Updated: July 21, 2026, 7:04 PM IST
| Mumbai
ملک بھر میں جاری طلبہ کے احتجاج کے دوران بالی ووڈ کی متعدد معروف شخصیات طلبہ کی حمایت میں سامنے آ گئی ہیں۔ رتیش دیش مکھ، سونو سود، ور داس، دیا مرزا، سوہا علی خان، ادیتی راؤ حیدری، پرکاش راج اور دیگر فنکاروں نے احتجاج کے دوران مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی اپیل کی ہے۔
رتیش دیشمکھ اور سونو سود۔ تصویر: آئی این این
ملک میں طلبہ کے احتجاج نے اب بالی ووڈ کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ متعدد معروف اداکاروں اور فلمی شخصیات نے مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے احتجاج کے دوران مبینہ تشدد پر تشویش ظاہر کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ کی آواز سنی جائے اور مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جائے۔ اداکار سونو سود نے کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں، اس لیے ان کے ساتھ ہمدردی، احترام اور انصاف پر مبنی رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلافِ رائے کو طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے مکالمے سے حل کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح رتیش دیش مکھ اور جنیلیا دیش مکھ نے بھی طلبہ کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے پرامن احتجاج کی حمایت کی۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ پر پولیس کارروائی: انوراگ کشیپ برہم، ویر داس کی خاموش فنکاروں پر تنقید
معروف کامیڈین اور اداکار ویر داس نے فنکار برادری پر زور دیا کہ وہ اہم سماجی معاملات پر خاموش نہ رہے، جبکہ دیا مرزا نے احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے ساتھ تشدد کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ سوہا علی خان نے نوجوانوں کی جرات کو سراہا، جبکہ آدیتی راؤ حیدری نے کہا کہ اختلافات کا حل صرف بات چیت اور اعتماد کی فضا میں ہی ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مجھے پھر ملک مخالف کہا جائے گا: دلجیت دوسانجھ نے بھی طلبہ کیلئے آواز اٹھائی
اس مہم میں آیوش شرما، روہت سراف اور پرکاش راج سمیت دیگر شخصیات بھی شامل ہو گئی ہیں۔ ان فنکاروں نے سوشل میڈیا کے ذریعے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی اور تعلیمی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کی جانب سے اپنی شکایات اور مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت بھی مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کو پیش کی گئی ہے۔
سیاسی اور سماجی مبصرین کے مطابق بالی ووڈ کی معروف شخصیات کی جانب سے کھل کر حمایت سامنے آنے سے اس احتجاج کو قومی سطح پر مزید توجہ ملی ہے۔ اگرچہ حکومتی سطح پر اس معاملے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، تاہم فنکاروں کی مشترکہ اپیل یہی ہے کہ طلبہ کے تحفظ، شفاف تحقیقات اور تعلیمی اصلاحات کو ترجیح دی جائے تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔