Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ایتھنول کے بغیر پیٹرول اب دستیاب نہیں، خالص پیٹرول فراہم کرانا ممکن نہیں‘‘

Updated: July 11, 2026, 1:03 PM IST | Agency | New Delhi

حکومت نے ایتھنول کے بغیر پیٹرول فراہم نہ کرنے کی ۳؍ اہم وجوہات بتائیں ، ای-۲۰؍ مخالفین نے نتن گڈکری کے چیلنج کو قبول کیا ۔

Youth Congress Held A Massive Protest Against Petrol With Ethanol In Delhi On Friday.Photo:INN
دہلی میں یوتھ کانگریس کی جانب سے ایتھنول والے پیٹرول کے خلاف جمعہ کو زبردست احتجاج کیا گیا-تصویر:آئی این این
مرکزی حکومت نے واضح کیا ہےکہ ملک میں دوبارہ خالص پیٹرول یا پرانے  ای-۱۰؍ ایندھن کا متبادل فراہم کرنا عملی نہیں ہے۔ ای-۲۰؍ ایندھن (۲۰؍ فیصد ایتھنول  کے ساتھ ملا ہوا پیٹرول) کے ملک بھر میں نفاذ نے عوام، مظاہرین اور حکومت کے درمیان تنازع کو جنم دیا ہے۔ گاڑی چلانے والوں اور سماجی کارکنوں نے مائلیج میں کمی اور پرانے انجنوں کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کرتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مخالفت کے درمیان مرکزی وزارت پٹرولیم نے ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے جس میں صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کسی بھی الجھن یا افواہوں سے گریز کریں۔ 
 
 
مودی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پیٹرول پمپوں پر خالص پیٹرول ای-۱۰؍ اور ای-۲۰؍ کو علاحدہ متبادل کے طور پر فراہم کرنا ناممکن ہے۔ حکومت نے ۳؍ اہم وجوہات بتائی ہیں۔ ان میں سب سے بڑا  چیلنج  لاجسٹک ہے۔ ہندوستان کے پاس ایک لاکھ سے زیادہ پیٹرول پمپ ہیں جو ریفائنریوں، ڈپو اور پائپ لائنوں کے وسیع نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہر پمپ پر بیک وقت ۳؍ قسم کے پیٹرول کا ذخیرہ کرنا پوری سپلائی چین کیلئے ایک مشکل کام ہوگا۔ اس سے انتظامی چیلنجز پیدا ہوں گے اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ دوسری وجہ ایک لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری داؤ پر: پچھلے کچھ سال میں پبلک سیکٹر کے بینکوں اور کاروباریوں نے ایتھنول  کی پیداوار اور بنیادی ڈھانچے میں سالانہ تقریباً ایک لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اگر حکومت اچانک پیچھے ہٹ جاتی ہے تو کسانوں، کوآپریٹیو اور مالیاتی اداروں کی یہ خاطر خواہ سرمایہ کاری ضائع ہو جائے گی۔ اسکے ساتھ ہی آٹوموبائل کمپنیوں کی رضامندی کو تیسری وجہ بتایا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق آٹو کمپنیوں کے مکمل اطمینان اور جانچ کے بعد ہی ای-۲۰؍ کو معیاری ایندھن بنایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام کمپنیاں پرانی اور نئی دونوں گاڑیوں پر وارنٹی دے رہی ہیں۔
 
 
وزارت پٹرولیم کا کہنا ہے کہ اگر ای-۲۰؍ ایندھن واقعی ربڑ کے پائپوں یا انجنوں کو خراب کر رہا ہوتا تو ملک بھر میں لاکھوں وارنٹی دعوؤں اور شکایات کا سیلاب آ جاتا جو کہ عملی طور پر نہیں ہوا۔ ای-۲۰؍ ایک مکمل طور پر محفوظ، سائنسی طور پر ثابت شدہ اور ماحول دوست ایندھن ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر مخالفت کے پیش نظر ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ حکومت اگلے مرحلے (ای-۲۰؍ ایندھن) کو نافذ کرنے کے منصوبے کو عارضی طور پر ملتوی کر سکتی ہے۔ حال ہی میں مرکزی روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے وزیر نتن گڈکری نے ای-۲۰؍ پٹرول کی مخالفت کرنے والوں کو چیلنج کیا کہ وہ ملک بھر میں ایک ایسے شخص کو بھی آگے لائیں جس کی گاڑی کا انجن ایتھنول  والے ایندھن کی وجہ سے خراب ہوا ہو۔ مخالفین نے  دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس چھ ثبوت ہیں۔ مخالفین نے مرکزی وزیر کے چیلنج کو بھی قبول کرلیا ہے۔ ’ٹیم بھارت‘ کے بینر تلے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی قیادت کرنے والے سماجی کارکن تحسین پوناوالا نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم نے گڈکری کے چیلنج کو قبول کیا ہے۔ ہمارے پاس ایک نہیں بلکہ ۶؍ لوگ ہیں جن کی گاڑیوں کو ای-۲۰؍ ایندھن کے استعمال سے نقصان پہنچا ہے۔ اس لیے دہلی پولیس نے ہمیں مرکزی وزیر کی رہائش گاہ کی طرف جانے سے روک دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK