• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یادہےفہیم انصاری جسے ممبئی حملوں کے ملزمین کو نقشہ فراہم کرنے کا ملزم بنایا گیا تھا؟

Updated: January 21, 2026, 2:09 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

اب رکشا چلاکر اپنے اہل خانہ کی کفالت کررہے ہیں، کہتے ہیں کہ’’جھوٹے الزامات اور لمبی قیدوصعوبتوں نے جو زخم دئیے ہیں وہ بھول نہیں سکتا،رہائی کے بعد میرے گھروالوں نے میرے زخموں پر جو مرہم رکھااس نے دوبارہ جینے کی امنگ پیداکردی ہے۔ ‘‘

Faheem Ansari with his rickshaw. Picture: INN
فہیم انصاری اپنے رکشا کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این
۱۱؍۲۶ کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں  کے کلیدی ملزم  اجمل قصاب کی گرفتاری اور اس سے کی  جانے والی تفتیش کی بنیاد پر ۲؍ ہندوستانی شہری فہیم ارشدمحمد یوسف انصاری اور صباح الدین نامی دو نوجوانوں پر مذکورہ بالا دہشت گردانہ حملوں کی سازش کا الزام لگاتھا۔فہیم انصاری اور صباح الدین کو کانپور سی آر پی ایف کیمپ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے جرم میں ۲۰۰۷ء ممبئی دہشت گردانہ حملوں سے قبل ہی گرفتار کیا گیاتھا اور جس وقت حملہ ہوا تھا دونوں کانپورکی جیل میں قید تھے ۔ دہشت گردانہ حملوں کے ۱۸؍ سال بعد جس طرح سے اس حملہ میں ہلاک ہونے والے متاثرین کے اہل خانہ اور زخمی ہونے والے اس ہولناک حملہ کو اب تک بھول نہیں سکے ہیں ۔ اسی طرح فہیم انصاری جنہیں نہ صرف ممبئی دہشت گردانہ حملوں سے بری کر دیا گیا بلکہ سی آر پی ایف دہشت گردانہ حملوں کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں سنائی گئی سزا کے بعد چونکہ انہوں نے ۱۰؍ سال سے زائد عرصہ جیل میں گزار ا تھا ، جیل سے رہا کر دیا گیا ہے ۔ فہیم انصاری جیل سے رہائی کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ ممبرا میں رہتے ہیں۔
ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے متعلق شائع شدہ خبر کا تراشہ۔
 
فہیم انصاری  اپنی اور اہل خانہ کی کفالت کیلئے رکشا چلاتے ہیں ۔ اس کام کیلئے انہوںنے بامبے ہائی کورٹ میں اپیل کرتے ہوئے پولیس کاکلیئرنس سرٹیفکیٹدینےکی درخواست کی ہے تاکہ وہ ممبرا کے علاوہ دو دراز علاقوں میں بھی رکشا چلا سکیں ۔ ان کی داخل کردہ عرضداشت سماعت مکمل ہوچکی ہے اور عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔
گرفتاری اور جیل کی صعوبتیں جھیلنے کے ساتھ خاندان کا شیرازہ بکھرنے اور جسم وروح کو پہنچانے والی تکلیف کو اٹھاچکے فہیم انصاری سے جب انقلاب نےان کا حال دریافت کیا تو کہا کہ ’’ اگر میں مجھے پر اور میرے اہل خانہ پر ہونے والے ذہنی ، جسمانی و روحانی زخموں کو کریدنے لگوں تو وہ پھر سے ہرا ہوجائے گا اور تکلیف دینے لگے گا ۔ وہ ایسا درد اور زخم ہے جسے بھول کر بھی بھلایا نہیں جاسکتا ہے لیکن جھوٹے الزامات سے بری کئے جانے اور جیل سے رہائی کے علاوہ میرے اہل خانہ جس میں میرے والدین بھائی بہن کے علاوہ میری بیوی نے میرے زخموں پر جو مرہم رکھا ہے ، اس نے مجھے میں دوبارہ جینے کی امنگ پیدا کر دی ہے ۔‘‘  فہیم انصاری نے یہ بھی کہا کہ ’’جیل کی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیںہے جو تکالیف سے پر نہ ہو ۔ میں سے مایوس ہوچکا تھا اور اپنی بیوی کو اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی اجازت بھی دے دی تھی لیکن اس نے ہر قدم پر میرا ساتھ اور آخری دم تک انتظار کرنے کا حوصلہ دے کر اسے پوری طرح نبھایا ہے ۔ ‘‘
فہیم انصاری اب اس بات سے خوش ہیں کہ وہ جیل سے رہا ہوگئے ہیں ۔ ان کی ایک بیٹی ہے جس کی شادی ہوگئی ہے اور وہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے ۔ اب وہ اپنی اور اپنی بیوی کی کفالت کے لئے سب کچھ بھول کر حلال رزق کے لئے ممبرا میں رکشا چلاتے ہیں ۔ انہوںنے گزشتہ سال بامبے ہائی کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے یہ جواز پیش کیا ہے کہ انہیں ممبرا میں رکشا چلانے کے لئے پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے لیکن ممبرا سے باہر جانے کے لئے انہیں پرمٹ درکار ہوتا ہے ، وہ بنا پرمٹ اور بَیچ کے ممبرا سے باہر رکشا نہیں چلاسکتے اور اس کی وجہ سے وہ اپنے ذریعہ معاش میں اضافہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے بتایا کہ جب تک پولیس کی جانب سے پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ دیا نہیں جائے، آر ٹی او سے وہ بیچ اور پرمٹ حاصل نہیں کر سکتے ہیں ۔ 
خیال رہے کہ۲۶؍ نومبر ۲۰۰۸ء کو سمندر کے راستے پاکستان کے ۱۰؍ دہشت گرد عروس البلاد ممبئی میں داخل ہوئے تھے ۔ انہوں نے ممبئی کے چھتر پتی شیواجی مہاراج ٹرمنس ، تاج محل ہوٹل ، ٹرائیڈنٹ ، لیو پولڈ ، چھابڑا ہاؤس او رکاما اسپتال میں نہ صرف خون کی ہولی کھیلی تھی بلکہ ۱۶۶؍ملکی اور غیر ملکی شہریوں کو اے کے ۴۷؍ سے قتل کیا تھا جبکہ اس حملہ میں ۳؍ سو سے زائد شہری زخمی ہوئے تھے ۔یہی نہیں پاکستان کی ممنوعہ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ذریعہ کرائے جانے والے اس دہشت گردانہ حملے میں ممبئی پولیس کے ۱۶؍ جوان و افسران جس میں این سی جی کا ایک کمانڈو اور اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے ، کامٹے ،وجئے سالسکرشامل شامل تھے۔ وہیں اس حملہ کے کلیدی و واحد ملزم اجمل عامر قصاب کو پولیس آفیسر اومبلے نے اپنی جان پر کھیل کر گرفتار کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK