انسانی تہذیب کی پوری تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ علم ہی وہ چراغ ہے جس نے انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر شعور کی روشنی تک پہنچایا۔
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 3:29 PM IST | Jasmine Shaukat | Mumbai
انسانی تہذیب کی پوری تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ علم ہی وہ چراغ ہے جس نے انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر شعور کی روشنی تک پہنچایا۔
انسانی تہذیب کی پوری تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ علم ہی وہ چراغ ہے جس نے انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر شعور کی روشنی تک پہنچایا۔ جب انسان نے حروف کو پہچانا، الفاظ کو سمجھا اور اپنے خیالات کو تحریر میں ڈھالنا سیکھا تو اس کے سامنے ایک نئی دنیا کے دروازے کھل گئے۔ خواندگی نے اسے صرف پڑھنے اور لکھنے کا ہنر نہیں دیا بلکہ اپنے حقوق و فرائض کو سمجھنے، اپنے ماحول کو جاننے اور اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی عطا کی۔
اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ہر سال ۸؍ ستمبر کو عالمی یومِ خواندگی منایا جاتا ہے۔ ۲۰۲۶ء میں اس دن کی ۶۰؍ ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ یونیسکو نے اس سال کیلئے ’’انسان، کرۂ ارض اور خوشحالی کیلئے خواندگی‘‘ کا موضوع مقرر کیا ہے۔ یہ عنوان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خواندگی صرف فرد کی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بہتر، پائیدار اور خوشحال معاشرے کی بنیاد بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسکراہٹ: خواتین کے لئے ایک انمول تحفہ
خواندگی کا مفہوم محض اتنا نہیں کہ انسان اپنا نام لکھ سکے یا کسی عبارت کو پڑھ لے۔ حقیقی خواندگی انسان کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، دلیل پرکھنے اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ ایک خواندہ فرد اپنے حقوق سے واقف ہوتا ہے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے اور معاشرہ میں ایک باشعور اور ذمہ دار شہری کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسی لئے خواندگی کو بنیادی انسانی حق اور علم و ترقی کی پہلی سیڑھی قرار دیا جاتا ہے۔
ماضی میں خواندگی کا تصور زیادہ تر کتاب، قلم اور کاغذ تک محدود تھا، مگر آج دنیا تیزی سے ڈجیٹل عہد میں داخل ہوچکی ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، آن لائن تعلیم اور مصنوعی ذہانت نے علم اور معلومات تک رسائی کے طریقے یکسر بدل دیئے ہیں۔ اب صرف پڑھنا اور لکھنا جان لینا کافی نہیں؛ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود معلومات میں درست اور غلط کیا ہے، کس خبر پر اعتماد کیا جائے، کسی مواد کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی حقیقت کیسے جانچی جائے اور اپنی ذاتی معلومات کو کس طرح محفوظ رکھا جائے۔ اسی لئے ڈجیٹل خواندگی آج کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ ڈجیٹل خواندگی کا مطلب صرف موبائل یا کمپیوٹر چلانا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کو سمجھداری، ذمہ داری اور مثبت مقصد کیلئے استعمال کرنا بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایک دروازہ جو اس کے اپنے نام سے کھلتا ہو
والدین کا کردار بھی اس سلسلے میں نہایت اہم ہے۔ بچوں کو صرف موبائل اور انٹرنیٹ سے دور رکھنے کے بجائے انہیں اس کے مثبت اور تعمیری استعمال کی تربیت دینا زیادہ مؤثر راستہ ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو تعلیم، تحقیق، تخلیقی سرگرمیوں اور نئی مہارتیں سیکھنے کیلئے استعمال کیا جائے تو یہی ٹیکنالوجی ترقی کے دروازے کھول سکتی ہے۔
دنیا نے خواندگی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن منزل ابھی دور ہے۔ لاکھوں بچے اور بالغ افراد آج بھی بنیادی خواندگی کی سہولتوں سے محروم ہیں۔ یہ صورتحال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خواندگی کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ہمیں اس سفر کو ہر گاؤں، ہر بستی، ہر گھر اور ہر فرد تک پہنچانا ہوگا۔
عالمی یوم ِ خواندگی کے موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ ہم صرف خواندگی کی شرح بڑھانے پر اکتفا نہیں کرینگے بلکہ ایسی تعلیم کے فروغ کیلئے بھی کوشاں رہینگے جو انسان کو باشعور، باکردار، ذمہ دار اور بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنائے۔ حروف سے شروع ہونے والا سفر شعور تک پہنچے، شعور کردار میں ڈھلے اور کردار سے ایک روشن، پُرامن، تعلیم یافتہ اور خوشحال معاشرہ تشکیل پائے، یہی عالمی یوم ِ خواندگی کا حقیقی پیغام ہے۔
(مضمون نگار رابعہ گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج بھیونڈی، کی سپروائزر ہیں)