Inquilab Logo Happiest Places to Work

سلنڈر کی قلت ختم ہوئی تب بھی مہنگائی کا کیا؟

Updated: March 17, 2026, 10:55 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

کورونا کی وباء کے دور میں ملک کے نظام ِ صحت کی خستہ حالی ہر خاص و عام پر عیاں ہوگئی تھی۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم جو وشو گرو بننے کا دعویٰ کرتے ہیں اندر سے اتنے کمزور ثابت ہونگے۔

Gas Shortage.Photo:INN
گیس کی قلت۔ تصویر:آئی این این
کورونا کی وباء کے دور میں ملک کے نظام ِ صحت کی خستہ حالی ہر خاص و عام پر عیاں ہوگئی تھی۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم جو وشو گرو بننے کا دعویٰ کرتے ہیں  اندر سے اتنے کمزور ثابت ہونگے۔ اس پر بھی جب جاگے تب سویرا کے مصداق ہم متحرک ہوگئے ہوتے اور اپنے نظام ِ صحت کو ٹھیک کرنے کی کوشش تیز کردیتے تو اب تک خستہ حالی نہ صرف یہ کہ دور ہوچکی ہوتی بلکہ ہم اُمور ِ صحت میں دوسرے ملکوں پر سبقت حاصل کرچکے ہوتے مگر حالات کے آئینہ دکھانے کے باوجود ہم میں تبدیلی نہیں آئی اور آج بھی یہ نظام اُتنا ہی خستہ حال ہے جتنا کہ تھا۔ اب ایران جنگ کی وجہ سے ایل پی جی کا بحران شروع ہوا تو حالات نے ایک بار پھر آئینہ دکھایا۔ اس آئینہ میں اپنا عکس دیکھ کر ہمیں فکرمند ہونا چاہئے۔ بحیثیت ملک کیا ہم میں حالات کے مقابلے کی اتنی بھی طاقت نہیں کہ ہمارے پاس کم از کم ایک ماہ کا ذخیرہ ہوتا، بحرانی کیفیت سامنے نہ آتی اور عام آدمی ہلکان نہ ہوتا؟
دیکھتے ہی دیکھتے ایل پی جی کا بحران اتنا شدید ہوجائیگا اس کے بارے میں کسی نے سوچا نہیں تھا۔ متعلقہ وزارت نے یقین دلایا کہ بحران نہیں ہے اور اگر ایسا لگتا ہے کہ ہے تو اس کی وجہ صارفین کا گھبراہٹ میں زیادہ سے زیادہ ذخیرہ کرنے کا رجحان ہے جس کی وجہ سے قلت دکھائی دے رہی ہے۔ مگر زمینی حالات اس بیان کی توثیق نہیں کرتے۔ کئی شہروں میں ایل پی جی کیلئے طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ کیا یہ محض گھبراہٹ کا نتیجہ تھا؟ ’’لوکل سرکلس‘‘ نامی ایک ادارہ نے محدود سطح پر جو سروے کیا ہے اُس سے نہ صرف یہ کہ مسئلہ کی توثیق ہوتی ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ملک میں کتنی جلدی کالابازاری شروع ہوجاتی ہے۔
 
 
سروے کے مطابق بہت سے لوگوں کو غیر قانونی طور پر سلنڈر حاصل کرنا پڑا جس کیلئے اُنہوں نے زائد رقم ادا کی۔ کسی نے ۱۰۰؍ روپے زائد ادا دیئے تو کسی نے ۳۰۰؍ تا ۵۰۰؍ روپے۔ڈیکن ہیرالڈ کی رپورٹ یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض صارفین نے ۲۸۰۰؍ روپے زائد ادا کئے۔ کیا حکام کو کالا بازاری کا اندیشہ نہیں ہونا چاہئے تھا اور کیا اُنہیں صورت حال بگڑنے سے پہلے ہی ضروری اقدام نہیں کرنا چاہئے تھا؟ صاف محسوس ہوتا ہے کہ جو حالات پیدا ہوئے وہ ہماری ہی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔
 
مذکورہ سروے سے یہ عقدہ بھی کھلا کہ بہت سے لوگ سلنڈر ملنے کی مدت میں اضافے کی وجہ سے فکرمند ہوئے اور کیوں نہ ہوتے کہ جب گھر کا چولہا جلنے کا مسئلہ پیدا ہو تو کون گھبراہٹ میں مبتلا نہیں ہوگا؟ حالانکہ سروے میں ۴۳؍ فیصد لوگوں نے کہا کہ اُنہیں سلنڈر حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی مگر ۴۳؍ فیصد کا معنی ۱۰۰؍ فیصد نہیں ہوتا۔ ۲۹؍ فیصد نے ڈیلر کی شکایت کی جس نے اُنہیں دوٹوک کہہ دیا تھا کہ سلنڈر ملنے میں تاخیر ہوگی یا پھر یہ اطلاع دی تھی کہ دستیاب نہیں ہے۔ایندھن کے سلسلے میں ایک ایسے ملک کو کئی گنا حساس ہونا چاہئے اور الرٹ رہنا چاہئے جو لگ بھگ ۸۵؍ فیصد ایندھن کیلئے بیرونی درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ابھی تو صرف ایل پی جی کا مسئلہ پیدا ہوا ہے اگر حالات ٹھیک نہیں ہوئے یا حالات سے نمٹنے کی ہماری تیاری ناقص ہی رہی تو آنے والے دنوں میں خدانخواستہ پیٹرول اور ڈیزل بھی رُلائیں گے۔ عام آدمی کی نیند تو یہ سوچ کر بھی اُچاٹ ہے کہ ان حالات کا اثر ہوگا اور عنقریب مہنگائی بڑھ جائیگی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK