Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی بی ایس ای اسکولوں پر کیا یہ جبر نہیں ؟

Updated: April 12, 2026, 2:43 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

سی بی ایس ای بورڈ نے تمام متعلقہ اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ طلبہ کو تین زبانیں پڑھائی جائیں ۔ یہ فیصلہ اتنا اچانک ہوا ہے کہ اسکولوں کے انتظامیہ اور اساتذہ پر جیسے مصیبت آن پڑی ہے۔

INN
آئی این این
  سی بی ایس ای بورڈ نے تمام متعلقہ اسکولوں   کو ہدایت دی ہے کہ طلبہ کو تین زبانیں   پڑھائی جائیں  ۔ یہ فیصلہ اتنا اچانک ہوا ہے کہ اسکولوں   کے انتظامیہ اور اساتذہ پر جیسے مصیبت آن پڑی ہے۔ اُن سے کہا گیا ہے کہ تیسری زبان پڑھانے کا سلسلہ ’’فوراً‘‘ شروع کیا جائے اور آپ کیا کررہے ہیں   اس کی رپورٹ سات دنوں   میں   جمع کی جائے۔ اِدھر کچھ عرصہ سے بار بار کے احکامات سے اساتذہ کی درگت بنی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اُنہیں   کسی سازش کے تحت ہدف بنایا جارہا ہے۔ ملک بھر میں   سی بی ایس ای کے تحت چلنے والے اسکولوں   کی تعداد تیس ہزار سے زائد ہے۔ ان میں   سب سے زیادہ اسکول جو سی بی ایس ای سے ملحق ہیں  ، یوپی میں   ہیں  ۔ اس سلسلے میں   مہاراشٹر بھی پیچھے نہیں   ہے جہاں   اس بورڈ کے تحت جاری اسکولوں   کی تعداد ۵۸۱۲؍ بتائی جاتی ہے۔ مسئلہ صرف یو پی کا ہے نہ صرف مہاراشٹر کا، مسئلہ پورے ملک کا ہے کیونکہ اِس بورڈ کا نصاب بیشتر اسکولوں   میں   پڑھایا جاتا ہے۔ پریشان اساتذہ کا کہنا ہے کہ اُنہیں   ایک اور زبان پڑھانے سے کوئی دقت نہیں   ہے۔ دقت اگر ہے تو یہ کہ بورڈ کی جانب سے یہ تنبیہ اچانک کی گئی ہے۔ اس کیلئے نہ تو ماحول بنایا گیا نہ ذہن سازی کی گئی۔ نہ اساتذہ کی تربیت ہوئی نہ ہی زائد ٹیچر فراہم کئے گئے۔ حد تو یہ ہے کہ نصاب تک تیار نہیں   ہے۔ درسی کتابوں   کا ٹھکانہ نہیں   ہے۔ کہا گیا ہے کہ بس پڑھانا شروع کیجئے، نصاب آجائیگا، درسی کتب بھی فراہم کردی جائینگی، فی الحال جیسے بھی پڑھا سکتے ہوں   پڑھائیے۔ 
اگر اساتذہ تیار بھی ہوجائیں   تو سوال یہ ہے کہ کیا اسکول میں   ایسے فاضل بمعنی ایکسٹرا اساتذہ ہیں   جن کو تیسری زبان پڑھانے کی ذمہ داری دی جائے؟ ہر اسکول میں   ایسا ہونا ممکن نہیں   ہے۔ بالفرض یہ مسئلہ حل کرلیا گیا تب بھی جو فاضل ٹیچر ہے یا جس ٹیچر کو ایک اور زبان پڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی کیا اُس نے وہ زبان پڑھی ہے، کیا اُس کی قابلیت ہے کہ وہ اُسے پڑھا سکے؟ 
ہم سابقہ کالموں   میں   ’’زیادہ زبانیں  ‘‘ پڑھائے جانے اور بچوں   کے ذریعہ پڑھے جانے کی وکالت کرچکے ہیں   مگر سی بی ایس ای بورڈ سے وابستہ اساتذہ کی شکایات بے جا نہیں   ہیں  ۔ زبانیں   ضرور پڑھائی جانی چاہئیں   مگر وسائل کی فراہمی بھی اہم ہے۔ آپ ایکسٹرا ٹیچر نہ دیں   اور کہیں   کہ ایکسٹرا زبان پڑھائیے، کل تک دو زبانیں   پڑھاتے تھے اب تین پڑھائیے، نصاب نہیں   ہے تب بھی پڑھائیے اور یہ سلسلہ فوراً شروع کیجئے تو یہ ہدایت نہیں   ایک نئی اُفتاد ہے جس کے خلاف مزاحمت ہونی چاہئے بالخصوص والدین کو اس سلسلے میں   آگے آنا چاہئے۔ اسکول زیادہ مزاحمت نہیں   کرسکتے۔ کر بھی نہیں   پائینگے۔ اُن کی اپنی مجبوریاں   ہیں   مگر والدین، سماجی و تعلیمی تنظیمیں   اور ذرائع ابلاغ مخلصانہ کردار ادا کرسکتے ہیں   اگر وہ چاہیں  ۔ آج کل چاہنا بھی آسان نہیں   ہے۔ ہر شخص یہ دیکھتا ہے کہ کیا مَیں   زد میں   آرہا ہوں  ؟ اگر وہ زد میں   نہیں   آرہا ہے تو وہ خاموش تماشائی بننا پسند کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو پستا ہے وہ پستا ہی رہتا ہے۔ بڑے اسکول جن کے وسائل زیادہ ہیں  ، بہتر انتظام کرلیں   گے مگر چھوٹے اسکول جن کے پاس پہلے ہی سے اساتذہ کم ہیں  ، اس ہدایت کو کیسے عمل میں   لاسکیں   گے؟ ہم کہتے ہیں   سب کچھ ہوجائے گا مگر اچانک کوئی فیصلہ نافذ کرنے کی کوشش کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا یہ جبر نہیں  ؟
education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK