Updated: February 21, 2026, 9:07 PM IST
| Vilnius
لتھوانیا میں ایک قدامت پسند قانون ساز نے ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر والدین کی اجازت کے بغیر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت پلیٹ فارمز کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عمر کی تصدیق لازمی بنانا ہوگی، جبکہ خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے جا سکیں گے۔
براڈکاسٹر ایل آر ٹی کے مطابق، لتھوانیا کی قانون ساز دیویا البینیٹ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ ایسا قانون متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہیں جس کے تحت ۱۶؍ سال سے کم عمر بچے والدین کی رضامندی کے بغیر سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ مجوزہ قانون کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خود اعلان کردہ معلومات پر انحصار کرنے کے بجائے قابل اعتماد اور ٹیکنالوجی پر مبنی عمر کی تصدیق کا نظام نافذ کرنا ہوگا۔ تعمیل نہ کرنے والی کمپنیوں کو انتظامی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نیوز کانفرنس میں بات کرتے ہوئے البینیٹ نے کہا کہ ’’واضح قانونی ضابطہ، نگرانی، اور حقیقی پلیٹ فارم کی ذمہ داری ضروری ہے۔ جس طرح تمباکو، شراب اور جوئے کے لیے عمر کی پابندیاں ہیں، اسی طرح ڈجیٹل بالغ ہونے کی بھی ایک متعین عمر ہونی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو آن لائن خطرات کو سمجھنے اور اپنے اعمال کی ذمہ داری لینے کے قابل ہونا چاہیے، تب ہی انہیں مکمل ڈجیٹل رسائی دی جانی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق یہ تجویز یورپ میں بچوں کی آن لائن حفاظت کے بڑھتے ہوئے مباحث کا حصہ ہے، جہاں سائبر بُلیئنگ، ڈیٹا پرائیویسی اور ذہنی صحت جیسے مسائل پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برازیل کی فٹ بالر کیتھ لین سوزا کا قبولِ اسلام اور عمرہ کی ادائیگی
کون سا ملک پابندی نافذ کر چکا ہے؟
آسٹریلیا گزشتہ سال پہلا ملک بن گیا جس نے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی متعارف کرائی۔ اس قانون کے تحت مخصوص عمر سے کم بچوں کو پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کی گئی ہے، اور کمپنیوں پر سخت ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔
کن ممالک میں پابندی زیر غور ہے؟
یورپ میں کئی ممالک ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں یا جزوی طور پر عمل درآمد کر چکے ہیں، جن میں شامل ہیں: فرانس، برطانیہ، اسپین، ڈنمارک، پرتگال اور اٹلی۔ ان ممالک میں مختلف سطحوں پر عمر کی حد مقرر کرنے، والدین کی رضامندی لازمی بنانے یا پلیٹ فارمز کو سخت تصدیقی نظام اپنانے پر بحث جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی مشمولات انسانوں کے ذہنوں میں غلط یادیں بنارہے ہیں: ماہرین کا انتباہ
ڈجیٹل ریگولیشن کا عالمی رجحان
حالیہ برسوں میں حکومتوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ اور آن لائن خطرات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ یورپی یونین پہلے ہی ڈجیٹل سروسیز ایکٹ جیسے قوانین نافذ کر چکی ہے، جن کے تحت پلیٹ فارمز کو صارفین کی حفاظت یقینی بنانا ہوگی۔ لتھوانیا کی مجوزہ قانون سازی اسی وسیع تر رجحان کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔