ایران اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں مذاکرات کے ساتھ سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: April 18, 2026, 3:01 PM IST | Tehran
ایران اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں مذاکرات کے ساتھ سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی ناکہ بندی برقرار رہی تو ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ایک طرف مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، دوسری طرف سخت بیان بازی بھی رُکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو ایران آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔ قالیباف کی جانب سے یہ انتباہ امریکی صدر کے ذریعہ ناکہ بندی کو ’پوری طرح سے نافذ‘ رکھنے کے اعلان کے فوراً بعد آیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ٹرمپ پر ایک گھنٹے میں ۷؍جھوٹے دعوے کرنے کا بھی الزام لگایا۔
۱- رئیس جمهور آمریکا در یک ساعت هفت ادعا مطرح کرد که هر هفت ادعا کذب است.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 17, 2026
۲- با این دروغگوییها در جنگ پیروز نشدند و حتما در مذاکره هم راه به جایی نخواهند برد.
۳- با ادامهٔ محاصره، تنگهٔ هرمز باز نخواهد ماند.
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے مقررہ راستے کا تعین صرف ایرانی حکام کی اجازت سے کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کھلا نہیں رہے گا۔ یہ بیان ایران کی جانب سے جنگ بندی کے باقی ماندہ تمام تجارتی جہازوں کیلئے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ لبنان میں ہوئی جنگ بندی کے مطابق آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی جہازوں کے گزرنے کو جنگ بندی کی باقی میعادکیلئے مکمل طور پر کھلا قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایران کی بندرگاہوں اور میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے پہلے سے اعلان کردہ مربوط راستے پر ہی نافذ ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ بندی پیش رفت کیلئے امریکہ اور حماس کے درمیان براہِ راست مذاکرات : رپورٹ
اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے صاف کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہونے تک آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ حالانکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عمل بہت جلد مکمل ہو جائے گا کیونکہ رکاوٹوں پر پہلے ہی بات ہو چکی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ’دوبارہ بمباری شروع کر سکتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ میں اس میں توسیع نہ کروں لیکن ناکہ بندی (ایرانی بندرگاہوں پر) جاری رہے گی۔ اس لئے ناکہ بندی ہے اور بدقسمتی سے ہمیں دوبارہ بمباری شروع کرنا پڑے گی۔ ٹرمپ کے بیان پر قالیباف نے جواب دیا کہ آبنائے ہرمز کھلا رہے گا یا بند اور اس پر کنٹرول کرنے والے قوانین زمینی سطح پر طے کئے جائیں گے سوشل میڈیا پر نہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے ’ایک گھنٹے میں ۷؍ دعوے‘کئے ہیں جن میں سبھی ’جھوٹے‘ تھے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ دعوے کیا تھے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا: لبنان جنگ بندی پر شہریوں کامحتاط اظہارخوشی
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز ایک اہم آبی گزرگاہ ہے، جس سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی ہوتی ہے۔ ایران جنگ کے دوران تقریباً دو ماہ تک اس کی بندش نے کئی ممالک میں خام تیل کی قیمتوں اور سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ اب جب کہ ایران نے اسے مکمل طور پر دوبارہ کھول دیا ہے، یہ واضح نہیں ہے کہ تجارتی بحری جہاز آپریشن دوبارہ شروع کرنے کیلئے کتنے پُراعتماد ہوں گے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ جہاز واضح حفاظتی ضمانتوں کا انتظار کررہے ہیں۔