ہندوستان کے ساتھ امریکہ کی ڈیل، ڈیل ہے یا ڈول ہے جو امریکہ نے ہمارے کنویں میں ڈالا ہے تاکہ مسلسل پانی نکال کر کنواں خالی کردے؟
ہندوستان کے ساتھ امریکہ کی ڈیل، ڈیل ہے یا ڈول ہے جو امریکہ نے ہمارے کنویں میں ڈالا ہے تاکہ مسلسل پانی نکال کر کنواں خالی کردے؟ پھر ایسا کیوں ہے کہ ڈیل کا ڈھول بھی ٹرمپ ہی بجا رہے ہیں ۔ معاہدہ ہوتا ہے تو دونوں جانب کے لیڈران یا افسران مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعہ عوام کو باخبر کرتے ہیں کہ کیا ہوا اور اس سے دونوں ملکوں کو کتنا اور کیا فائدہ ہوگا۔ یہاں پریس کانفرنس نداد رہی اور ٹرمپ حسب عادت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ‘‘ سے بولتے رہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اب ہندوستان امریکہ کے ساتھ امریکی توانائی، امریکی زرعی اجناس اور امریکی صنعتی مصنوعات خرید کر ۵۰۰؍ بلین ڈالر کا کاروبار کریگا۔ مشہور صحافی رویش کمار نے ۵۰۰؍ بلین پر سوال اُٹھایا کہ اس کو ہندوستان روپے میں ڈھالنے کی کوشش کریں تو ۴۰؍ لاکھ کروڑ سے زیادہ کی رقم بنتی ہے جبکہ اتنا تو ہندوستان کا بجٹ بھی نہیں ہے۔ سوال اہم ہے مگر ہندو ستان میں اسے کوئی سننا نہیں چاہے گا اور امریکہ میں ٹرمپ نے کسی کی نہ سننے کی قسم کھائی ہے۔ اتنی ہماری سکت نہیں کہ لاکھ کروڑ کے حساب کو سمجھ سکیں ۔ سمجھنا چاہیں تو اس تشویش کے سبب سمجھ میں نہیں آئیگا کہ ہ معاہدہ کن شرطوں پر ہوا جو گیارہ ماہ سے دستخط کو ترس رہا تھا، جس پر ایک بار کے بعد دوسری بار اور پھر بار بار تبادلۂ خیال ہوا، جس کے سبب ہند امریکہ تعلقات میں غیر معمولی تلخی پیدا ہوئی اور جس کو حتمی شکل میں دیکھنے کیلئے صدرِ امریکہ بے چین ہی نہیں تھے بلکہ مختلف طریقوں سے دباؤ بھی ڈال رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے ہندوستانی تارکین وطن کو پیروں میں بیڑیاں ڈال کر وطن واپس بھیجا اور ۷۰؍ سے زائد مرتبہ دعویٰ کیا کہ اُنہوں نے ہند پاک جنگ رُکوائی۔
اگر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ڈیل کے بعد اب ہندوستان روس سے تیل نہیں خریدے گا بلکہ امریکہ سے تیل خریدنا شروع کریگا تو ہم اپنی حکومت سے یہ سننے کیلئے بے تاب ہیں کہ کیا یہی طے پایا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ ٹرمپ کے دباؤ کے آگے جھک جانے جیسا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ ہندوستان کے زرعی مفادات کو متاثر نہیں ہونے دیں گے مگر ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ ایگریکلچرل سیکٹر بھی اس ڈیل کا حصہ ہے تو اس معاملے میں بھی ہمیں اپنی حکومت سے سننا ہے کہ کیا یہ شرط بھی مان لی گئی؟ اگر ایسا ہے تو یہ پریشان کن ہے کہ اس سے ہندوستانی زرعی طبقے کے مفادات بہرحال مجروح ہوں گے۔ ٹرمپ نے فوری اعلان کیا کہ اب ہندوستانی مصنوعات پر ۵۰؍ فیصد نہیں بلکہ صرف ۱۸؍ فیصد ٹیرف لگایا جائیگا تو کیا اس پر ہمیں یقین کرلینا چاہئے جبکہ ٹرمپ کی عادت ہے کہ وہ کسی ایک بات پر کبھی قائم نہیں رہتے بلکہ جب اُن کے جی میں آتی ہے وہ معاہدہ توڑ دیتے ہیں اور نئے سرے سے ٹیرف کی دھمکی دینے لگتے ہیں ؟
جب ایک صدر اپنے بیان اور معاہدہ پر قائم نہ رہنے کا ایسا ریکارڈ رکھتا ہو، کیا اُس سے طویل مدتی رفاقت کی اُمید ٹھیک ہے؟ کیا اُن ملکوں (جنوبی کوریا ، برطانیہ، کوریا اور میکسیکو کے ساتھ کیا ہوا یہ یاد نہیں رکھنا چاہئے جو اُس کے حلیفوں میں سے ہیں ؟ کیا اس کی شرطوں کو مان کر معاہدہ کرلینا خوشی کا مقام ہے؟ اُمید ہے کہ ہماری حکومت اس صورتحال کی وضاحت کرے گی کیونکہ ہم ٹرمپ پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی بات اپنی حکومت سے سننا چاہتے ہیں ۔