بڑی ٹوٹ پھوٹ یا تو ناراضگی کے سبب ہوتی ہے یا ای ڈی اور سی بی آئی کے خوف کے سبب۔ ٹی ایم سی کے معاملے میں سوال یہ ہے کہ لوگ اچانک ناراض کیوں ہوئے اور مرکزی ایجنسیوں کا خوف اچانک کیوں پیدا ہوا؟ اگر اس کی وجہ یہ ہے کہ اب مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کی حکومت نہیں ہے، تب بھی یہ کوئی ایسی بات نہیں جس سے خوفزدہ ہوا جائے۔
بڑی ٹوٹ پھوٹ یا تو ناراضگی کے سبب ہوتی ہے یا ای ڈی اور سی بی آئی کے خوف کے سبب۔ ٹی ایم سی کے معاملے میں سوال یہ ہے کہ لوگ اچانک ناراض کیوں ہوئے اور مرکزی ایجنسیوں کا خوف اچانک کیوں پیدا ہوا؟ اگر اس کی وجہ یہ ہے کہ اب مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کی حکومت نہیں ہے، تب بھی یہ کوئی ایسی بات نہیں جس سے خوفزدہ ہوا جائے۔ ریاستی حکومت کا مرکزی ایجنسیوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور مغربی بنگال میں جب ٹی ایم سی کی حکومت تھی، چھاپے اور گرفتاری تو تب بھی ہوئی۔ پھر ٹی ایم سی کے نومنتخب اراکین میں پارٹی کے الیکشن ہارتے ہی اتنی حساسیت کیوں پیدا ہوگئی؟ یہ سوال اُن اراکین پارلیمان کے معاملے میں اور بھی زیادہ اہم ہوجاتا ہے جو ۲۰۲۴ء میں منتخب ہوئے اور دو سال سے ایم پی ہیں ۔ کل تک انہیں ممتا بنرجی سے شکایت نہیں تھی اور اگر تھی بھی، بالخصوص ابھیشیک بنرجی کے تعلق سے، تو اسمبلی انتخابات کے نتائج سے پہلے کیا پارٹی کے الگ الگ فورموں میں یہ معاملہ نہیں اُٹھایا گیا تھا؟
ہمارا اصرار ’’اچانک‘‘ پر ہے۔ اسی ’’اچانک‘‘ پر غور کرتے ہوئے ہمیں لگتا ہے کہ اچانک کچھ نہیں ہورہا ہے بلکہ اسمبلی انتخابات کے کافی پہلے سے اراکین پارلیمان کو برگشتہ کرنے کی کوئی مہم جاری کی گئی ہوگی۔ اراکین پارلیمان نے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا انتظار کرنا ضروری سمجھا ہوگا تاکہ ہوا کا رُخ دیکھنے کے بعد فیصلہ کریں ۔ جیسے ہی نتیجہ آیا، جو لوگ آدھا ذہن بنا چکے تھے انہوں نے پورا ذہن بنالیا۔ ہماری نظر میں اراکین اسمبلی کا معاملہ اتنا بڑا نہیں ہے، ہر چند کہ وہ تعداد میں (۸۰؍ میں سے) ۶۰؍ ہیں ، جتنا اراکین پارلیمان کا ہے۔ ان کے پالہ بدلنے سے مرکز میں قانون سازی پر اثر پڑے گا۔ حکومت، اراکین پارلیمان کی تعداد کے سبب جو قانون چاہے گی بنالے گی۔ بہرحال، مخالف خیمے کے عزائم جو بھی ہوں ، وہ لوگ کیوں آلۂ کار بن رہے ہیں جو ٹی ایم سی کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑ کر جیتے اور اب تک ممتا بنرجی کے ساتھ تھے؟ ان میں سیونی گھوش جیسوں کا نام آنا بذات خود کئی سوال اُٹھاتا ہے۔ کل ہی وہ کاغذات منظر عام پر آئے جو مبینہ طور پر لوک سبھا کے اسپیکر کو پیش کئے گئے (ٹیلی گراف کے مطابق لوک سبھا کے ذرائع نے کسی مکتوب کی توثیق نہیں کی) اور مطالبہ کیا گیا کہ اِن ۱۹؍ اراکین کو این ڈی اے کا حصہ مانا جائے۔ کاغذات پر ۱۹؍ (اراکین پارلیمان) کے دستخط ہیں ۔ ان میں سیونی گھوش کا نام بھی ہے اور یوسف پٹھان کا بھی۔ اگر دستخط کے معاملے میں کوئی دھاندلی ہوئی ہے اور انہیں باغی گروپ میں شامل نہیں ہونا ہے تو آسنسول کے ممبر پارلیمنٹ شتروگھن سنہا یا جے نگر کی نمائندگی کرنے والی رُکن پارلیمان پرتیما منڈل کی طرح کسی اور رکن پارلیمان نے وضاحتی بیان کیوں نہیں دیا؟
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ویڈیو میں ٹی ایم سی لیڈر کیرتی آزاد نے کہا ہے کہ ابتداء میں ۸؍ اراکین پارلیمان تھے، بعد میں کئی نام جوڑے گئے، ان میں وہ بھی ہیں جو ابھی مانے نہیں ہیں مگر اُنہیں ڈرایا دھمکایا جارہا ہے نیز پیسوں کا لالچ دیا جارہا ہے، اور وہ بھی ہیں جن کا دستخط جعلی بتایا جارہا ہے۔ یہ یکطرفہ دعویٰ ہے۔ سوال یہ ہے کہ جنہیں مبینہ طور پر ڈرایا دھمکایا جارہا ہے اور وہ جن کا دستخط جعلی ہے اور جنہیں بلاوجہ بدنام کیا جارہا ہے، کیوں سامنے نہیں آتے؟
لگتا ہے کہ باغی اراکین پارلیمان کی سربراہ کاکولی گھوش کو اب تک ۱۹؍ اراکین کا سپورٹ نہیں ملا ہے جو دو تہائی تعداد کی شرط پورا ہونے کیلئے ضروری ہے۔