Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلور: کتب خانے میں پانی گھس گیا تو قارئین فکر مند ہو گئے، کیا اُردو قارئین میں ایسی فکر مندی ہے؟

Updated: May 01, 2026, 1:23 PM IST | Mumbai

اردو کتابیں ملنے کے متعدد مراکز بند ہوگئے ہیں جن میں محب بک ڈپو (جے جے ناکہ)قدوس کی لائبریری (جھولا میدان )، کلثوم بک ڈپو (غالباً وانجہ واڑی، ماہم ) اور دیگر شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ کئی کالجوں میں اردو کی کتابوں کا ذخیرہ ضائع ہو گیا۔

Books from Bangalore`s `Bookworm` book depot are being taught. Photo: INN
بنگلور کے ’بک ورم ‘ بک ڈپو کی کتابوں کو سکھایا جارہا ہے۔ تصویر: آئی این این

اردو کتابیں ملنے کے متعدد مراکز بند ہوگئے ہیں جن میں محب بک ڈپو (جے جے ناکہ)قدوس کی لائبریری (جھولا میدان )، کلثوم بک ڈپو (غالباً وانجہ واڑی، ماہم ) اور دیگر شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ کئی کالجوں میں اردو کی کتابوں کا ذخیرہ ضائع ہو گیا۔  حالانکہ آج بھی شہر میں کریمی لائبریری ، کتب خانۂ محمدیہ (جامع مسجد ، ممبئی )، مکتبہ جامعہ (جے جے مارگ) اور کتاب دار (ٹیمکر محلہ)موجود ہیں لیکن وہاں کتنے لوگ جاتے ہیں اور کتابیں خریدتے ہیں ؟ اس کے برعکس بنگلور میں بدھ کو ہونے والی طوفانی بارش اور ژالہ باری نے جہاں شہر کو بری طرح متاثر کیا وہیں انگریزی کتابیںفروخت کرنے والے  مشہورکتب خانہ کو بھی شدیدنقصان پہنچایا ۔یہ کتب خانہ جس کا نام ’’بک ورم‘‘( The Bookworm) ہے سیلابی پانی کی زد میں آ گیا۔ چرچ اسٹریٹ پر واقع اس مشہور بک اسٹور میں پانی داخل ہونے کے باعث تقریباً ۵؍ ہزارکتابیں خراب ہوگئیں، جن کی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ یہ بک اسٹور شہر کے ادبی حلقوں میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اور کتاب دوست افراد کیلئے ایک ثقافتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔واقعے کے اگلے ہی دن یعنی جمعرات کو ایک متاثر کن منظر دیکھنے کو ملا جب بڑی تعداد میں قارئین اور مقامی شہری اسٹور کی مدد کیلئے آگے آئے۔ لوگوں نے نہ صرف مالی مدد کی پیشکش کی بلکہ خراب ہونے والی کتابوں کو صاف کرنے اور بک اسٹور کو دوبارہ بحال کرنے میں حصہ لینے کی بھی پیشکش کی ۔سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کے بعد ہمدردی اور حمایت کی لہر دیکھی گئی جہاں لوگوں نے اس بک اسٹور کو بچانے کیلئے ہیش ٹیگ بھی چلائے اور دوسروں کو تعاون کی ترغیب دی۔ حالانکہ بک اسٹور کے انتظامیہ نے اپنے انسٹا گرام پر متعدد تصایر اپ لوڈ کرتے ہوئے سبھی کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ وہ کتابوں کو سکھانے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ لیکن اگر کسی کو کوئی کتاب چاہئے تو اسٹور اُن کیلئےہمیشہ کی طرح کھلا ہے۔ یاد رہے کہ اس بک اسٹور نے ۲۳؍ اپریل کو عالمی یوم کتاب کے موقع پرخصوصی پروگرام منعقد کرتے ہوئے اپنے ہر وزیٹر کیلئے سرپرائز بک کا تحفہ دیا  تھا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK