Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشکل حالات اور بہادر ممتا

Updated: June 03, 2026, 12:25 PM IST | Inquilab News Network | Kolkata

ترنمول کانگریس کی بانی اور ملک کی ممتاز سیاستداں ممتا بنرجی کے حامی تو مانتے ہی ہیں، مخالفین بھی مانتے ہوں گے کہ اس خاتون میں بلا کی ہمت، جرأت اور جدوجہد کی عادت ہے۔

Mamata Banerjee.Photo:INN
ممتا بنرجی ۔ تصویر:آئی این این
ترنمول کانگریس کی بانی اور ملک کی ممتاز سیاستداں ممتا بنرجی کے حامی تو مانتے ہی ہیں، مخالفین بھی مانتے ہوں گے کہ اس خاتون میں بلا کی ہمت، جرأت اور جدوجہد کی عادت ہے۔ کل انہوں نے کولکاتا کے تاریخی رانی راسمونی ایونیو پر جو دھرنا دیا ہے، وہ اُن کی عمر کے کسی شخص کیلئے آسان نہیں ہے بالخصوص ایسے وقت میں جب یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ریاست کا ماحول اُن کے خلاف ہے، عوام میں غصہ ہے اور اسی لئے اُن کی پارٹی کے لیڈروں (ابھیشیک بنرجی اور کلیان بنرجی) پر حملے ہوئے ہیں نیز اس سے قبل اُن کی پارٹی کے دفاتر پر بھی غصہ اُتارا گیا ہے۔ ممتا بنرجی نے مبینہ مخالف سیاسی ماحول کی پروا کئے بغیر دھرنا دیا تاکہ ریاستی حکومت کو یہ پیغام دے سکیں کہ اُنہیں ڈرانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی، وہ لڑتی آئی ہیں اور اگر اُنہیں ستایا گیا یا پریشان کیا گیا تو وہ آئندہ بھی ایسا کریں گی،گھبرا کر یا ڈر کر گھر بیٹھنا اُن کا طریقہ نہیں ہے۔ 
ستم طریفی دیکھئے کہ اُن کے خلاف ماحول بنانے والی پارٹی نے ایک ایسے لیڈر کو وزیر اعلیٰ بنایا ہے جو ۲۰۲۱ء کے اسمبلی الیکشن سے پہلے تک ممتا بنرجی ہی کی پارٹی کا رُکن تھا اور صرف رُکن نہیں تھا بلکہ ممتا کا معتمد ِخاص ہوا کرتا تھا۔ شوبھندو ادھیکاری ممتا کی بے خوفی سے اچھی طرح واقف ہیں اس کے باوجود اگر وہ انہیں روکنے کی کوشش کررہے ہیں تو گویا ممتا کو اپنی سیاست دوبارہ پٹری پر لانے کا سنہرا موقع دے رہے ہیں مگر اس کوشش میں شاید وہ بھول رہے ہیں کہ استاد اپنے پہلوان شاگرد کو دس داؤ سکھاتا ہے، گیارہواں نہیں سکھاتا اسلئے کہ اگر شاگرد ہی مدمقابل آجائے تو وہ گیارہویں داؤ سے اُسے چت کردے۔ شوبھندو کو متنبہ رہنا ہوگا کہ ممتا بنرجی گیارہواں داؤ آزما سکتی ہیں۔ 
 
 
مغربی بنگال کے حالات سے ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی ممتا بنرجی کو دوبارہ سیاسی طاقت حاصل کرنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کریگی۔ وہ انہیں حاشئے پر لانا چاہے گی جس کی ابتداء ہوچکی ہے۔ ترنمول لیڈروں پر ہونے والے حملوں کے خلاف حکمت عملی تیار کرنے کیلئے منعقدہ میٹنگ میں ۸۰؍ میں سے صرف ۲۰؍ اراکین اسمبلی کا شریک ہونا خلاف توقع واقعہ ہے۔ ترنمول نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ اراکین اسمبلی جگہ جگہ مظاہروں میں مصروف ہیں اسلئے چاہتے تھے کہ میٹنگ ملتوی ہو مگر چونکہ ملتوی نہیں کی گئی اس لئے وہ نہیں آئے۔ دوسری طرف میڈیا یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ انتخابی شکست کے بعد ممتا کی اپیل میں دم نہیں رہ گیا ہے اس لئے لوگ نہیں آئے۔ ہمارے لئے دونوں ہی اسباب ناقابل قبول ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ممتا کیلئے پارٹی کو متحد رکھنا بڑا چیلنج ہے اسلئے میٹنگ سے غیر حاضر رہنے والوں سے باز پرس ہونی چاہئے۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کون کس سے مل رہا ہے ورنہ بھروسہ نہیں کہ کب مہاراشٹر جیسی ریزارٹ پالیٹکس شروع کردی جائے۔ مغربی بنگال میں اس کی ضرورت نہیں ہے مگر ہوس کا پیٹ کب بھرتا ہے!
 
 
اس دوران ایک خوشگوار اشارہ یہ ملا کہ اپوزیشن کی دیگر پارٹیوں نے بھی ٹی ایم سی کے اراکین پارلیمان اور دفاتر پر ہوئے حملوں کی مذمت کی۔ اس سے اُمید بندھتی ہے کہ بعد از خرابیٔ بسیار اپوزیشن کی پارٹیاں ایک دوسرے کو سمجھنے اور قریب آنے کی ضرورت محسوس کررہی ہیں جبکہ اس سے پہلے کے بے شمار مواقع انہوں نے گنوا دیئے۔ اب بھی جاگ جائیں تو سویرا ہے۔ آئندہ دنوں میں (۶؍ جون کو) انڈیا اتحاد کی میٹنگ بھی ہونی ہے جو کافی عرصے بعد منعقد ہوگی اسلئے اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا حالانکہ اب بھی ہمیں اتحاد کا وہ جذبہ دکھائی نہیں دیتا جسے اس کی روح ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK