Updated: February 03, 2026, 10:04 PM IST
| Washington
روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کئے، جس سے جانی و مالی نقصان اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات میں جلد اچھی خبر آنے کا اشارہ دیا تھا۔
پوتن اور ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کا اشارہ دینے کے باوجود، روسی افواج نے منگل (۳؍ فروری) کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف، دوسرے بڑے شہر خارکیف اور دیگر علاقوں پر حملہ کر دیا۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ یہ حملہ تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے حل کیلئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ہونے والی آئندہ سہ فریقی بات چیت سے ایک دن پہلے ہوا۔ ’رائٹرز ‘کے مطابق آدھی رات کے بعد کیف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ میزائلوں اور ڈرونز دونوں کا استعمال کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ کیف کی ایک عمارت کی بالائی منزلوں میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد حکام نے فضائی حملے کا الرٹ جاری کیا جو پانچ گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔ شہر کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو کے مطابق حملوں سے پانچ اضلاع میں نقصان ہوا۔ اس بڑے حملے میں، جو نئے سال کے بعد سب سے بڑا حملہ تھا، بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: لندن: ۹۹؍ سالہ تاریخی انڈین ریستوراں بند ہونے کے قریب،شاہی مداخلت کی اپیل
سرکاری نشریاتی ادارے سسپلنے نے بھی بتایا کہ روسی حملوں کے باعث خارکیف کے علاقے، ایزیئم اور بالاکلیا میں بجلی منقطع ہو گئی، جبکہ شمالی شہر سومی میں دو رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی تاریخ پر اختلاف کے دوران ہوئے۔ روس کا کہنا تھا کہ جنگ بندی یکم فروری کو ختم ہو گئی تھی، جبکہ یوکرین کے مطابق یہ ۳۰؍ جنوری سے ایک ہفتے تک جاری رہنی تھی۔
ٹرمپ کا’اچھی خبر‘ کا اشارہ
یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات بہت اچھے طریقے سے جاری ہیں اور جلد’اچھی خبر‘ آ سکتی ہے۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’ ’میرا خیال ہے کہ ہم یوکرین اور روس کے معاملے میں بہت اچھا کر رہے ہیں۔ پہلی بار میں یہ کہہ رہا ہوں کہ شاید جلد کوئی اچھی خبر ملے۔ ‘‘انہوں نے جنگ کو ’’بے معنی‘‘ قرار دیتے ہوئے سابق صدر جو بائیڈن کو جنگ کے آغاز کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ہر ماہ تقریباً۲۵؍ ہزار لوگ مارے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، ’’سوچیں، نوجوان اور خوبصورت بچے، ان کے والدین ہیں۔ ایک لحاظ سے یہ ہمیں متاثر نہیں کرتا، لیکن دوسرے لحاظ سے یہ۲۵؍ہزار جانیں ہیں۔ ہم وہ پیسہ خرچ نہیں کر رہے جو بائیڈن نے کیا۔ اس نے۳۵۰؍ ارب ڈالر دے دیئے۔ میں سب کو ادائیگی کرنے پر مجبور کرتا ہوں۔ ‘‘ایک اور ویڈیو میں ٹرمپ نے آٹھ جنگیں ختم کرنے کے اپنے پرانے دعوے کو دہرایا اور روس، یوکرین، ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی بات چیت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’آپ بہت سی چیزیں دیکھیں گے۔ ایران ہے، روس اور یوکرین ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ ہے۔ ہمارے پاس بہت سے معاملات چل رہے ہیں۔ ‘‘