Updated: July 11, 2026, 9:40 AM IST
|
Agency
| Southapton
آج انگلینڈ کیخلاف آخری ٹی۔۲۰؍میچ کھیلا جائیگا۔میزبان ملک ٹیم انڈیا کا مکمل صفایا کرنے کی کوشش کریگا۔
ہندوستان کے کپتان شریاس ایر نے گزشتہ میچ میں ہاف سنچری بنائی تھی۔ تصویر:آئی این این
برسٹل میں چوتھا ٹی۔۲۰؍ جیت کر سیریز اپنے نام کرنے کے بعد انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے اپنی ٹیم کی کارکردگی کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف وکٹوں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہی ان کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ رہا۔ دوسری جانب ہندوستان پانچویں اور آخری ٹی۲۰؍ میں مسلسل چھٹی شکست سے بچنے اور کلین سویپ ٹالنے کے ارادے سے میدان میں اترے گا۔
چند ماہ قبل اپنے ہی ملک میں ٹی۔۲۰؍ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم انڈیا اس دورے میں مختلف حالات سے ہم آہنگ ہونے میں ناکام رہی ہے۔ سست وکٹوں، اضافی باؤنس اور بڑی اسکوائر باؤنڈریز نے ہندوستانی بلے بازوں کی تکنیکی خامیوں کو نمایاں کر دیا ہے۔سیریز کے آغاز میں جوفرا آرچر نے کہا تھا کہ آئی پی ایل کی ’آسان‘ پچوں کے بعد وہ دوبارہ ’حقیقی‘ کرکٹ کھیل رہے ہیں اور ہندوستانی بلے بازی اس تبصرے کو غلط ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ہندوستان کے اسسٹنٹ کوچ ریان ٹین ڈوشکے نے کہاکہ ’’ہم نے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے پر بہت بات کی ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس پر عملی طور پر عمل کیا جائے۔ ۲؍سال بعد آسٹریلیا میں ہونے والا ٹی۔۲۰؍ورلڈ کپ ہمارا اصل ہدف ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا ہم صرف ہندوستان میں ۲۵۰؍رن بنانے والی ٹیم رہنا چاہتے ہیں یا دنیا بھر کے مختلف حالات میں کامیاب ہونے والی ٹیم بننا چاہتے ہیں۔‘‘
ہندوستان اس دورے میں پہلے ہی آئرلینڈ کے خلاف اپنی پہلی بین الاقوامی سیریز اور ۲۰۱۹ء کے بعد انگلینڈ کے خلاف پہلی ۲؍طرفہ ٹی۔۲۰؍ سیریز ہار چکا ہے اس لئے ساؤتھمپٹن کا میچ اس کے لئے عزت بچانے کا آخری موقع ہوگا۔
دوسری طرف انگلینڈ کی نظریں ایک اور کامیابی پر ہیں۔ اگر وہ پانچواں ٹی۔۲۰؍ بھی جیت لیتا ہے تو آئی سی سی مردوں کی ٹی۔۲۰؍ درجہ بندی میں دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن جائے گا۔
ساؤتھمپٹن کی وکٹ سے چیسٹر لی اسٹریٹ جیسی رن برسانے والی پچ کی توقع نہیں کی جا رہی، جبکہ بڑی باؤنڈریز ہندوستانی بلے بازوں کے لئے ایک بار پھر آزمائش ثابت ہو سکتی ہیں۔مہمان ٹیم اپنی پلیئنگ الیون میں کچھ تبدیلیاں کر سکتی ہے۔ بیٹنگ لائن اپ میں بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کی تعداد کم کرنے کے لئے سنجو سیمسن کو نمبر ۳؍ پر اتارا جا سکتا ہے جبکہ سوریانش شیڈگے کو بھی موقع ملنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب ورون چکرورتی اور ہرشت رانا ہیمسٹرنگ انجری کے باعث سیریز سے باہر ہو چکے ہیں۔