ملت میں دست تعاون دراز کرنے کا مزاج بھی ہے اور جذبہ بھی۔ اس ملت کے افراد میں جس کی جتنی بساط اور طاقت ہے، وہ اُتنا خرچ کرتا ہے تاکہ اُن لوگوں کی مالی مدد ہو جو غربت کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔
ملت میں دست تعاون دراز کرنے کا مزاج بھی ہے اور جذبہ بھی۔ اس ملت کے افراد میں جس کی جتنی بساط اور طاقت ہے، وہ اُتنا خرچ کرتا ہے تاکہ اُن لوگوں کی مالی مدد ہو جو غربت کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اسی مزاج اور جذبہ کا نتیجہ ہے کہ عوامی مقامات پر بالعموم اور مساجد کے سامنے بالخصوص، مانگنے والوں اور گداگروں کی اچھی خاصی بھیڑ ہر شہر اور علاقے میں دیکھی جاتی ہے۔ اس بھیڑ میں شامل لوگوں کو دینا چاہئے مگر دیتے وقت یہ بھی سوچنا چاہئے کہ دی جانے والی رقم سے لینے والے کا کتنا فائدہ ہوگا۔ کیا اُسے اتنا فائدہ ہوجائیگا کہ کوئی چھوٹا موٹا روزگار قائم کرلے اور پھر دست سوال دراز کرنے کی نوبت ہی نہ آئے؟ جی نہیں ۔ اُنہیں اتنا فائدہ ہوتا تو سائلین میں وہی چہرے سال بہ سال نظر نہ آتے جو پہلے تھے۔ خیرات و صدقات کی اس طرح تقسیم غیر پیداواری ہے۔
تعاون دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک پیداواری، دوسرا غیر پیداواری۔ اتنا دینا (یعنی زر کثیر دینا) کہ سائل اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرسکے۔ یہ زرتعاون کا پیداواری استعمال ہے۔ دوسرا ہے غیر پیداواری۔ اس میں ہر سائل کو قلیل رقم دی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ہمیشہ مانگتا ہی رہتا ہے کیونکہ اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔ اس لئے غیر پیداواری طریقے پر اُنہیں کو دیا جائے جواس حد درجہ معذور ہوں کہ چل پھر نہ سکتے ہوں اور کوئی کام یا روزگار اُن کے بس کا نہ ہو۔ اس کے برخلاف پیداواری طریقے پر اُن کو دیا جائے جو اس بات پر آمادہ ہوں کہ خاطرخواہ رقم دی گئی تو وہ خود کفیل ہونے کی راہ پر گامزن ہوں گے۔
چونکہ پیداواری طریقے پر زر تعاون، جو خیرات بھی ہوسکتی ہے، صدقہ بھی ہوسکتا ہے اور زکوٰۃ بھی، دینے کیلئے تحقیق کرنی پڑتی ہے، سائل سے بات چیت کرنی پڑتی ہے، اُس کے معاملات کو سمجھنا پڑتا ہے اور اُسے کوئی راہ سجھانی پڑتی ہے اور اتنا وقت کسی کے پاس نہیں ہوتا اس لئے ۹۵؍ فیصد سے زائد رقومات غیر پیداواری طریقے پر صرف ہو جاتی ہیں ۔ یہ ملت کا بڑا خسارہ ہے۔ ہر صاحب استطاعت کو چاہئے کہ دونوں طریقوں پر رقم صرف کرنے کیلئے تیار رہے۔ وہ معذوروں اور ایسے مفلسوں کو تو ضرور دے جو کما نہیں سکتے مگر اُن کیلئے بھی رقومات مختص کرے جو گداگری سے توبہ کرکے اپنے ہاتھوں سے کمانے پر آمادہ ہوں ۔
ہر صاحب خیریہ تسلیم کرے گا کہ ثواب کی نیت سے دیا جانے والا زر تعاون پیداواری طریقے پر استعمال ہوجو ایک طرح سے ثواب جاریہ کا باعث بن سکتا ہے مگر، جیسا کہ عرض کیا گیا، چونکہ اس میں محنت زیادہ ہے اور اتنا وقت کسی کے پاس نہیں اسلئے اس جانب توجہ دینا بھی وقت کا زیاں سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کی افادیت اتنی ہے اور یہ طریقہ فلسفۂ مواخاۃ سے اس قدر ہم آہنگ ہے کہ اسے ناقابل عمل سمجھ کر ترک نہیں کیا جاسکتا۔ تو پھر قابل عمل کیسے بنایا جائے؟ اس کیلئے ملت کےذمہ داروں کو مل بیٹھنا اور سوچنا ہوگا کہ کس طرح زر تعاون کی پیداواری تقسیم کو منظم کیا جاسکتا ہے۔ ہم کافی پُراُمید ہیں کہ اگر ملت کے ذمہ داروں نے اس جانب مخلصانہ توجہ دی تو بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور اگر ہر دو طریقو ں کے تحت پچاس پچاس فیصد رقم جمع نہ ہوتی ہو تب بھی دس بیس فیصد سے آغاز ہوسکتا ہے۔ اس کیلئے ملت کی ذہن سازی ناگزیر ہوگی مگر اسے ناقابل عمل سمجھ کر چھوڑنا ٹھیک نہیں ۔