Inquilab Logo Happiest Places to Work

’چھاتروں کی گونج‘ سے ’آسک می اینی تھنگ‘ تک

Updated: August 08, 2026, 12:28 PM IST | Mumbai

’’آسک می اینی تھنگ‘‘ (مجھ سے کچھ بھی پوچھئے) کے نام سے انوکھی پہل کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا انسٹا گرام پر ملک کے نوجوانوں سے براہ راست رابطہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ راہل نئی نسل کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور اُن سے اُن ہی کے انداز میں گفتگو کرسکتے ہیں جس میں ظرافت بھی ہے، طنز بھی ہے، عصری موضوعات بھی ہیں اور نئی نسل کی دلچسپی کا سامان بھی۔

Rahul Gandhi. Photo: X
راہل گاندھی۔ تصویر: ایکس

’’آسک می اینی تھنگ‘‘ (مجھ سے کچھ بھی پوچھئے) کے نام سے انوکھی پہل کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا انسٹا گرام پر ملک کے نوجوانوں سے براہ راست رابطہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ راہل نئی نسل کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور اُن سے اُن ہی کے انداز میں گفتگو کرسکتے ہیں جس میں ظرافت بھی ہے، طنز بھی ہے، عصری موضوعات بھی ہیں اور نئی نسل کی دلچسپی کا سامان بھی۔ ہم نے انسٹا پر اُن کے رابطے کے مناظر نہیں دیکھے مگر اس گفتگو کے اقتباسات پر مبنی رپورٹس کا مطالعہ کیا ہے جن میں نقل کئے گئے جملوں کی بے ساختگی ویسی ہی ہے جیسی نئی نسل میں پائی جاتی ہے۔ سیاسی تقریروں سے عوام اوب چکے ہیں یہ سب جانتے ہیں۔ ان میں نئی نسل کی دلچسپی صفر ہے۔ ایسے میں نئی تکنالوجی کا بہترین استعمال کرتے ہوئے راہل کی ایک کے بعد دوسری پہل، جو سیاسی نہیں مگر سیاست سے جدا بھی نہیں ہے، اچھا تاثر پیدا کرتی ہے۔ ’’چھاتروں کی گونج‘‘ بھی اُن کی ایسی ہی کوشش ہے۔ یہ میٹنگ پہلے کوٹہ میں منعقد کی گئی، اس کے بعد دہرا دون میں۔ آج اس سلسلے کی تیسری میٹنگ الہ آباد (اب پریاگ راج) میں منعقد کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جمہوریت کی روح کے بغیر

’’چھاتروں کی گونج‘‘ میں راہل گاندھی طلبہ سے طلبہ کی باتیں کرتے ہیں جو قطعی غیر سیاسی ہوتی ہیں۔ اس میں کسی اور سیاسی جماعت کا نام یا ذکر تو دور کی بات، کانگریس کا نام اور ذکر بھی نہیں آتا، اس کے باوجود اس کے سیاسی ہونے میں کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا مگر اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ راہل کی سیاست اپنے پیش رو یا ہم عصر لیڈروں کی سیاست سے جداگانہ اور منفرد ہے۔ اس کو پارٹی کی سیاست سے زیادہ اُصولی سیاست کہنا چاہئے جس کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ اگر کسی مسئلہ پر خود بھی گرفت میں آئیں تو دوہرا معیار نہ اپنایا جائے بلکہ مسئلہ کا اعتراف کیا جائے۔ اس کی مثال جھارکھنڈ میں دیکھنے کو ملی۔ راہل گاندھی نے جھارکھنڈ میں جے ایم ایم کی حکومت اور اس میں کانگریس کی شمولیت کے باوجود مفاد اور مصلحت سے کام نہیں لیابلکہ صاف کہا کہ وہ جھارکھنڈ میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ ہیںاور حکومت کو طلبہ کی شکایت سننی چاہئے۔ یہ سیاست بالکل نئی ہے صرف کانگریس کیلئے نہیں، دیگر پارٹیوں کیلئے بھی، مگر، ہر پارٹی اور ہر سیاستداں اسے اپنالے یہ ممکن نہیں کیونکہ اس میں سچ کو سچ کہنا ہی نہیں، ماننا بھی ہے، اس کا ساتھ بھی دینا ہے اور اگر قربانی ضروری ہو تو اوپری دل سے نہیں، تہ ِ دل سے قربانی بھی دینی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: افسوس کہ شرمندہ کوئی نہیں!

پپو، پارٹ ٹائم پالیٹیشن، نان سیریس اور بالک بدھی جیسے خطابات سے نوازے گئے راہل نے بڑی لکیر کھینچنے کی کوشش کی اور کامیاب ہورہے ہیں۔ اس کا اعتراف اُن کے مخالفین کو بھی ہوگا۔ اس کی وجہ اُن کی مسلسل محنت، الگ (آؤٹ آف باکس) سوچنے کی صلاحیت اور غیر معمولی جرأت ہے۔ بنگال میں ٹی ایم سی کی ہار کے بعد منعقدہ ’’انڈیا‘‘ کی میٹنگ میں اُنہوں نے اتحادی پارٹیوں کے لیڈروں سے کہا تھا کہ بی جے پی کو روایتی طریقوں سے ہرانا ممکن نہیں، اس لئے سب کو کچھ الگ سوچنا ہوگا۔ دیگر لیڈروں نے اس مشورہ پر جتنا عمل نہیں کیا، اس سے کہیں زیادہ عمل کرکے راہل نے بتا دیا ہے۔ اسی لئے اُن کی مقبولیت لگاتار بڑھ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK