Inquilab Logo Happiest Places to Work

بل کی نامنظوری اور راہل کا معمہ

Updated: April 18, 2026, 2:04 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

پارلیمنٹ میں جس بل پر کل شام تک بحث جاری تھی، اُس کا تعلق لوک سبھا کے حلقوں کی از سر نو تشکیل سے تھا۔ حکومت چاہتی ہے کہ لوک سبھا کی سیٹیں بڑھا کر ۸۵۰ (کم و بیش) کردی جائیں ۔ یہ منصوبہ حالیہ نہیں ہے۔

INN
آئی این این
پارلیمنٹ میں  جس بل پر کل شام تک بحث جاری تھی، اُس کا تعلق لوک سبھا کے حلقوں  کی از سر نو تشکیل سے تھا۔ حکومت چاہتی ہے کہ لوک سبھا کی سیٹیں  بڑھا کر ۸۵۰ (کم و بیش) کردی جائیں ۔ یہ منصوبہ حالیہ نہیں  ہے۔ یاد کیجئے پارلیمنٹ کی نئی بلڈنگ میں  نشستیں  بھی زیادہ بنائی گئی ہیں ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ لاک ڈاؤن سے بھی بہت پہلے جب پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا تانہ بانہ بُنا جارہا ہوگا تب ہی لوک سبھا کی سیٹوں  میں  اضافے کا پختہ منصوبہ رہا ہوگا۔ خیر، حکومت جانتی تھی کہ آئین میں  ترمیم کا بل ہے اسے دو تہائی اکثریت کے ذریعہ ہی منظور کروایا جاسکے گا اس لئے، اس نے حد بندی کے منصوبے کو خواتین ریزرویشن کے اُس بل سے جوڑنے کی کوشش کی جو ستمبر ۲۰۲۳ء میں  منظور کیا جاچکا ہے تاکہ اگر دو تہائی اکثریت نہ ملے تب بھی اپوزیشن کو خواتین ریزرویشن کے معاملے میں  زیر کیا جاسکے بالخصوص ایسے وقت میں  جبکہ مغربی بنگال کیلئے آئندہ ہفتے پولنگ ہونی ہے۔ اگر ایسا ہے تب بھی یہ خراب منصوبہ بندی کا اشاریہ ہے کیونکہ خواتین ریزرویشن کے موضوع پر اتنے ووٹ نہیں  مل سکتے۔ مغربی بنگال کے عوام جانتے ہیں  کہ یہ بل پہلے ہی منظور کروا لیا گیا تھا۔ اُنہیں  یہ بھی علم ہے کہ اگر حکومت چاہتی تو اسے ۲۰۳۴ء میں  نافذ کرنے کے منصوبے کے بجائے ستمبر ۲۰۲۳ء ہی میں  نافذ کردیتی  مگر اس نے ایسا نہیں  کیا۔ چنانچہ اس سے اتنے ووٹ حاصل کرنا ممکن نہیں  ہوگا جتنا کہ اندازہ لگایا گیا ہوگا۔ البتہ اس سے حکومت کی ہزیمت ضرور ہوئی ہے کیونکہ جب سے این ڈی اے کی موجودہ حکومت وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں  معرض وجود میں  آئی ہے تب سے کوئی بل ایسا نہیں  ہے جو منظور نہ ہوا ہو۔ یہ پہلا موقع ہے جب حکومت کو بل کی نامنظوری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 
اس ناکامی سے یہ بھی واضح ہوا کہ اس مرتبہ اپوزیشن کے اتحاد کو دھچکہ نہیں  لگا اور کراس ووٹنگ نہیں  ہوئی ورنہ اپوزیشن کے ساتھ حالیہ برسو ں میں  یہ بڑا مسئلہ رہا کہ اس کے ووٹ ٹوٹے اور فائدہ حکومت نے اُٹھایا۔ اپوزیشن کے تیور کی وجہ اُس کا یہ ایقان تھا کہ بل منظور نہیں  ہوپائے گا۔ اسی لئے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پورے وثوق سے کہا تھا کہ اسے ناکامی کا مزا چکھنا ہوگا۔ یہاں  یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ راہل اب خود کو منوانے لگے ہیں ۔ اُن کے مخالفین بھی یہ کہتے ہوئے سنے لگے ہیں  کہ اُنہوں  نے آج تک کوئی ایسا بیان نہیں  دیا جسے واپس لینے کی نوبت آئی ہو۔ اُنہوں  نے جو کہا ببانگ دہل کہا اور کبھی اپنے الفاظ سے پیچھے نہیں  ہٹے۔ گزشتہ روز ایوان میں  اُنہو ں نے ایک معمہ کے ذریعہ سب کو چونکایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ آج کی (کل کی) تاریخ ۱۶؍ کا عدد بہت اہم ہے، جو کچھ کیا جارہا ہے اُس کا سبب یہ عدد ہے جسے انگریزی میں  پڑھئے سکسٹین۔ اُنہوں  نے اراکین پارلیمان سے کہا کہ اس معمے کو حل کیجئے اور مجھے ٹویٹر پر جواب بھجوائیے۔ جو لوگ اس معمے کو حل کرپائے ان کا کہنا تھا کہ  سکسٹین ایپسٹین سے مشابہ ہے، اگر راہل ایپسٹین کا نام لینا چاہتے تو ایوان میں  اس کی اجازت نہ ملتی اس لئے اُنہوں  نے اس کا ہم قافیہ لفظ استعمال کیا جو اتفاق سے گزشتہ روز کی تاریخ بھی تھی۔ ہم نہیں  جانتے کہ یہ جواب درست ہے یا نہیں  مگر اتنا ضرور جان گئے ہیں  کہ اب راہل، جن کے بارے میں  کہا جاتا تھا کہ بات کرنا نہیں  جانتے ، جان گئے ہیں  کہ بات کیسے کی جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK