Updated: July 21, 2026, 5:06 PM IST
| Mumbai
فلم ’’سردار جی ۳‘‘ کے تنازع کے بعد خود کو سیاسی بحث سے دور رکھنے والے پنجابی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے اب دہلی میں طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کی بات سنی جائے، چاہے اس کے بدلے انہیں ایک بار پھر ’’ملک دشمن‘‘ ہی کیوں نہ کہا جائے۔ ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
دلجیت دوسانجھ۔ تصویر:آئی این این
پنجابی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی پر خاموشی توڑتے ہوئے نوجوانوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انسٹاگرام پر جاری اپنے پیغام میں دلجیت نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ اس مؤقف کے بعد ایک مرتبہ پھر انہیں ’’اینٹی نیشنل‘‘ کہا جائے گا، لیکن وہ اس کی پروا نہیں کرتے کیونکہ طلبہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ درست نہیں تھا۔ دلجیت نے لکھا کہ ’’طلبہ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کی بات سنی جانی چاہیے۔ عوام کی آواز ہی خدا کی آواز ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان اپنے مستقبل کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، اس لیے ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور طاقت کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: ’دل تو پاگل ہے‘ میں مادھوری کے مقابل کردار کو کئی اداکارائوں نے مسترد کردیا تھا
دلجیت کا یہ بیان اس لیے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ چند ماہ قبل اپنی فلم ’’سردار جی ۳‘‘ سے متعلق تنازع اور تنقید کے بعد وہ عوامی سیاسی معاملات پر نسبتاً خاموش دکھائی دے رہے تھے۔ اب طلبہ کے حق میں ان کے کھل کر سامنے آنے کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ دلجیت دوسانجھ اکیلے نہیں ہیں۔ ان سے قبل انوراگ کشیپ، وِیر داس، ہما قریشی، رتیش دیشمکھ، جنیلیا دیشمکھ، شبانہ اعظمی، دیا مرزا، سونو سود، سوہا علی خان اور دیگر فنکار بھی طلبہ کی حمایت میں آواز بلند کر چکے ہیں۔ کئی فنکاروں نے پولیس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت سے نوجوانوں کے مطالبات سننے اور پرامن مکالمے کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’ہلچل‘ نام سےچار فلمیں بنیں، ہر بار نئی کہانی، الگ ستارے اور مختلف قسمت
دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کارروائی ضروری تھی، جبکہ طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ غیر ضروری سختی برتی گئی۔ دلجیت دوسانجھ کے بیان کے بعد اس معاملے پر عوامی اور سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی ہے، اور سوشل میڈیا پر ان کے حق اور مخالفت میں بڑی تعداد میں تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔