• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دُنیا کا سب سے خطرناک آدمی‘‘

Updated: January 21, 2026, 1:53 PM IST | Pervez Hafeez | mumbai

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سگی بھتیجی میری ٹرمپ نے ۲۰۲۰ء میں اپنی کتاب میں ان کے تعلق سے جو کچھ لکھا تھا، وہ تمام باتیں وقت کے ساتھ درست ثابت ہوتی نظر آرہی ہیں۔ وینزویلا سے لے کر ایران تک اور امیگریشن پالیسیوں سے لے کر گرین لینڈ ہتھیانے تک کی کوششیں ٹرمپ کی انانیت ، تاناشاہی اور توسیع پسندانہ عزائم کا ثبوت ہیں۔

INN
آئی این این
جولائی ۲۰۲۰ء  میں  ڈونالڈ ٹرمپ پر ایک کتاب شائع ہوئی تھی جس میں  انہیں ’’دنیا کا سب سے خطرناک آدمی‘‘ قرار دیا گیا تھا۔اس کتاب کی مصنفہ میری ٹرمپ، امریکی صدر کی سگی بھتیجی ہیں  جواپنے خونی رشتے کی وجہ سے انہیں  بے حد قریب سے جانتی ہیں ۔ میری ٹرمپ ایک اعلیٰ درجے کی ماہر نفسیات بھی ہیں ۔ انہوں  نے اپنی کتاب میں  ٹرمپ کی شخصیت کا نہایت عالمانہ تجزیہ کیا اوراس نتیجے پر پہنچیں  کہ وہ صرف  مغرور، اناپسند، جھوٹے اور مکارانسان ہی نہیں  بلکہ ایک بڑے نفسیاتی مریض بھی ہیں ۔ یہ متنازع کتاب جس کا نام ہے:
"Too Much and Never Enough: How My Family Created the World`s Most Dangerous Man" 
اس قدر مقبول ہوئی کہ اشاعت کے چوبیس گھنٹوں  کے اندر اس کی دس لاکھ کاپیاں  ہاتھوں  ہاتھ بک گئیں ۔ میری نے اپنی کتاب میں  یہ تشویش ناک پیشنگوئی کی کہ اگر خدا نخواستہ ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہوگئے تو امریکہ میں  جمہوریت کا خاتمہ ہوجائے گا۔
۲۰؍جنوری کوٹرمپ کی دوسری مدت کا ایک سال مکمل ہوگیا۔ اگر گزشتہ بارہ ماہ میں  ان کی کارکردگی (کرتوتوں ) پر نظر ڈالیں  تو لگتا ہے کہ ان کی بھتیجی کی پیشنگوئی حرف بحرف درست ثابت ہورہی ہے۔ ٹرمپ بلاشبہ اس وقت دنیا کے خطرناک ترین شخص نظر آرہے ہیں ۔ نئے سال کے آغاز کے ساتھ انہوں  نے جس ظالمانہ انداز میں  ایک آزاد اور خود مختار ملک وینزویلا کے منتخب صدر اور انکی بیوی کو امریکی فوج بھیج کر ان کے بیڈ روم سے اٹھوالیا، اس کے تیل کے وسیع ذخا ئر پر قبضہ کرلیا اور پورے ملک کا کنٹرول اپنے ہاتھوں  میں  لے لیاوہ ساری  اقوام عالم کیلئے ایک وارننگ ہے۔ ٹرمپ کی نظروں  میں  کسی ملک کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور سرحدوں  کی حرمت کی کوئی اہمیت نہیں  ہے۔ ٹرمپ نہ اپنے ملک کے آئین کی پاسداری کرتے ہیں  اور نہ ہی کوئی بین الاقوامی قانون مانتے ہیں ۔ وینزویلا پرفوجی مداخلت کے چند گھنٹوں  کے اندر ٹرمپ گرین لینڈکو ہتھیانے پر اصرارکرنے اور چند دنوں  کے اندر ایران پر بمباری کرنے کی دھمکی دینے لگے۔ خلیجی ریاستوں  نے منت سماجت کرکے ٹرمپ کو کسی طرح تہران کی تاراجی سے باز رکھا تاہم امریکی صدر ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو ٹھکانے لگا کر وہاں  رجیم چینج کیلئے ابھی بھی بیتاب ہیں ۔
 گرین لینڈڈنمارک میں  واقع دنیا کا سب سے بڑ اجزیرہ ہے۔ ٹرمپ برف سے ڈھکے اس جزیرہ کوہر قیمت پر حاصل کرنے پر اڑے ہوئے ہیں ۔ اگر ڈنمارک نے گرین لینڈکا سودا کرنے سے انکار کیا تو ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے حلیف یورپی ملک پر چڑھائی کرنے سے بھی گریز نہیں  کریں  گے۔ ٹرمپ نے نہ صرف ڈنمارک بلکہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی جیسے قریبی یورپی اتحادیوں  کو بھی الٹی میٹم دے دیا ہے کہ اگر انہوں  نے گرین لینڈ کو امریکہ کے حوالے نہیں  کیاتو نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہوجائیں ۔
 ٹرمپ پرنوبیل امن انعام کی حصولیابی کا بھوت اس قدر سوار ہے کہ ماریا کورینا مچاڈو نے چند روز قبل وہائٹ ہاؤس جاکر خود اپنے ہاتھوں  سے اپنا نوبیل میڈل اور سرٹیفکیٹ امریکی صدر کے حوالے کردیا تو امریکی صدر کی بانچھیں  کھل گئیں ۔ کیا کوئی انسان ایک انعام کیلئے اس قدر نیچے گرسکتا ہے کہ دوسرے کا انعام خوشی خوشی ہتھیا لے؟  ٹرمپ نے اس پر ہی بس نہیں  کیا بلکہ ناروے کے وزیر اعظم کو ایک خط لکھ ڈالا کہ آٹھ جنگیں  رکوانے کے باوجود انہیں  نوبیل انعام سے محروم رکھا گیا اس لئے اب ان سے امن کی توقع نہ کی جائے۔  ٹرمپ کے خبط نے ۸۰؍ سالہ امریکی۔ یورپی  نیٹو اتحاد کو ہی نہیں  عالمی امن کو بھی خطرے میں  ڈال رکھا ہے۔ 
ٹرمپ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے دعوے کرتے ہوئے اقتدار میں  آئے تھے لیکن اپنی آمرانہ طرز قیادت، غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں  اورجابرانہ رویوں  سے انہوں  نے پورے ملک میں  بدامنی اور تقسیم پھیلادی ہے۔ ان کی داداگیری سے امریکہ کے وفاقی ڈھانچہ کی دیرینہ ہم آہنگی اور توازن پارہ پارہ ہورہا ہے۔ ٹرمپ کی حکومت ان ریاستوں  کو چن چن کر نشانہ بنارہی ہے جہاں  ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت ہے۔ ٹرمپ نے ان امریکیوں  کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے جنہوں  نے ۲۰۲۴ء  کے انتخابات میں  انہیں  ووٹ نہیں  دیا تھا۔ ڈیموکریٹک ریاستوں  کو جنہیں  Blue States کہا جاتا ہے اپنے قدموں  میں  جھکانے کے ٹرمپ کے پلان کا بدصورت چہرہ منیسوٹا میں  نظر آرہاہے جہاں  حال میں  تارکین وطن کے خلاف جاری امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ  ICEکے ظالمانہ کریک ڈاؤن کے خلاف پر امن احتجاج کرنے والی ایک خاتون رینی گڈ کو خونخوار  انسپکٹر نے تین گولیاں  مار کر ہلاک کردیا۔ جائے وقوع پر موجود ایک ڈاکٹر نے جب زخمی رینی کو طبی امداد دینے کی کوشش کی تو آئس اہلکاروں  نے اسے روک دیا۔ اس ہولناک واقعے کے کئی چشم دید گواہ بھی ہیں  اور ویڈیو کلپ بھی ہیں  جن میں  کار میں  نہتی عورت کو بلاکسی اشتعال انگیزی کے قریب سے گولی مارے جانے کا ثبوت موجود ہے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ بنا کسی انکوائری رینی کو Domestic Terrorist قرار دے کر اس کی ہلاکت کو جائز قرار دے رہی ہے۔ تہران میں  ایرانی مظاہرین کو دبانے کے لئے کئے گئے سرکاری مظالم پر ٹرمپ کا دل اتنا تڑپتا ہے کہ وہ ایران کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دیتے ہیں  لیکن خود اپنے ملک میں  جسے دنیا کی قدیم ترین جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہ عوام اور میڈیا کی آزادی اظہار رائے کو کچلنے کیلئے ہمہ وقت تیار نظر آتے ہیں ۔   غیر قانونی تارکین وطن کی پکڑ دھکڑ کے نام پر اس وقت امریکہ میں  ایک قیامت برپا ہے۔ٹرمپ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ نہ صرف ذاتی دشمنوں  بلکہ ملک دشمنوں  کی طرح سلوک کررہے ہیں ۔ اس وقت امریکہ کی متعدد ریاستوں  میں  شہریوں  کے خلاف کی جارہی بربریت کی وجہ سےٹرمپ کی ICEکا موازنہ ہٹلر کی Gestapo سے کیا جارہا ہے۔
 
 
نیو یارک ٹائمز کے مقبول کالم نویس M.Gessan  نے ٹرمپ حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر ایک طویل مضمون لکھا ہے۔ خبطی اور نرگسیت پسند صدرکے ہاتھوں  امریکہ کے آئینی اداروں ، شہروں  اور امریکی شہریوں  کی جو درگت پچھلے بارہ ماہ سے بنائی جارہی ہے اس کا درد انگیز تذکرہ کرتے ہوئے Gessan نے لکھا ہے کہ اگر ابھی بھی ٹرمپ کو نہیں  روکا گیا تو پھر بہت دیر ہوجائے گی۔کالم نویس کا دعویٰ ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی شخص دور حاضرہ کے امریکہ کا مشاہدہ کرتا ہے تو اسے یہ گمان ہوگا کہ امریکی قوم خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ 
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK