• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیویارک: پیٹرڈنکلیج نے رینی گڈ کیلئے نظم پڑھی، آئی سی ای کے خلاف ہنگامہ بڑھ گیا

Updated: February 03, 2026, 10:04 PM IST | New York

مشہور امریکی اداکار پیٹر ڈنکلیج نے نیویارک شہر میں رینی نکول گڈ کیلئے لکھی گئی آمینڈا گورمین کی نظم پڑھی۔ رینی ایک ماں، شاعرہ اور تین بچوں کی محافظ تھیں جن کی موت نے امریکہ بھر میں احتجاج، قانونی اور سیاسی مباحث کو بھڑکا دیا ہے۔ اس واقعے نے امیگریشن پالیسیز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار اور انسانی حقوق کے بارے میں سخت سوالات قائم کیے ہیں۔

 Peter Dinklage. Photo: X
 پیٹرڈنکلیج۔ تصویر: ایکس

معروف اداکار پیٹر ڈنکلیج نے نیویارک کے پبلک تھیٹر کے باہر ایک عوامی تقریب میں معروف امریکی شاعرہ آمینڈا گورمین کی لکھی نظم ’’فار رینی نکول گڈ- کلڈ بائی آئی سی ای‘‘ (For Renée Nicole Good — Killed by ICE) پڑھی، جس کا مقصد گزشتہ ماہ منیاپولس میں رینی نیکول گڈ کو یاد رکھنا تھا۔ گورمین نے یہ نظم ۷؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو لکھی تھی۔ ۳۷؍ سالہ رینی نیکول گڈ شاعرہ اور تین بچوں کی سرپرست تھیں، جنہیں ۷؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو امریکہ کی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک وفاقی ایجنٹ نے منیاپولس میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گڈ اپنی گاڑی میں تھی اور کچھ ذرائع کے مطابق ایجنٹ اسے گاڑی سے اترنے کا حکم دے رہے تھے۔ بعد میں گولی چلنے کے مناظر اور پس منظر کے حوالے سے تنازع پیدا ہوا، جس نے امریکہ بھر میں احتجاج اور سیاسی بحث کو جنم دیا۔

ڈیڑھ صفحات پر مشتمل اس نظم میں ڈنکلیج نے رینی کو یاد کیا اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ نظم کے کچھ اہم جملے اس طرح ہیں:
“They say she is no more, that her absence roars, blood-blown like a rose, iced wheels flinched & froze. Now bear a riot of candles, dark fury of flowers, pure howling of hymns…”
خیال رہے کہ مظاہروں اور قانونی تنازعوں کے درمیان امریکی شہریت، امیگریشن پالیسی اور وفاقی ایجنسیوں کے اختیار کے بارے میں عوامی بحث زور پکڑ گئی ہے۔ کئی معاشرتی کارکنان اور قانونی ماہرین نے اس معاملے میں آئی سی ای کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ گڈ کے قتل کے بعد منیاپولس اور دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے اور لوگوں نے آئی سی ای کے خلاف آواز اٹھائی۔
پیٹر ڈنکلیج کی یہ پیشکش اس وقت سامنے آئی جب متعدد مشہور شخصیات، فنکار اور عوامی شخصیات نے اس واقعے پر اظہارِ خیال کیا۔ ڈنکلیج نے نظم کے بعد لوگوں سے یہ بھی کہا کہ حقیقی تبدیلی تبھی ممکن ہے جب عوامی غم و غصہ محبت اور امید کی روشنی سے آگے بڑھے۔ رینی نیکول گڈ کی موت نے امریکہ کی امیگریشن نظام، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک قومی بحث کو تحریک دی ہے۔ متعدد ریاستی اور وفاقی لیڈران نے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ گڈ کے خاندان نے بھی ایسے اقدامات کی حمایت کی ہے جو آئندہ ایسے واقعات کو روک سکیں۔

اصل نظم (انگریزی)
For Renée Nicole Good — Killed by ICE on January 7, 2026

They say she is no more,
That there her absence roars,
Blood-blown like a rose.
Iced wheels flinched & froze.
Now, bare riot of candles,
Dark fury of flowers,
Pure howling of hymns.

If for us she arose,
Somewhere, in the pitched deep of our grief,
Crouches our power,
The howl where we begin,
Straining upon the edge of the crooked crater
Of the worst of what we’ve been.

Change is only possible,
& all the greater,
When the labour
& bitter anger of our neighbors
Is moved by the love 
& better angels of our nature.

What they call death & void,
We know is breath & voice; 
In the end, gorgeously, 
Endures our enormity. 

You could believe departed to be the dawn
When the blank night has so long stood.
But our bright-fled angels will never be fully gone,
When they forever are so fiercely Good.


اردو (آزاد) ترجمہ 
رینی نیکول گڈ کیلئے، ۷؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو آئی سی ای کے ہاتھوں قتل ہونے پر 

کہتے ہیں کہ وہ نہیں رہی،
 کہ اس کی غیر موجودگی گونج رہی ہے،
گلاب کی طرح خون آلود،
 برفیلے پہیے پلٹ گئے اور جم گئے۔
اب موم بتیوں کا شور، 
پھولوں کا اندھیرا،
اور دعاؤں کا گونجنا 
اور ہمارے لیے، 
وہ ہمارے غم کی گہرائیوں میں کہیں ابھری۔
ہماری طاقت کو کچلتا ہے، 
چیخیں جہاں سے ہم شروع کرتے ہیں،
بد صورت گڑھے کے کنارے پر کھینچتے ہوئے
ہم جو رہے ہیں اس میں سے بدترین میں سے۔
تبدیلی تب ہی ممکن ہے، 
اور سب سے اہم 
جب پڑوسیوں کا غصہ،
محبت سے متاثر ہوتا ہے،
اور ہماری فطرت کے فرشتوں سے 
جسے موت اور باطل کہتے ہیں
ہم جانتے ہیں کہ سانس اور آواز ہے۔
آخر میں، خوبصورتی سے،
ہماری عظمت کو برداشت کرتا ہے۔
تم یہ سوچ سکتے ہو کہ 
جو جدا ہوا وہ صبح ہے
جب خالی رات اتنی لمبی ہو چکی ہے۔
لیکن ہمارے روشن پروں والے فرشتے
 کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے،
جب وہ ہمیشہ کے لیے بہترین ہوں گے 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK