ایک ہندی روزنامہ کی یہ خبر پڑھ کر اچھا لگا۔ ایسا خیال جو اس خبر کے ذریعہ سامنے آیا، کسی کے بھی ذہن میں آسکتا ہے مگر مشکل یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگوں نے سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ جو لوگ سوچنے اور غور کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ان سے نئی تدابیر کی امید کی جا سکتی ہے وہ اپنے خیال کو یا تو خود ہی مسترد کر دیتے ہیں یا ناقابل عمل سمجھ لیتے ہیں ۔
ایک ہندی روزنامہ کی یہ خبر پڑھ کر اچھا لگا۔ ایسا خیال جو اس خبر کے ذریعہ سامنے آیا، کسی کے بھی ذہن میں آسکتا ہے مگر مشکل یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگوں نے سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ جو لوگ سوچنے اور غور کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ان سے نئی تدابیر کی امید کی جا سکتی ہے وہ اپنے خیال کو یا تو خود ہی مسترد کر دیتے ہیں یا ناقابل عمل سمجھ لیتے ہیں ۔ اگر یہ نہیں تو ’’کیسے ہوگا‘‘ اور ’’کون کیا کہے گا‘‘ کے چکر میں پھنس کر اپنی تدبیر کا خود ہی گلا دَبا دیتے ہیں نیز بھول جاتے ہیں کہ اچھا خیال تب ہی اچھا کہلانے کا حقدار ہوگا جب عملی شکل اختیار کرلے۔ بہرحال خبر کچھ اس طرح ہے:
’’کولکاتا سے ۱۱۰ ؍ کلومیٹر کی دوری پر بھارت بنگلہ دیش سرحد کے قریب واقع بن گاؤں میں ایک ایسی دکان ہے جس میں دکاندار نہیں ہوتا۔ اسکولی طلبہ اس دکان سے کاپی، پنسل، قلم جیسی اشیاء خریدتے ہیں اور درج شدہ قیمت دیکھ کر اتنے پیسے وہاں رکھے ڈبے میں ڈال دیتے ہیں اور دکان کے رجسٹر میں لکھ دیتے ہیں کہ کیا خریدا۔ ہر ہفتے دکان کا اسٹاک چیک کیا جاتا ہے اور پیسوں کا حساب دیکھا جاتا ہے۔ اسکول کے معاون مدرس واسودیو کا کہنا ہے کہ آج تک حساب میں گڑبڑ نہیں ہوئی۔ پیسوں کے ڈبے کے قریب ہی ٹافیاں رکھی ہوئی ہیں ۔ طلبہ ہر خریداری کے عوض ایک ٹافی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔ یہ کوی کیشو لال ودیا پیٹھ اسکول کی دکان ہے جس کا مقصد طلبہ کو ایماندار بنانا ہے اسی لئے اس کا نام آنیسٹی اسٹور (ایمانداری کی دکان) رکھا گیا ہے۔ اسکول پہلی تا چوتھی جماعت ہے جہاں ۱۶۱؍ طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔‘‘
چاروں طرف پھیلی بے ایمانی کے دور میں ، جب نیچے سے اوپر تک اور اوپر سے نیچے تک، بدعنوانی کی جڑیں روز بہ روز مضبوط ہورہی ہوں ، ایمانداری کی جوت جگانے کی یہ کوشش چھوٹا نہیں بہت بڑا قدم ہے۔ یہ ٹیچر واسودیو ہی کا خیال تھا جس کے تحت پاٹھ شالہ کے قریب ایمانداری کی پاٹھ شالہ قائم کی گئی۔ ہماری نظر میں یہ چھوٹی سی دکان انسدادِ بدعنوانی کے بڑے سے بڑے ادارے اور محکمے پر بھاری ہے۔ اس کا اسکول کے قریب ہونا بھی اہم ہے۔ جو بات اسکول میں سکھائی جاتی ہے اگر اسے عملی طور پر برتنے کا موقع بھی ملے تو وہ راسخ ہوجاتی ہے۔ یہی اس اسکول نے کیا ہے۔ ہر اسکول میں سائنس کی تجربہ گاہ ہوتی ہے۔ یہ انوکھا اسکول ہے جس نے ایمانداری کی تجربہ گاہ بنائی وہ بھی ابتدائی جماعتوں کے طلبہ کیلئے۔ شاید اس کے پیچھے سوچ یہی ہے کہ کم عمری میں سکھائی گئی بات دور تک اور دیر تک ساتھ رہتی ہے۔
گاؤں کے اسکول کی ا بتدائی جماعتوں کے بچے یہ نہ جانتے ہونگے کہ مبارکباد کیا ہوتی ہے، اس کے باوجود وہ ہماری نظر میں مبارکباد کے مستحق ہیں جن کی وجہ سے دکان کے اسٹاک اور پیسوں کے حساب میں فرق نہیں ملا۔ کاش اس تجربے کو ملک بھر کے اسکول اپنائیں اور بچوں کو ایمانداری برتنے کی عملی مشق سے گزاریں ۔ مگر اس کیلئے خود ایمانداری کو بطور اصول اپنانا ہوگا۔ طلبہ کے داخلوں ، اساتذہ کی تقرری، یونیفارم کی تقسیم اور ایسے ہی دیگر امور میں پائی جانی والی بدترین بدعنوانی کو ختم کرنا ہوگا جسے شرف قبولیت بخش دیا گیاہے۔ ایسے میں طلبہ کو ایمانداری کون سکھائے گا؟ وہی جو خود ایماندار ہو۔ جس نے بدعنوانی کے ذریعہ تدریسی ملازمت حاصل کی ہو، جس نے کرپشن کے ذریعہ اسکول قائم کیا ہو، جس نے تقرری کیلئے رشوت لی ہو یا وہ جو دیگر امور میں بدعنوانی کے بازار کی رونق بنا ہو کیا وہ ایمانداری سکھا سکتاہے؟