مرکزی حکومت نے جمعرات کو اُن خبروں کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جاری اسمبلی انتخابات کے بعد ملک میں پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر ۲۵؍ سے ۲۸؍ روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: April 23, 2026, 1:02 PM IST | New Delhi
مرکزی حکومت نے جمعرات کو اُن خبروں کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جاری اسمبلی انتخابات کے بعد ملک میں پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر ۲۵؍ سے ۲۸؍ روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
مرکزی حکومت نے جمعرات کو اُن خبروں کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جاری اسمبلی انتخابات کے بعد ملک میں پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر ۲۵؍ سے ۲۸؍ روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسے فیک نیوز قرار دیتے ہوئے وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘پر پوسٹ کیاکہ ’’کچھ میڈیا رپورٹس میں پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی بات کہی جا رہی ہے۔ یہ واضح کیا جاتا ہے کہ حکومت کے سامنے ایسا کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔‘‘ اس طرح کی خبریں شہریوں میں خوف اور گھبراہٹ پیدا کرنے کے مقصد سے پھیلائی جاتی ہیں اور یہ شرارت انگیز اور گمراہ کن ہوتی ہیں۔
پوسٹ کے آخر میں لکھا گیا’’ہندوستان واحد ایسا ملک ہے جہاں گزشتہ چار برسوں میں پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ حکومتِ ہند اور سرکاری تیل کمپنیوں نے بین الاقوامی قیمتوں میں تیز اضافے سے ہندوستانی شہریوں کو بچانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:روس امریکہ تعلقات پست ترین سطح پر : نائب روسی وزیر خارجہ
اس سے قبل بدھ کو روزانہ کی پریس بریفنگ میں وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے کہا کہ ملک میں پیٹرول اورڈیزل کی سپلائی معمول کے مطابق ہے اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ گھبراہٹ میں آ کر پیٹرول، ڈیزل یا گیس کی خریداری نہ کریں اور صرف سرکاری معلومات پر ہی اعتماد کریں۔ حکومت کے مطابق، ملک بھر میں گھریلو ایل پی جی، پی این جی اور سی این جی کی ۱۰۰؍ فیصد سپلائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔۲۳؍ مارچ ۲۰۲۶ء سے اب تک ۵؍ کلوگرام والے چھوٹے گیس سلنڈرز (ایف ٹی ایل) کے ۲۰؍ لاکھ سے زیادہ یونٹ فروخت ہو چکے ہیں، جو خاص طور پر مہاجر مزدوروں کے لیے راحت کا باعث بن رہے ہیں۔ حکومت نے ان سلنڈرز کی سپلائی بھی دُگنی کر دی ہے تاکہ ضرورت مندوں تک آسانی سے گیس پہنچ سکے۔
یہ بھی پڑھئے:’مٹکا کوئین‘کریتیکا کامرا کے۷۰ء کی دہائی سے متاثر انداز موضوعِ بحث بن گئے
پی این جی (پائپڈ نیچرل گیس) کے پھیلاؤ پر بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ء سے اب تک تقریباً ۱۰ء۵؍ لاکھ نئے کنکشن شروع کیے جا چکے ہیں اور ۵۶ء۲؍ لاکھ اضافی کنکشن کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ۷۷ء۵؍ لاکھ افراد نئے کنکشن کے لیے رجسٹریشن کر چکے ہیں۔ حکومت کمپنیوں کے ساتھ مل کر لوگوں کو پی این جی اپنانے کی ترغیب دے رہی ہے۔ کئی کمپنیاں نئے کنکشن پر پیشکشیں بھی دے رہی ہیں۔ ساتھ ہی ریاستوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گیس کنکشن فراہم کرنے کے عمل کو تیز کریں۔