Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسوس کہ شرمندہ کوئی نہیں!

Updated: August 06, 2026, 4:38 PM IST | Mumbai

امریکہ میں مقیم ہرش نامی ایک ہندوستانی نوجوان نے گزشتہ دنوں انسٹا گرام پر ایک ویڈیو جاری کیا اور ٹریفک کی صورت حال دکھاتے ہوئے کہا کہ ایک حادثہ کے سبب ٹریفک جام ہے مگر دیکھئے کہ کوئی ڈرائیور نہ تو ہارن بجا رہا ہے نہ ہی اِدھر سے اُدھر یا اُدھر سے اِدھر گھسنے کی کوشش کررہا ہے۔ ہر ڈرائیور اپنی سیٹ پر نظم و ضبط کا مظاہرہ کررہا ہے نہ کہ عجلت اور پریشانی کا۔ ہرش نے ویڈیو کے نیچے لکھا: ’’ٹریفک کا سامنا کرنے کے معاملے میں امریکہ اور ہندوستان کا موازنہ‘‘۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امریکہ میں مقیم ہرش نامی ایک ہندوستانی نوجوان نے گزشتہ دنوں انسٹا گرام پر ایک ویڈیو جاری کیا اور ٹریفک کی صورت حال دکھاتے ہوئے کہا کہ ایک حادثہ کے سبب ٹریفک جام ہے مگر دیکھئے کہ کوئی ڈرائیور نہ تو ہارن بجا رہا ہے نہ ہی اِدھر سے اُدھر یا اُدھر سے اِدھر گھسنے کی کوشش کررہا ہے۔ ہر ڈرائیور اپنی سیٹ پر نظم و ضبط کا مظاہرہ کررہا ہے نہ کہ عجلت اور پریشانی کا۔ ہرش نے ویڈیو کے نیچے لکھا: ’’ٹریفک کا سامنا کرنے کے معاملے میں امریکہ اور ہندوستان کا موازنہ‘‘۔

یہاں ایک اور ویڈیو کا تذکرہ نامناسب نہ ہوگا۔ دلجیت دوسانجھ معروف گلوکار اور اداکار ہیں۔ گزشتہ دِنوں وہ جاپان میں تھے۔ جاپان سے ان کی جاری کردہ ریل میں دیکھا گیا کہ ایک پارلر سے دو آئیس کریم خریدنے کے بعد وہ عجیب مشکل میں گھر گئے۔ آئیس کریم کے اوپر کا کاغذ (ریپر) نکال کر سوچ میں پڑگئے کہ کہاں پھینکیں، حد نظر تک کوئی کوڑا دان یا کچرا پیٹی یا ڈسٹ بِن نہیں تھا۔ اس پر انہوں نے مزاحیہ انداز میں لکھا: ’’جاپان اتنا صاف ہے کہ (لوگوں نے) کچرا پیٹی بھی صاف کردی۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: کشمیر: منزل ابھی دور ہے: عمر عبداللہ نے رابرٹ فراسٹ کی نظم کا حوالہ دیا

پہلے ویڈیو کی بابت اگر کوئی کہتا ہے کہ امریکہ کی سڑکیں کشادہ ہیں، اُن میں گڑھے نہیں ہیں، وہاں ناقابل برداشت ٹریفک جام کبھی کبھار ہوتا ہوگا اس لئے وہاں کے گاڑی بان (ڈرائیور) نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہونگے، تو ہندوستان میں یہ ممکن نہیں جہاں سڑکیں تنگ ہیں، کہیں کہیں بہت زیادہ تنگ ہوجاتی ہیں، اگر کشادہ ہیں تو ہموار نہیں ہیں اور ہموار ہوں تب بھی گاڑیاں بہت ہوگئی ہیں۔ 

دوسرے ویڈیو کی بابت کہنے والے کہہ سکتے ہیںکہ جاپان کی آبادی کم ہے اس لئے وہاں صفائی ستھرائی کو یقینی بنانا ممکن ہے، ہمارے ملک میں آبادی اس قدر ہے کہ بعض اوقات کاندھے سے کاندھا چھلتا ہے، تبدیلی آئے بھی تو کیسے۔ 

ٹریفک میں کان پھاڑ دینے والے شور، ڈرائیوروں کی عجلت اور بالکل تحمل نہ برتنے کی عادت پر گفتگو ہو یا کوڑا کرکٹ یہاں وہاں پھینک دینے کی افسوسناک روایت پر، جواز پیش کرنے والے ایک سے بڑھ کر ایک جواز پیش کرسکتے ہیں مگر نہ تو عوام کسی تبدیلی کی خواہش اور اس تبدیلی کو اپنی ذات سے شروع کرنے کی کوشش کرتے ہیں نہ ہی اہل اقتدار اس طرح کے اُمور پرسنجیدہ توجہ دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ٹریفک روز بہ روز نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ خراب ہوتا جارہا ہے۔ ڈسپلن نام کو نہیں ہے۔ اسی طرح غلاظت جا بہ جا دکھائی دیتی ہے۔ رہا جاپان کا معاملہ جہاں کوڑا دان نہیں ہے، توہمارے یہاں کوڑا دان یا تو نہیں ہے یا اس کا استعمال نہیں کیا جاتا۔

یہ بھی پڑھئے: اتھنال کی ملاوٹ کیوں اور کب تک؟

ہمارے یہاں دو اہم ادارے قطعاً ناکام ہیں۔ ایک ہے گھر جہاں تربیت نہیں ہوتی، دوسرا ہے اسکول جہاں صرف پڑھایا جاتا ہے سکھایا کچھ نہیں جاتا۔ اوائل عمری میں جتنی باتیں بچوں کو سکھانی چاہئیں اور ’’عادات و اطوار سازی‘‘ کی جتنی فکر کرنی چاہئے، وہ نہ تو گھروں میں ہوتا ہے نہ ہی اسکولوں میں۔ تحمل، برداشت، نظم و نسق، خیرخواہی، رواداری اور قربانی جیسی عادتوں کا بیج بچپن میں بویا جاتا ہے۔ یہ نہ ہو تو عادتیں پختہ ہوجاتی ہیں اور تبدیلی تقریباً ناممکن۔ حقیقت یہی ہے کہ ان دو اداروں کی ناکامی ہماری اجتماعی شرمندگی کا باعث بن گئی ہے مگر افسو س کہ شرمندہ کوئی نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK