ورلڈ بینک نے کہا کہ وہ نجی شعبے کے ذریعےتقریباً۳۶؍ ہزار کروڑ روپےکے قرض کی فراہمی میں مدد کرے گا۔ یہ رقم بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائے گی ۔
سولر پینل ، سورج سے روشنی حاصل کرکے اسے بجلی میں تبدیل کرتےہیں۔تصویر:آئی این این
اگر آپ اپنے گھر کی چھت پر سولر پینل لگانا چاہتے ہیں تو آنے والے وقت میں یہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔ ورلڈ بینک نے ہندوستان کے ’روف ٹاپ سولر مشن‘ کیلئے ایک بڑے مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت لاکھوں خاندانوں کو آسان شرائط پر قرض فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی چھتوں پر سولر پینل نصب کر کے بجلی کے اخراجات میں کمی لا سکیں۔ورلڈ بینک نے جمعہ کو کہا کہ وہ نجی شعبے کے ذریعے۴ء۲؍ ارب ڈالر (تقریباً۳۶؍ ہزار کروڑ روپے*) کے قرض کی فراہمی میں مدد کرے گا۔ یہ رقم بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائے گی تاکہ لوگ بغیر زیادہ مالی دشواری کے روف ٹاپ سولر سسٹم نصب کر سکیں۔
پی ایم سوریہ گھر یوجنا کو ملے گا بڑا سہارا
یہ مالی معاونت ’پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا‘کیلئے فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت نے یہ اسکیم فروری۲۰۲۴ء میں شروع کی تھی، جس کا مقصد ملک کے ایک کروڑ گھروں میں ’روف ٹاپ سولر سسٹم‘ نصب کرنا ہے۔ اب تک اس منصوبے کے تحت ۴۰؍ لاکھ سے زائد گھروں میں سولر سسٹم نصب کیے جا چکے ہیں۔
اس حوالے سے بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کے اس پیکیج میں:۸۲۰؍ ملین ڈالر کا قرض، ۶۰؍ ملین ڈالر کا رعایتی قرض اور ۱۰؍ ملین ڈالر کی گرانٹ بھی شامل ہے۔ بتایا گیا کہ اس خطیر رقم کا استعمال صرف عوام کو قرض فراہم کرنے کے لئے نہیں ہوگا بلکہ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں(ڈی آئی ایس سی او ایم)، بینکوں اور سولرپینل بنانے والی کمپنیوںکو مضبوط بنانے پر بھی کیا جائے گا۔
عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
ورلڈ بینک کے مطابق اس منصوبے سے لوگوں کیلئے سولر پینل لگوانا مزید آسان ہو جائے گا۔ کئی معاملات میں بغیر کسی ضمانت(کولیٹرل) کے بھی قرض حاصل کیا جا سکے گا۔ اس سے لوگ اپنی چھتوں پر سولر پینل نصب کر کے ہر ماہ بجلی کے بل میں نمایاں بچت کر سکیں گے۔
حکومت کا اگلا ہدف کیا ہے؟
مرکزی وزیر برائے نئی و قابلِ تجدید توانائی پرہلاد جوشی کے مطابق اس اسکیم کیلئے ۶۵؍ لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ حکومت کا ہدف ہے کہ دسمبر۲۰۲۶ءتک۷۵؍ لاکھ گھروں میں روف ٹاپ سولر سسٹم نصب کیے جائیں۔
۱۷؍ لاکھ افراد کو روزگار ملنے کا امکان
ورلڈ بینک کا اندازہ ہے کہ اس منصوبے سے۱۷؍ لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔سولر پینل کی تیاری، تنصیب، دیکھ بھال اور اس سے متعلق دیگر خدمات کے شعبوں میں بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ورلڈ بینک نے کہا کہ وہ گزشتہ۱۰؍ برسوں سے ہندوستان کے روف ٹاپ سولر سیکٹر کی معاونت کر رہا ہے۔ اس عرصے میں ہندوستان کی روف ٹاپ سولر صلاحیت۵۰۰؍ میگاواٹ سے بڑھ کر۲۷؍ گیگاواٹ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ہندوستان نے ۲۰۷۰ءتک نیٹ زیرو کاربن اخراج حاصل کرنے اور۲۰۳۵ء تک بجلی کی پیداوار میں غیر فوسل ایندھن کا حصہ۶۰؍ فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ایسے میں ورلڈ بینک کی یہ نئی مالی معاونت ملک کے صاف توانائی مشن کو مزید رفتار دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔