پارلیمنٹ میں بل منظور کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس موضوع پر غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ بلوں کی منظوری پارلیمنٹ میں صرف ہونے والے وقت اور روزانہ کی نشستوں پر آنے والے خرچ کا بہترین جواز ہے۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 4:47 PM IST | Mumbai
پارلیمنٹ میں بل منظور کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس موضوع پر غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ بلوں کی منظوری پارلیمنٹ میں صرف ہونے والے وقت اور روزانہ کی نشستوں پر آنے والے خرچ کا بہترین جواز ہے۔
پارلیمنٹ میں بل منظور کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس موضوع پر غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ بلوں کی منظوری پارلیمنٹ میں صرف ہونے والے وقت اور روزانہ کی نشستوں پر آنے والے خرچ کا بہترین جواز ہے۔ جو بل پیش کئے جاتے ہیں قانون بنانے اور قانون میں ترمیم کے نقطۂ نظر سے اہم ہوتے ہیں جس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے کی ذمہ داری ہے کہ عوامی فلاح کو پیش نظر رکھ کر مناسب قوانین وضع کرے اور یہ ہورہا ہے۔ مگر، قانون کے مسودوں پر بحث و مباحثہ بھی یکساں طور پر اہم ہے۔ حکمراں جماعت یا اتحاد کے پاس قانون سازوں کی خاطرخواہ تعداد ہو جس کی بنیاد پر بل پاس ہوسکتا ہو تو اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ بل پر بحث و مباحثہ نہیں ہوگا۔ پارلیمنٹ کا جاری اجلاس اپوزیشن کے احتجاج کی نذر ہے نتیجتاً ، گزشتہ دنوں جتنے بل منظور ہوئے، اپوزیشن کی شمولیت اور اس کی رائے کے بغیر منظور کئے گئے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ بل لوک سبھا میں ضرور پاس ہوئے مگر لوک سبھا میں موجود حکمراں اتحاد کے لوگو ںنے پاس کئے، اپوزیشن میں شامل پارٹیوں کا نقطۂ نظر جانے بغیر اور اُسے اہمیت دیئے بغیر۔
یہ بھی پڑھئے: افسوس کہ شرمندہ کوئی نہیں!
یہ آدھا جمہوری عمل ہے۔ حکمراں اتحاد اس کا جواز پیش کرتے ہوئے یہی کہے گا کہ اپوزیشن تعاون نہیں دے رہا ہے جبکہ اپوزیشن کے مطالبوں کو قابل اعتناء سمجھا ہی نہیں جارہا ہے۔ پارلیمنٹ کا یہ بارانی اجلاس کچھ اس طرح جاری ہے کہ اس میں نہ تو وزیر اعظم شریک ہورہے ہیں نہ ہی وزیر داخلہ۔ طلبہ کے ۲۰؍ جولائی کے پارلیمنٹ مارچ کے دوران جو واقعات رونما ہوئے، اُن میں پولیس کے ذریعہ پیلٹ گن کا استعمال اور اندھا دھند لاٹھی چارج اور دیگر شکایات کے پیش نظر اپوزیشن چاہتا ہے کہ وزیر داخلہ ایوان میں آئیں اور اس پر جواب دیں کہ پولیس کو پیلٹ گن کے استعمال اور لاٹھی چارج کی اجازت کس نے دی مگر اپوزیشن کے لگاتار احتجاج کے باوجود وزیر داخلہ کا ایوان میں نہ آنا حکومت کے عدیم المثال طرز عمل کی گواہی دے رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ، خبروں کے مطابق، وزیر داخلہ پارلیمنٹ کے احاطے میں تو موجود ہیں مگر ایوان میں نہیں آرہے ہیں۔ چونکہ انہوں نے رخصت بھی نہیں لی ہے اس لئے اپوزیشن کا یہ الزام بے بنیاد نہیں لگتا کہ وہ ۲۰؍ جولائی کے واقعات پر جواب نہ دینے کے مقصد سے جان بوجھ کر ایوان سے غیر حاضر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اتھنال کی ملاوٹ کیوں اور کب تک؟
کیا ایوان کے لیڈر کی حیثیت سے وزیر اعظم کو اس صورتحال کا حل نہیں نکالنا چاہئے؟ روزانہ یہی ہورہا ہے کہ ایوان کی کارروائی شروع ہوتی ہے، ہنگامہ ہوتا ہے، اسپیکر اوم برلا اراکین کو ’وقفہ ٔ سوالات‘ کی اہمیت سمجھاتے ہیں، ہنگامہ رُکنے کا نام نہیں لیتا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی پہلے چند گھنٹوں کیلئے اور پھر دن بھر کیلئے روک دی جاتی ہے۔ اس دوران پیپر لیک کے خلاف سخت سزا کے قانون کے علاوہ جو بھی منظور ہوا مثلاً ایم ایس ایم ای ترمیمی بل، ٹیکسیشن اینڈ اَدر لاز (ترمیمی) بل ۲۰۲۶ء اور دیگر بل، ان کی منظوری کو یکطرفہ کہنا چاہئے کہ اس منظوری میں اپوزیشن کی مرضی تو کیا اس کا نقطہ ٔ نظر یا اس کے خیالات بھی ایوان کے ریکارڈ میں درج نہیں ہوئے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جمہوری ادارہ جمہوریت کی روح کے بغیرجاری ہے۔