Inquilab Logo Happiest Places to Work

غلیل کا نشانہ

Updated: April 11, 2026, 11:36 AM IST | Mehtab Sabri | Mumbai

پڑھئے تجسّس رکھنے والے ایک بچّے کی دلچسپ کہانی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

انجم کو گونگے نوکر کی کوئی چیز اگر بھائی، تو وہ تھی اُس کی کھوپڑی، منڈی ہوئی چکنی، چمکدار کھوپڑی۔ انجم کی انگلیاں اُس چکنے انڈے پر پھسلنے کے لئے مچلتی رہتیں، مگر آج تک انجم کو اتنی ہمت نہ ہوئی کہ اُس کے سَر کو نظر بھر دیکھ بھی سکے۔
گونگے کو گھر میں نوکر ہوئے ابھی کچھ ہی مہینے ہوئے تھے۔ پہلی بار انجم نے جب اُس کی کھوپڑی کو غور سے دیکھا تھا تو مسکرا دیا تھا۔ اور گونگے نے فوراً اسے اپنی خونی آنکھوں سے اس طرح گھورا تھا کہ انجم کو اُس سے دوبارہ آنکھیں چار کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔
لیکن آج گونگے رحمو نے اپنی کھوپڑی انجم کی گود میں ڈال دی تھی۔ انجم کو تو گویا سارا جہان ہی مل گیا تھا۔ وہ بڑے آرام سے رحمو کے سَر کو سہلا رہا تھا، اُس کی چمپی کر رہا تھا۔ اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی پیتل کی ہانڈی پر ہاتھ پھیر رہا ہے اور اگر اُس پر ٹھینگا مارا جائے، تو ٹھن کی آواز سے کمرہ گونج اُٹھے گا۔ یہ خیال آنا تھا کہ اُس نے پوری طاقت سے اُس کے سَر پر ٹھینگا مارا۔ کمرہ تو جھنجھنا اُٹھا مگر خود اس کی سٹّی بھی گم ہوگئی۔ رحمو اُسے اپنی خونی آنکھوں سے گھور رہا تھا۔ اچانک رحمو نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر مروڑنا شروع کر دیا۔ انجم نے چلّانا چاہا مگر آواز نہ نکل سکی۔ ہاتھ مروڑ کر رحمو نے اتنی زور سے انجم کے گال پر طمانچہ مارا کہ اُس کی آنکھوں میں بجلی سی کوند گئی اور وہ کونے میں جا گرا۔
ایک دم انجم کی آنکھ کھل گئی۔ بہت بھیانک خواب تھا۔ کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا اور باہر سے غصے میں ٹامی کے غرانے کی آواز آرہی تھی۔ انجم نے روشنی کے لئے بٹن دبایا، مگر بجلی بند تھی۔

یہ بھی پڑھئے: شامت

اچانک ٹامی بڑے زور سے بھونکنے لگا۔ انجم نے کھونٹی سے غلیل اتاری اور دو چار گولیاں جیب میں ڈال کر کھڑکی کھولنے لگا، کیونکہ کبھی کبھی گلیوں کے آوارہ کتّے کمپاؤنڈ میں گھس آیا کرتے تھے ٹامی شاید ان ہی پر بھونک رہا تھا۔
باہر ہلکی چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ انجم کو ٹامی بندھا دکھائی دیا۔ وہ غصے میں بھونک رہا تھا اور بار بار پچھلے دو پیروں پر کھڑا ہو رہا تھا رات کو ٹامی کھلا بھی رہتا تھا، مگر آج کسی نے اُسے باندھ دیا تھا۔
انجم غلیل میں گولی رکھتا ہوا باہر نکل گیا۔ اتنے میں نوکروں کے کوارٹروں کی طرف سے چور....! چور....! کی آوازیں آنے لگیں۔ ابھی انجم کچھ سمجھا بھی نہیں تھا کہ کوئی غسل خانے کی دیوار پھاند کر پچھلی گلی میں کود گیا۔
انجم پہلے تو ٹھٹکا، پھر وہ بھی چور کے پیچھے لپکا۔ پیچھے نوکروں کی فوج شور مچاتی آرہی تھی۔ چور گلی سے نکل کر اب پچھواڑے کے میدان میں دوڑ رہا تھا۔ انجم نے پیچھا جاری رکھا۔ مگر چور سے اُس کی دوری ہر لمحے بڑھتی جا رہی تھی۔ یکایک اُس کے دماغ میں ایک ترکیب آئی۔ وہ رک گیا اور اُس نے غلیل سے بھاگتے ہوئے چور کے سَر کا نشانہ لگایا۔ لیکن شاید انجم کی گولی چوک گئی۔ چور بھاگتا رہا۔ میدان کے چاروں طرف قریب آٹھ فٹ اونچی چار دیواری تھی۔ چور اُسی پر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ انجم کو اچھا موقع ملا۔ اُس نے غلیل میں دوسری گولی رکھی، بڑے اطمینان سے نشانہ باندھا اور تان کر گولی چھوڑ دی۔ چور دیوار پر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ گولی ٹھیک اُس کی بائیں پنڈلی پر لگی۔ وہ اپنے کو سنبھال نہ سکا۔ اس کے منہ سے ’’ارے باپ رے!‘‘ کی دردناک چیخ نکلی اور وہ گر پڑا۔
انجم نے نوکروں کو آواز دی، مگر چور بھی بڑا پھرتیلا تھا۔ فوراً اُٹھ کر دیوار پر چڑھ گیا۔ جب تک لوگ وہاں پہنچے، وہ دوسری طرف کود چکا تھا۔ دوسری طرف سے جانے کیلئے ایک دروازہ تھا، مگر اُس پر تالا لگا ہوا تھا اور وہ بھی دوسری طرف سے۔ سب موقع پر آچکے تھے۔ نوکروں کے ہاتھوں میں موٹی موٹی لاٹھیاں تھیں۔ ڈیڈی کے ہاتھ میں ٹارچ تھی اور ممی نے تو آتے ہی انجم کو لپٹا لیا۔
ڈیڈی نے ٹارچ جلائی۔ انجم کی جاسوسی کی رگ پھڑک اُٹھی تھی۔ دھیان سے زمین کو دیکھ رہا تھا مگر زمین ٹھوس اور سوکھی تھی۔ اس پر کوئی نشان نہ تھا۔ اتنے میں اُس کی نظر ایک بٹوے پر پڑی۔ سب اُس پر جھک گئے۔ بٹوہ کسی امیر آدمی کا معلوم ہوتا تھا، مگر اس وقت اُس میں بس ایک ایک روپے کے دو نوٹ اور کچھ ریزگاری تھی۔ آگے تلاش کرنے پر انجم کو ایک نئی چابی ملی۔ یہ کوئی خاص چیز نہیں تھی پھر بھی انجم نے اُسے جیب میں ڈال لیا۔

یہ بھی پڑھئے: نیکی کا پھل

دوسرا دن سارا ہنگاموں میں ہی بیتا۔ ڈیڈی نے اس واقعہ کی رپورٹ پولیس میں کر دی تھی۔ بٹوہ اور ریزگاری پولیس کو سونپ دی گئی۔ بٹوے پر شہر کے مشہور سیٹھ جلیل شاہ کا کارڈ تھا۔ جلیل شاہ سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ پچھلے مہینے میں اُن کا بٹوہ چوری ہوگیا تھا، مگر اس میں زیادہ پیسے نہیں تھے۔
انجم کے گھر میں چوری کا یہ پہلا نہیں، اس مہینے کا تیسرا واقعہ تھا۔ پچھلی بار تو انجم ہی کی الارم گھڑی کسی نے اڑائی تھی۔ اصغر بھیّا کا ٹرانزسٹر سیٹ ایک دن کباڑی کی دُکان میں ملا تھا۔ مگر اس بار کا یہ واقعہ زیادہ خطرناک تھا۔ ممی کے کمرے کی تجوری ٹوٹی ہوئی ملی تھی۔ کوئی قیمتی زیور تو خیر نہیں گیا تھا، مگر قیمتی نگینوں کا ڈبہ ضرور غائب ہوچکا تھا۔
دن گزرتے رہے۔ چور کی کھوج کے لئے خوب دوڑ دھوپ کی گئی، لیکن کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔ ویسے احتیاط کیلئے ایک پٹھان کو چوکیداری کے لئے رکھ لیا گیا تھا۔ سبھی اس واقع کو بھول چکے تھے انجم بھی مزے میں تھا رحمو کا سپنے میں کھایا ہوا طمانچہ اسے اب یاد نہ رہا تھا۔ اُسے پھر اس کی کھوپڑی پیاری لگنے لگی تھی۔
شام کا وقت تھا۔ انجم اپنی غلیل میں نئی اور سخت ربڑ لگا رہا تھا، کیونکہ آج ایک کوّا اُس سے گھائل ہو کر بھی اُڑتا چلا گیا تھا۔ انجم نے ایک گولی غلیل میں رکھی اور نشانے کیلئے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ یکایک اُس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
رحمو اپنے سَر پر گھڑا رکھے دوسری طرف جا رہا تھا۔ انجم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، دائیں آنکھ دبا کر گھڑے پر نشانہ لگایا۔ گولی سنسناتی ہوئی چلی اور انجم آڑ میں چھپ گیا۔ لمحہ بھر میں اُس نے ’’ارے باپ رے‘‘ کی دردناک چیخ سنی۔ انجم نے جھانک کر دیکھا، رحمو زمین پر بھونچکا بنا بیٹھا تھا۔ اس کا سَر کا گھڑا پھوٹ گیا تھا۔ انجم کا چہرہ یکایک سنجیدہ ہوگیا اور وہ چپ چاپ کھسک کر ڈیڈی کے کمرے میں چلا آیا۔ اس نے ٹیلیفون کا ریسیور اُٹھایا اور کسی کے نمبر ملانے لگا۔
’’ہیلو، پولیس اسٹیشن!‘‘ اس نے کہا ’’جی، مَیں قیوم صاحب کا لڑکا بول رہا ہوں۔ ہمارے گھر میں جس نے چوری کی تھی وہ پکڑا گیا ہے.... جلد آئیے.... بہت جلد!‘‘
پھر وہ کمرے سے نکل کر باہر آگیا اور پولیس کا انتظار کرنے لگا۔ دس منٹ میں پولیس کی گاڑی آتے ہی انجم سپاہیوں کو لے کر فوراً اندر چلا گیا۔ گھر میں کھلبلی مچ گئی۔ رحمو کو گرفتار کر لیا گیا۔ انسپکٹر نے اُسے جانا پہچانا چور بتاتے ہوئے انجم کی پیٹھ تھپتھپائی۔
ڈیڈی گھر میں نہیں تھے۔ وہ بھی خبر پاکر دفتر سے دوڑے ہوئے آئے۔ انہوں نے انجم کی پیٹھ ٹھونکی اور پوچھا ’’تو تمہیں اُس پر پہلے ہی سے شک تھا؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: گیت گایا کوے نے

’’جی نہیں میں تو اسے بالکل بدھو اور گونگا سمجھتا تھا مگر غلیل کی گولی اُس کے سَر پر رکھے ہوئے گھڑے پر لگی تو اس کی چیخ سن کر میں چونک گیا۔‘‘ ’’کیوں؟‘‘ ممی مسکرائیں۔
’’سیدھی سی بات ہے گونگے کے منہ سے ’ارے باپ رے!‘ سن کر کون نہیں چونکتا؟‘‘ انجم نے آواز میں سنجیدگی لانے کی کوشش کی۔
’’پھر ایک وجہ اور بھی تھی۔‘‘ انجم نے آگے کہا ’’اُس کی چیخ ٹھیک ویسی ہی تھی جیسی میں نے اُس دن چار دیواری پھاندتے وقت چور کی سنی تھی۔‘‘
’’ثبوت ٹھوس نہیں رہا۔‘‘ ڈیڈی نے کہا۔
انجم مسکرا دیا ’’اُس کی پنڈلی پر غلیل کی چوٹ ہے۔ پھر چور کے بھاگتے وقت جو ایک نئی چابی مجھے ملی تھی وہ رحمو کے صندوق کے تالے کی ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
اچانک ٹامی بھونکنے لگا۔ اندھیرا پھیل چکا تھا۔ انجم غلیل سنبھالتا ہوا باہر بھاگا۔
ڈیڈی نے مسکرا کر کہا ’’بھئی اب کی بار یہ چور نہیں، پڑوس کا کتّا ہوگا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK