راہل گاندھی نے ویمن ریزرویشن بل کیلئے منعقدہ سہ روزہ خصوصی پارلیمانی اجلاس میں بھی اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں خطاب کیا۔ ایوان میں اُن کا شاید ہی کوئی خطاب ایسا ہو جس میں اُنہیں روکا ٹوکا نہ گیا ہو اور دورانِ تقریر شور نہ مچایا گیا ہو۔
راہل گاندھی۔ تصویر:آئی این این
راہل گاندھی نے ویمن ریزرویشن بل کیلئے منعقدہ سہ روزہ خصوصی پارلیمانی اجلاس میں بھی اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں خطاب کیا۔ ایوان میں اُن کا شاید ہی کوئی خطاب ایسا ہو جس میں اُنہیں روکا ٹوکا نہ گیا ہو اور دورانِ تقریر شور نہ مچایا گیا ہو۔ کل تک اُن کے مخالفین کہتے تھے کہ وہ تقریر کا فن نہیں جانتے اور اُن کی تقریر بچکانہ ہوتی ہے۔ اب اُن سے اُمید کی جاتی ہے کہ تنقید نہ کریں۔ سوال یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر تنقید نہیں کریگا تو کیا کریگا؟ کیا حکمراں اتحاد کی گود میں بیٹھ جائیگا!
پھر بھی حکومت کو یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ کئی موقعوں پر راہل کی قیادت میں اپوزیشن نے حکومت کا ساتھ دیا ہے جس کی مثالیں گنائی جاسکتی ہیں۔ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ راہل کی تقریر کو فن ِ تقریر و خطابت کی کسوٹی پر نہیں پرکھنا چاہئے بلکہ موضوعات کے زاویئےسے دیکھنا چاہئے جن کا احاطہ وہ ایوان میں اپنی تقریر کے دوران کرتے ہیں۔ ۹؍ جون ۲۰۲۴ء کو اپوزیشن لیڈر کا آئینی عہدہ سنبھالنے کے بعد سے آج تک، لوک سبھا میں راہل کے کسی بھی خطاب کو تضیع اوقات نہیں کہا جاسکتا۔ اُنہوں نے ہر اُس موضوع کو چھوا جو عوام کی ترجمانی کیلئے ضروری تھا۔ کسی ایسے موضوع سے چشم پوشی بھی نہیں کی جس کے تئیں عوام کا باخبر ہونا ضروری تھا۔ وہ ایسے موضوعات سے بھی پیچھے نہیں ہٹے جو حکمراں اتحاد کی برہمی اور ناراضگی کا سبب بن سکتے تھے۔ یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ تقریر کی فطری صلاحیت اُن میں نہیں ہے مگر یہ کوئی ایسی خوبی تو نہیں ہے جو اچھے اخلاق کی طرح ہر ایک میں ہونی ہی چاہئے۔ ہر شخص مقرر نہیں ہوسکتا جیسے کہ ہر شخص ادیب، شاعر، مصور ، خوش خط اور خوش آواز نہیں ہوتا۔ کیا یہ کہیں درج ہے کہ اپوزیشن لیڈر اچھا مقرر ہو، ورنہ اُسے بحیثیت اپوزیشن لیڈر قبول نہیں کیا جائیگا؟
ہماری پارلیمانی تاریخ اس حقیقت پر ناز کریگی کہ کئی اپوزیشن لیڈر ایسے گزرے ہیں جنہیں عمدہ تقریر کیلئے یاد کیا جائیگا مثلاً اٹل بہاری واجپئی اور سشما سوراج (لوک سبھا میں) اور ارون جیٹلی (راجیہ سبھا میں) کا شمار عمدہ مقررین میں ہوتا رہا ہے۔ وزراء اعظم کیلئے بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، وی پی سنگھ، اٹل بہاری واجپئی (بحیثیت وزیر اعظم بھی) کی تقریر سننے سے تعلق رکھتی تھی۔ موجودہ وزیر اعظم مودی کو بھی عمدہ مقرر مانا جاتا ہے مگر ہر وزیر اعظم اچھا مقرر ہو، ضروری نہیں ہے۔ اس نقطۂ نظر سے، کوئی بات نہیں اگر راہل اچھے مقرر نہیں ہیں، دیکھا یہ جائیگا کہ بحیثیت اپوزیشن لیڈر وہ اپنا فرض پورا کررہے ہیں یا نہیں۔ اس لحاظ سے اُنہیں دس میں سے دس نمبرات دیئے جاسکتے ہیں۔ رہا یہ سوال کہ کیا وہ اپنا اسلوب بہتر بناسکتے ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناً بنا سکتے ہیں بشرطیکہ اُن کے اسپیچ رائٹر توجہ دیں اور اُنہیں ایسا متن فراہم کریں جو سادا بھی ہو اور تیکھا ہو، جس میں بڑی فلسفیانہ باتوں سے گریز ہو، مثالیں اور علامتی بیانیہ طول بیانی کا سبب نہ بنے اور اگر کچھ ناموں پر صدر نشین کو اعتراض ہو تو کوشش یہ ہوکہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ کیا راہل کے اسپیچ رائٹرس یہ نہیں کرسکتے؟ اس سے قبل ، مارشل آرٹ والی تقریر میں اُن کی مثال طویل ہوگئی ۔ اس بار بھی جادوگر کی کہانی جلد ختم ہونی چاہئے تھی مگر کیا کہیں کہ ہم ایسے سننے والوں کا پیمانہ ٔ صبر بھی لبریز ہوگیا۔ اچھے شعر کی طرح تقریر وہ ہے جو دل سے نکلے اور دل میں اُتر جائے۔ راہل کی تقریر دل سے تو نکل رہی ہے مگر کیا دل میں اُتر رہی ہے؟ اس میں ہمیں طول بیانی کی وجہ سے شک ہے۔