جن بچوں کا اسکول میں پہلی مرتبہ نام لکھایا جائیگا، اُن کے داخلے کیلئے فارم کی تقسیم یا تو شروع ہوچکی ہے یا عنقریب شروع ہوگی۔ اس پہلے مرحلے کی صورت حال کا جائز ہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نظام ِ تعلیم نے حصول تعلیم کو کس قدر مشکل بنا دیا ہے اور والدین کس طرح اپنے بچوں کے ’’بہتر مستقبل‘‘ کیلئے اپنا اور اُن کا حال خراب کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔
جن بچوں کا اسکول میں پہلی مرتبہ نام لکھایا جائیگا، اُن کے داخلے کیلئے فارم کی تقسیم یا تو شروع ہوچکی ہے یا عنقریب شروع ہوگی۔ اس پہلے مرحلے کی صورت حال کا جائز ہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نظام ِ تعلیم نے حصول تعلیم کو کس قدر مشکل بنا دیا ہے اور والدین کس طرح اپنے بچوں کے ’’بہتر مستقبل‘‘ کیلئے اپنا اور اُن کا حال خراب کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے انٹرویو اور پھر اُن کے والدین کے انٹرویو کا قصہ پرانا ہوچکا ہے۔ اسے نہ تو کسی نے روکا نہ ہی اس طریق کار کے خلاف کوئی قدم اُٹھانا ضروری سمجھا۔ مزاحمت نہ ہونے سے یہ سلسلہ اب مستحکم ہوچکا ہے۔ یہ اداروں کا قصور ہے جو تعلیم کیلئے غیر تعلیمی اور غیر منطقی طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں مگر اُن والدین کو آپ کیا کہیں گے جو مفروضات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو کچھ کررہے ہیں وہی اُن کے بچوں کے حق میں بہتر ہے۔
مفروضات کچھ اس قسم کے ہیں : انگریزی میڈیم میں اچھی تعلیم ہوتی ہے، جہاں فیس زیادہ لی جاتی ہے وہاں کا معیار ِ تدریس بلند ہوتا ہے اور میونسپل سے اچھی پڑھائی پرائیویٹ میں ہوتی ہے (خواہ والدین خود میونسپل کے پڑھے ہوئے ہوں اور جس تعلیم کو وہ ناقص سمجھ رہے ہیں اُسی کے ذریعہ ترقی کی ہو)۔ ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ آج کل کا ماحول مختلف ہے اور اگر بچہ نئے زمانے کے طور طریقے نہیں سیکھے گا جو انگریزی اسکولوں میں بہت آسانی سے سمجھ میں آجاتے ہیں ، تو لوگ اُسے شرمیلا، اپنے آپ میں رہنے والا یا خود اعتمادی سے محروم قرار دینگے۔
ایسے مفروضات کی وجہ سے وہ والدین جو اپنے بچے کی مہنگی فیس ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، اُسے مہنگے اسکول ہی میں لے جاتے ہیں یہ سوچ کر کہ ڈبل محنت یا کسی توڑ جوڑ کے ذریعہ زیادہ پیسہ کما لیں گے مگر بچے کو مہنگے اسکول ہی میں داخلہ دلائینگے۔ مفروضـات کی بنیاد پر کئے گئے ایسے فیصلوں پر حیرت ہوتی ہے۔ یہ کیوں نہیں سمجھا جاتا کہ جن اسکولوں کو غیر معیاری تصور کیا جاتا ہے وہاں معیاری اساتذہ ہوسکتے ہیں اور جن کو معیاری تصور کیا جاتا ہے وہاں غیر معیاری اساتذہ ہوسکتے ہیں ؟ اسکول کے بارے میں فیصلہ وہاں کے اساتذہ اور ڈسپلن کے پیش نظر کیا جانا چاہئے نہ کہ عمارت دیکھ کر، میڈیم (انگریزی) دیکھ کر، مہنگی فیس دیکھ کر یا پکنک، برتھ ڈے سلیبریشن اور اینوئل ڈے کی رنگا رنگی کے بارے میں سن کر۔ واضح رہے کہ ہم، ہر مہنگے اسکول کو بُرا سمجھنے کے خلاف ہیں ، اسی طرح ہر ’’سستے‘‘ اسکول کو حقارت سے دیکھنے کے بھی خلاف ہیں اور چاہتے ہیں کہ والدین مفروضات کے بجائے حقائق کو اپنے فیصلوں کی بنیاد بنائیں ۔ بعض اوقات مفروضات کی بنیاد پر کئے گئے فیصلے نقصان کا باعث بنتے ہیں ۔ مثلاً مہنگا اسکول گھر سے دور ہے۔ اس کیلئے بچے کو روزانہ ساتھ لے جانا اور ساتھ لانا پڑے گا یا اسکول بس کی زائد فیس ادا کرنی ہوگی اور ٹریفک کی دشواری سے نمٹنا ہوگا۔ وقت اور توانائی الگ ضائع ہوگی۔ اسکے برخلاف وہ اسکول جس کو سستا یعنی غیر معیاری تصور کیا جارہا ہے اس میں داخلہ دلوانے سے بچے کو لانے لے جانے، بس کی فیس ادا کرنے اور زائد وقت نیز توانائی خرچ کرنے سے بچا جاسکتا ہے۔ مگر عام مشاہدہ ہے کہ اکثر والدین دانشمندانہ فیصلے کے بجائے جذباتی فیصلے کرتے ہیں ۔ اسکول کو سستا سمجھ کر نظر انداز کرنے سے بہتر ہے کہ اُس پر اور وہاں کے اساتذہ پر بھروسہ کیا جائے، یہ بھروسہ اُن میں احساس ذمہ داری پیداکریگا۔