یہ کہنا مشکل ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK