Inquilab Logo Happiest Places to Work

اتھنال کے اچھے دِن

Updated: July 15, 2026, 1:17 PM IST | Mumbai

پیٹرول میں اتھنال کی ملاوٹ کے خلاف ملک بھر میں تشویش کا ماحول پایا جارہا ہے۔ اس کے خلاف مظاہرے بھی ہورہے ہیں۔ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال تو خود پیٹرول پمپ پہنچ گئے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

پیٹرول میں اتھنال کی ملاوٹ کے خلاف ملک بھر میں تشویش کا ماحول پایا جارہا ہے۔ اس کے خلاف مظاہرے بھی ہورہے ہیں۔ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال تو خود پیٹرول پمپ پہنچ گئے۔ اس کے بعد وزیر اعظم کے نام ایک مکتوب روانہ کیا اور ملاقات کا وقت طلب کیا۔ اُنہوں نے ایک آن لائن پٹیشن بھی جاری کی ہے اور عوام سے اس پر دستخط کی اپیل کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ آن لائن پٹیشن پر ملنے والی دستخطوں کے ساتھ وزیر اعظم سے ملاقات کرینگے۔ کہا نہیں جاسکتا کہ یہ اروند کیجریوال کا بھولپن ہے یا اس کے پس پشت کوئی اور مقصد ہے البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ انہوں نے ایک قدم اُٹھایا۔ رفتہ رفتہ یہ تنازع بھی بڑھتا جارہا ہے۔ ایسے وقت میں جب پنجاب کے کسان مظاہرہ کررہے ہوں، جنتر منتر پر طلبہ کا احتجاج چل رہا ہو، کانگریس پارٹی ’’چھاتروں کی گونج‘‘ کے تحت پورے ملک میں مہم چلا رہی ہو، چندہ اور چڑھاوا چوری پر غم و غصہ کی کیفیت ہو، مردم شماری دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کو ہو، ایس آئی آر کی وجہ سے عوام میں فکرمندی اور تشویش ہو اور اپوزیشن پارٹیوں کو اراکین اسمبلی و پارلیمان کے چھٹک جانے کا تعطل وقتی راحت معلوم ہورہا ہو، اتھنال کی ملاوٹ نئی مصیبت ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ پہلے، حکومت ملاوٹ کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ کرتی تھی، اب ملاوٹ کو ضابطہ بنا دیا ہے جس کے تحت پیٹرول پمپوں پر ۲۰؍ فیصد اتھنال ملا ہوا ایندھن مل رہا ہے۔ چونکہ موٹر گاڑیوں کے انجنوں کی بناوٹ ایسی نہیں ہے کہ اس قدر ملاوٹ سہہ سکیں اس لئے موٹر گاڑیوں کے مالکان فکرمند اور شاکی ہیں۔ بہت سو ں کو اب جاکر معلوم ہوا کہ اتھنال تو پہلے سے ملایا جا رہا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے کم ملاوٹ ہوتی تھی اب زیادہ ہورہی ہے۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ اتھنال ۲۰؍ فیصدہو تو زیادہ پیٹرول صرف ہوتا ہے (مائلیج کم ہوجاتا ہے)، ناکنگ ہونے لگتی ہے اور گاڑی کے چلنے میں دقت ہوتی ہے۔ اتھنال ۲۰؍ فیصد کے حامیوں بالخصوص اُن لوگوں نے، جو حکومت کے ہر فیصلے کی وکالت کرتے ہیں، ایک خوبصورت بہانہ تراش لیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اتھنال بنانے کیلئے زرعی پیداوار کا استعمال کیا جاتا ہے اسلئے اتھنال کو خوشی خوشی قبول کرنا چاہئے کیونکہ اس سے کسانوں کا فائدہ ہوگا۔ کل تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ اتھنال کی تیاری میں گنے اور گڑ کے شیرے (مولاسیز) کا استعمال ہوتا ہے۔ اب ہر کوئی جانتا ہے۔ لگے ہاتھوں لوگ ایندھن میں اتھنال کا فیصد کتنا ہے یہ جاننے کا طریقہ بھی معلوم کر رہے ہیں۔۲۰؍ فیصد اتھنال مکس کرنے پر پیٹرول کی قیمت کم ہونی چاہئے تھی، نہیں ہوئی۔ صارفین کا یہ کہنا درست ہے کہ آپ ایندھن کے مراکز پر تین متبادل رکھئے۔ پہلا بغیر ملاوٹ کا ایندھن، دوسرا کم ملاوٹ کا ایندھن (۱۰؍ فیصد اتھنال) اور تیسرا ۲۰؍ فیصد ملاوٹ کا ایندھن، صارفین کو جو درکار ہوگا وہ خریدیں گے مگر یہ مطالبہ شاید ابھی اوپر تک نہیں پہنچا۔ کچھ لوگ صارفین کو یہ کہہ کر سمجھانے لگے ہیں کہ اتھنال کی وجہ سے ایندھن کی کارکردگی پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ سچائی ہم نہیں جانتے مگر یہ ضرور جانتے ہیں کہ گنے کی زیر کاشت زمین بڑھتی جارہی ہے۔ ۵۷؍ لاکھ ہیکٹر ہوگئی ہے، اس کا معنی یہ کہ اتھنال کے اچھے دن آگئے ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK