مغربی بنگال میں انتخابی تشدد کی تاریخ پرانی ہے۔ دستیاب اعداددوشمار کے مطابق، حالیہ تاریخ میں ، ۲۰۰۶ء اسمبلی انتخابات میں ۵؍ افراد فوت ہوئے تھے۔ دو سال بعد پنچایتی انتخابات میں تشدد کا بازار اس حد تک گرم رہا کہ ۴۵؍ افراد نے جان گنوائی۔ ۲۰۰۹ء کے پارلیمانی انتخابات میں ۱۵؍ افراد اور ۲۰۱۱ء کے اسمبلی الیکشن میں ۱۷؍ افراد انتخابی تشدد کا شکار ہوئے تھے۔
مغربی بنگال میں انتخابی تشدد کی تاریخ پرانی ہے۔ دستیاب اعداددوشمار کے مطابق، حالیہ تاریخ میں ، ۲۰۰۶ء اسمبلی انتخابات میں ۵؍ افراد فوت ہوئے تھے۔ دو سال بعد پنچایتی انتخابات میں تشدد کا بازار اس حد تک گرم رہا کہ ۴۵؍ افراد نے جان گنوائی۔ ۲۰۰۹ء کے پارلیمانی انتخابات میں ۱۵؍ افراد اور ۲۰۱۱ء کے اسمبلی الیکشن میں ۱۷؍ افراد انتخابی تشدد کا شکار ہوئے تھے۔ اس کے بعد کی صورت حال کچھ اس طرح تھی: ۲۰۱۳ ء (پنچایت: ۲۰؍ افراد)، ۲۰۱۴ء (لوک سبھا ۷؍ افراد)، ۲۰۱۶ء (اسمبلی ۸)، ۲۰۱۸ء (پنچایت ۷۵)، ۲۰۱۹ء (لوک سبھا ۱۲)، ۲۰۲۱ء (اسمبلی ۱۷)، ۲۰۲۳ء (پنچایت ۵۷) اور ۲۰۲۴ء (لوک سبھا ۶؍ افراد)۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنچایتی انتخابات میں زیادہ ماردھاڑ ہوتی ہے اور جب جب بھی پنچایتی انتخابات ہوں ، سیکوریٹی کا بڑے پیمانے پر انتظام حق بجانب ہوگا مگر ۲۳؍ اور ۲۹؍ اپریل کو جو پولنگ ہوئی وہ پنچایت نہیں اسمبلی کیلئے تھی۔ اس کیلئے نیم فوجی دستوں کے ۲؍ لاکھ ۴۰؍ ہزار سپاہی درکار نہیں تھے، پھر بھی اتنی بڑی جمعیت تعینات کی گئی تو ملک کے عوام کو اس کی وجہ اب تک نہیں بتائی گئی۔ انتخابی کمیشن ضرور یہ دعویٰ کریگا کہ چند ایک واقعات کو چھوڑ کر تشدد کا کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوامگر وہ کس طرح اتنی بڑی جمعیت کے تعینات کئے جانے کا جواز دے گا؟
کولکاتا سے اشاعت پزیر روزنامہ ’’ٹیلیگراف‘‘ میں گزشتہ روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، گوبوردنگا اسمبلی حلقے (جنوبی پرگنہ) کے کوچیلا پرائمری اسکول پولنگ بوتھ پر دیشر علی مونڈل اور گنیش مجمدار نامی دو معمر رائے دہندگان کو سیکوریٹیکے لوگوں نے یہ کہہ کر گھر بھیج دیا کہ وہ لنگی پہنے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ جب وہ اپنے بیٹوں کے پتلون پہن کر لوَٹے تو اُنہیں ووٹ دینے کی اجازت دی گئی مگر اس ’’چھوٹے‘‘ واقعہ سے بڑا سوال پیدا ہوا کہ کیا کوئی نیا قانون بنایا گیا ہے کہ لنگی پہنا ہوا ووٹرووٹ نہیں دے سکتا؟ جب ہمارے کئی اراکین پارلیمان لنگی پہن کر پارلیمنٹ کی کارروائی میں شریک ہوسکتے ہیں تو لنگی پہن کر ووٹ کیوں نہیں دیا جاسکتا؟ انتخابی کمیشن کے ضابطوں میں کہیں نہیں لکھا ہوا ہے کہ شہری پولنگ کیلئے آئیں تو کون سا لباس زیب تن کرکے آئیں ۔ کیا رائے دہندگان کی حوصلہ شکنی کیلئے ایسا کیا گیا؟ الیکشن کمیشن کو جواب دینا چاہئے مگر سب جانتے ہیں کہ جو ادارہ بڑے سوالوں کے جواب نہیں دیتا وہ چھوٹے سوال کا جواب کیوں دے گا؟
ایسے اور بھی کتنے واقعات ہونگے جن کی رپورٹنگ نہیں ہوئی۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد ان میں سے اکثر واقعات کو فراموش کردیا جائیگا اور چند روز بعد لوگ انتخابی نتائج سے بحث کرنے لگیں گے۔ ملک کے چھوٹے سے چھوٹے الیکشن کیلئے جس طرح کی فضا بندی ہونے لگی ہے اور سیاسی درجۂ حرارت جتنا بلند ہو جاتا ہے اُس کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہیں کہ ہم جمہوریت کی فکر کم کرتے ہیں انتخابات کی زیادہ۔ہمیں جمہوریت کی فکر ہوتی تو کئی لاکھ ووٹروں کو ایس آئی آر کی وجہ سے ووٹنگ سے محروم نہ رہنا پڑتا۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ’’فری اینڈ فیئر‘‘ الیکشن کا جتنا بھی دعویٰ کریں ، یہ حقیقت اُن کا منہ چڑاتی رہے گی کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹر اپنے حق سے محروم رہے۔ کیا گیانیش کمار کہہ سکتے ہیں کہ یہ سارے ووٹ جعلی ہیں ؟ سب کے سب گھس پیٹھیوں کے نام ہیں ؟سب کے نام ایک سے زائد جگہوں پر درج ہیں ؟ تکنیکی بنیادوں پر ناموں میں فرق (لاجیکل ڈسکریپنسی) کو لاجیکل طریقے سے سمجھا جاسکتا تھا۔ یہ کیوں نہیں ہوا؟ ٹریبونل نے بھی چند سو نام ہی کلیئر کئے۔ کیا ایسا الیکشن ’’فری اینڈ فیئر‘‘ کہلائے گا؟