جرمنی کے معروف ادیب ای ٹی اے ہوفمان کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی سینڈ مین ‘‘ The Sandman کا اردو ترجمہ۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 5:52 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
جرمنی کے معروف ادیب ای ٹی اے ہوفمان کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی سینڈ مین ‘‘ The Sandman کا اردو ترجمہ۔
ناتھانیل نے اپنے دوست لوثار کو خط لکھا:
’’کیا میں تمہیں وہ خوفناک واقعہ بتاؤں جو میرے بچپن سے جڑا ہے؟ وہ ایسا سایہ ہے جو آج بھی میری روح پر منڈلاتا ہے۔ مَیں خود کو جتنا بھی سمجھانے کی کوشش کروں، وہ یادیں پیچھے پیچھے چلی آتی ہیں، جیسے کوئی اندھیرا جو روشنی میں بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑتا۔‘‘
یہ سطریں لکھتے ہوئے ناتھانیل کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ سیاہی کئی جگہ کاغذ پر پھیل گئی تھی، جیسے الفاظ بھی اس کے قابو میں نہ ہوں۔ وہ جانتا تھا کہ یہ محض ایک خط نہیں بلکہ اس کے اندر چھپے زخموں کا اعتراف ہے۔
ناتھانیل کے بچپن میں ایک نام تھا جسے سن کر ہی اس کا دل کانپ جاتا تھا۔ وہ نام تھا ’’ سینڈ مین۔‘‘ یہ نام اس کیلئے کسی افسانوی مخلوق کا نام نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی حقیقت تھی جو نیند اور جاگنے کے درمیان، خواب اور حقیقت کے بیچ کہیں بسی ہوئی تھی۔ نرسیں بچوں کو سلانے کیلئے کہتی تھیں: ’’چپ ہو جاؤ، ورنہ سینڈ مین آجائے گا!‘‘ دوسرے بچے ہنستے تھے، کمبل اوڑھ کر آنکھیں بند کر لیتے تھے، مگر ناتھانیل کیلئے یہ جملہ موت کے اعلان جیسا تھا۔ بچوں کے ذہن میں وہ ایک خیالی کردار تھا مگر ناتھانیل کیلئے وہ محض کہانی نہ تھا۔ وہ ایک خوف تھا۔ ایک زندہ حقیقت۔
ناتھانیل نے بچپن میں اپنی ماں سے بارہا پوچھا: ’’یہ سینڈ مین کون ہے؟‘‘ہر بار سوال کرتے وقت اس کی آواز میں امید ہوتی تھی کہ شاید ماں اسے کسی محفوظ سچ سے نواز دے۔ ماں ہنس کر کہتی:’’کوئی نہیں، بس کہانی ہے۔‘‘ وہ ہنسی، جو دوسرے بچوں کو تسلی دیتی، ناتھانیل کیلئے کھوکھلی تھی۔ مگر ناتھانیل جانتا تھا کہ یہ سچ نہیں۔ کیونکہ کچھ خوف صرف کہانی نہیں ہوتے، وہ انسان کے اندر پلتے ہیں۔ ہر رات جب اس کے والد لائبریری میں کسی ’’مہمان‘‘ کے آنے کا انتظار کرتے، فضا بدل جاتی۔ دروازے بند ہو جاتے۔ ماں بچوں کو جلدی سلا دیتی۔ اور پھر، قدموں کی آہٹ۔وہ قدم، جو لکڑی کے فرش پر پڑتے تو یوں لگتا جیسے دل پر چل رہے ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ماہی گیر اور اس کی روح
ایک رات ناتھانیل چھپ کر جاگتا رہا۔ وہ دبے قدموں لائبریری کے دروازے تک پہنچا، اور جھانکا۔ اندر ایک آدمی بیٹھا تھا۔ لمبا، بدصورت، موٹے ہونٹ، چمکتی آنکھیں ، ایسی آنکھیں جو انسان کو گھور کر اس کی روح میں اتر جائیں۔ اس کے چہرے پر رحم کا کوئی نشان نہ تھا۔ اس کا نام تھا کوپیلیئس۔وہ آنکھیں محض دیکھ نہیں رہی تھیں، وہ تول رہی تھیں، ناپ رہی تھیں، جیسے کسی شے کی قیمت لگائی جا رہی ہو۔
جیسے ہی ناتھانیل نے اس کا چہرہ دیکھا، اس کا دل خوف سے چیخ اٹھا: ’’یہی ہے! یہی سینڈ مین ہے!‘‘
اس لمحے اس کے بچپن کا ہر خوف ایک شکل اختیار کر چکا تھا۔کوپیلیئس کی آواز بھاری اور سخت تھی۔ وہ ناتھانیل کے والد کے ساتھ عجیب و غریب تجربات کرتا، آگ، دھات اور نامعلوم چیزوں سے کھیلتا۔ یہ سب کچھ بچے کیلئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔ وہ شعلے، وہ دھات کی آوازیں، جیسے کسی ممنوع علم کی رسم ادا کی جا رہی ہو۔ اسی دوران کوپیلیئس کی نظر ناتھانیل پر پڑ گئی۔
’’آہا! ایک اور ننھی آنکھ!‘‘وہ قہقہہ لگا کر بولا۔
یہ قہقہہ ناتھانیل کی سماعت میں ہمیشہ کیلئے قید ہو گیا۔ ناتھانیل کو ایسا لگا جیسے اس کی آنکھیں ابھی نوچ لی جائیں گی۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ وہ ایک دھند ہے۔
ایک سفید، بے شکل دھند، جس میں وقت بھی تحلیل ہو گیا تھا۔ صرف اتنا یاد ہے کہ چیخیں تھیں، درد تھا، اور ایک ایسا خوف جو زندگی بھر کیلئےاس کے اندر بیٹھ گیا۔یہ وہ لمحہ تھا جب خوف نے یادداشت کی شکل اختیار کی۔
کچھ عرصے بعد، ناتھانیل کے والد ایک پراسرار حادثے میں فوت ہوگئے۔اور کوپیلیئس غائب ہو گیا۔ مگر ناتھانیل کے دل سے خوف نہیں گیا۔موت نے باپ کو چھین لیا، مگر خوف کو چھوڑ گئی۔
برسوں بعد جب ناتھانیل طالب علم بن چکا تھا، ایک دن دروازے پر دستک ہوئی۔ سامنے ایک شخص کھڑا تھا ،عینک پہنے، اجنبی مسکراہٹ، وہی سرد آنکھیں۔ وقت بدل چکا تھا، مگر آنکھیں نہیں۔
اس نے اپنا نام بتایا:کوپیولا ، عینک بیچنے والا۔
نام بدلا تھا، مگر احساس نہیں۔
مگر ناتھانیل کیلئے وہ نام کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ چہرہ کافی تھا۔ خوف واپس آ چکا تھا۔ خوف کبھی مرتا نہیں، بس سو جاتا ہے۔ ناتھانیل نے اپنا خط یہیں ختم کیا تھا، مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: شہزادی اور گوبلن
کلارا نے یہ خط پڑھا تو اس کی پیشانی پر ہلکی سی شکن آ گئی۔ وہ ناتھانیل سے محبت کرتی تھی، مگر وہ اس کے ذہن کے اندھیروں سے خائف رہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ محبت کبھی کبھی عقل سے لڑ پڑتی ہے۔
اس نے لوثار کے ساتھ مل کر جواب لکھا ، ایک ایسا جواب جو عقل، توازن اور روشنی سے بھرا ہوا تھا۔ یہ روشنی، جو ناتھانیل کو چبھتی تھی۔کلارا نے لکھا:
’’میرے عزیز ناتھانیل،
تم جس سینڈ مین کو اپنی زندگی کا سایہ سمجھ بیٹھے ہو، وہ دراصل تمہارے بچپن کا خوف ہے، جو وقت کے ساتھ ایک دیو بن گیا ہے۔ کوپیلیئس اور کوپیولا ایک ہی شخص نہیں ہو سکتے۔ تم اپنے زخموں کو حقیقت کا لباس پہنا رہے ہو۔ اندھیرے کو طاقت مت بخشو ، وہ خود بخود مٹ جاتا ہے۔‘‘ یہ الفاظ عقل کے تھے، مگر دل کے نہیں۔
یہ الفاظ ناتھانیل کیلئے تسلی بخش نہیں تھے۔ وہ غصے سے بھر گیا۔ کیونکہ کچھ درد منطق سے نہیں مانتے۔ اسے لگا جیسے کلارا اس کے درد کو ایک وہم سمجھ کر مسترد کر رہی ہو۔ جیسے اس کے خوف کی توہین کی گئی ہو۔ اور خوف کی توہین، انسان کی توہین بن جاتی ہے۔
اس نے جواب میں لکھا:
’’تم نہیں سمجھ سکتیں، کلارا۔ کچھ سائے ایسے ہوتے ہیں جو روشنی میں بھی نہیں مٹتے۔ جو چیز میری روح کو نوچ چکی ہو، وہ وہم نہیں ہو سکتی۔‘‘
یہ جملے محبت کی قبر پر رکھے گئے پتھر تھے۔
یہاں سے ناتھانیل اور کلارا کے درمیان ایک خاموش دراڑ پڑ گئی۔ انہی دنوں ناتھانیل کی زندگی میں ایک نئے وجود نے داخلہ لیا۔ یہ وجود نہ سوال کرتا تھا، نہ انکار۔ پروفیسر اسپا لانزانی کے گھر کے سامنے والی کھڑکی میں ناتھانیل نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ ایک لڑکی تھی۔ بے حد حسین۔ اس کی آنکھیں گہری اور بے حرکت تھیں جیسے خواب دیکھ رہی ہوں۔وہ آنکھیں جو دیکھتی کم، جذب زیادہ کرتی تھیں۔وہ ہنستی تھی نہ بولتی تھی۔ مگر ناتھانیل کیلئے یہی خاموشی سب سے دلکش تھی۔کیونکہ خاموشی میں کوئی سوال نہیں ہوتا۔
اس نے کوپیولا سے خریدی ہوئی عینک لگائی، اور اولمپیا کو دیکھا۔ اب وہ اسے پہلے سے زیادہ خوبصورت لگی۔ زیادہ زندہ۔ زیادہ مکمل۔ عینک نے حقیقت نہیں بدلی، نظر بدلی تھی۔ ناتھانیل اس پر فریفتہ ہو گیا۔ وہ اس سے باتیں کرتا، اپنے دل کے خوف، شاعری، دکھ اور جنون اس کے سامنے انڈیل دیتا۔
اور اولمپیا سنتی رہتی۔اور اولمپیا صرف سر ہلاتی۔ خاموش تائید، سب سے خطرناک تائید۔ناتھانیل نے اسے سمجھ لیا۔ یا یوں کہئے کہ اسے لگا کہ وہ اسے سمجھ گئی ہے۔اصل میں وہ خود کو سن رہا تھا۔ لیکن جب کلارا نے اسے دیکھا تو چونک گئی۔ کہنے لگی، ’’یہ محبت نہیں، ناتھانیل! یہ تمہارا عکس ہے ، ایک خاموش آئینہ۔‘‘
آئینہ، جو صرف وہی دکھاتا ہے جو اس کے سامنے ہو۔ ناتھانیل نے اس پر چیخنا شروع کر دیا۔
’’تم حسد کرتی ہو! تمہیں روحانی چیزوں کی سمجھ ہی نہیں ہے!‘‘ یہ چیخ محبت کی موت کا اعلان تھی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: پُراسرار ملکہ، پُر اسرار دُنیا
ایک دن ناتھانیل پروفیسر کے گھر پہنچا۔ اندر شور برپا تھا۔ ہر طرف چیخیں۔ دھات کی آوازیں۔ ٹوٹ پھوٹ کی آوازیں۔ یہ وہی آوازیں تھیں جو اس نے بچپن میں سنی تھیں۔ دروازہ کھلا ، اور جو اس نے دیکھا، اس کی روح بکھر گئی۔ اولمپیا فرش پر پڑی تھی۔ ٹکڑوں میں۔ اس کی آنکھیں نوچی جا رہی تھیں۔ محبت کا جسم بے جان تھا۔ کوپیولا اور اسپا لانزانی لڑ رہے تھے ،’’آنکھیں میری ہیں!‘‘ ’’نہیں! وہ میری ہیں!‘‘
آنکھیں، پھر آنکھیں۔ آنکھیں... وہی آنکھیں... سینڈ مین... کوپیلیئس...کوپیولا... سب ایک ہو گئے۔
خوف نے اپنا اصل چہرہ دکھا دیا۔
ناتھانیل چیخ اٹھا۔ اس کے دماغ نے جواب دے دیا۔ یہ چیخ عقل کا آخری جنازہ تھی۔ وہ بیک وقت ہنسنے لگا، رونے لگا، کانپنے لگا۔ جنون نے اسے اپنا لیا۔ اس کی حالت اس قدر غیر ہوگئی کہ اسے پاگل خانے بھیج دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: آفتاب کے مشرق میں، ماہتاب کے مغرب میں
کئی مہینوں بعد ناتھانیل بہتر ہوا۔ مگر کلارا نے اس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔محبت کبھی کبھی قبرستان تک ساتھ دیتی ہے۔ ایک دن وہ دونوں ایک مینار پر کھڑے تھے۔ ہوا میں خنکی تھی اور آسمان صاف تھا۔ہر چیز پُر سکون تھی، حد سے زیادہ پرسکون۔ اچانک ناتھانیل نے جیب سے وہی عینک نکالی۔ پھر اس نے نیچے دیکھا۔ اور حقیقت پھر بدل گئی۔
اور پھر...وہی آواز...وہی قہقہہ...
’’خوبصورت آنکھیں! خوبصورت آنکھیں!‘‘
سینڈ مین واپس آ چکا تھا۔
ناتھانیل پاگل ہو گیا۔ وہ کلارا کو مینار سے نیچے پھینکنے کیلئے لپکا مگر لوثار نے اسے بچا لیا۔
لیکن ناتھانیل چیختا ہوا مینار سے کود گیا۔خوف نے اپنی آخری قیمت وصول کی۔ جب اس کا جسم نیچے کی طرف گرا تو اس کے ذہن میں زندگی کے تمام مناظر ایک ہی لمحے میں اکٹھے ہو گئے۔ بچپن کا اندھیرا، ماں کی بے بسی، باپ کی خاموشی، کوپیلیئس کی ہنسی، اولمپیا کی بے جان آنکھیں ، سب ایک دھندلے دائرے میں گھومنے لگے۔ اس لمحے ناتھانیل کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ سینڈ مین کوئی باہر کی مخلوق نہیں تھا بلکہ وہ خوف تھا جو اس نے خود پال لیا تھا، جسے اس نے اپنے دکھ، تنہائی اور جنون سے غذا دی تھی مگر یہ ادراک بہت دیر سے آیا تھا۔ روشنی نظر تو آئی لیکن اسے پکڑ نہ سکا۔ سب کچھ ختم ہو گیا۔
کچھ عرصے بعد کلارا کی زندگی میں بھی سکون لوٹ آیا۔ وہ خوش تھی۔ سکون، جو یادوں کے ساتھ رہتا ہے۔مگر کہیںدور ... کسی اندھیرے میں... سینڈ مین مسکرا رہا تھا۔کیونکہ کچھ خوف کبھی نہیں مرتے۔