معروف انگریز شاعر اور مصنف جان کیٹس کی شہرہ آفاق نظم ’’لا بیل دیم سینس میرسی‘‘ La Belle Dame sans Merciکا اردو ترجمہ۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 7:35 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
معروف انگریز شاعر اور مصنف جان کیٹس کی شہرہ آفاق نظم ’’لا بیل دیم سینس میرسی‘‘ La Belle Dame sans Merciکا اردو ترجمہ۔
وہ ایک سنسان میدان تھا جہاں ہوا بھی جیسے تھک کر آہستہ چلنے لگی تھی۔ خزاں کی نمی زمین میں اتر چکی تھی اور گھاس کا سبز رنگ ماند پڑ کر ایک دھندلی سی زردی میں بدل گیا تھا۔ درختوں کی شاخیں نیم برہنہ تھیں، جیسے وہ اپنی آخری سانسوں کے ساتھ موسم کے بدلنے کا انتظار کر رہی ہوں۔ اس خاموشی میں ایک عجیب سی اداسی تھی، ایک ایسی اداسی جو محض منظر کا حصہ نہیں بلکہ فضا میں گھلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ میدان کے کنارے ایک نوجوان سپاہی کھڑا تھا مگر اس کے چہرے پر جوانی کی تازگی باقی نہیں رہی تھی۔ آنکھیں اندر دھنس گئی تھیں، ہونٹوں کی رنگت ماند پڑ چکی تھی، اور اس کے جسم میں وہ طاقت نہیں تھی جو کسی سپاہی کی پہچان ہوتی ہے۔ اس کے لباس پر گرد جمی ہوئی تھی، جیسے وہ طویل سفر کے بعد یہاں آ کر رکا ہو، مگر اس کے رکنے میں کوئی سکون نہیں تھا، بلکہ ایک تھکن تھی جو جسم سے زیادہ روح میں محسوس ہوتی تھی۔
اس کے اردگرد کوئی نہ تھا، نہ کوئی آواز، نہ کوئی حرکت، صرف وہ اور وہ خاموش میدان۔ اگر کوئی اس سے پوچھتا کہ وہ وہاں کیوں کھڑا ہے، تو شاید وہ فوراً جواب نہ دے پاتا۔ کیونکہ اس کی حالت ایسی تھی جیسے وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں ہے اور کیوں ہے۔ مگر اس کے اندر ایک کہانی تھی، ایک ایسی کہانی جس نے اس کی زندگی کو بدل دیا تھا، اور جس کے اثرات اب بھی اس کے وجود پر نقش تھے۔ وہ آہستہ آہستہ زمین پر بیٹھ گیا، جیسے اس کے جسم میں کھڑے رہنے کی طاقت بھی باقی نہ رہی ہو۔ اس نے ایک گہری سانس لی، اور پھر اس کی نظر خالی میدان پر جم گئی، جیسے وہ اس خاموشی میں کچھ دیکھ رہا ہو جو دوسروں کی نظروں سے اوجھل تھا۔
’’مَیں نے اسے یہاں دیکھا تھا۔ ‘‘ اس نے آہستہ سے خود سے کہا۔ ان الفاظ میں ایک عجیب سی شدت تھی، جیسے وہ کسی خواب کو یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو جو حقیقت سے زیادہ حقیقی محسوس ہوتا ہو۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بھوکا فنکار
وہ اسی میدان میں تھا۔ ایک ایسے دن جب موسم میں ہلکی سی نمی تھی اور ہوا میں ایک عجیب سی مٹھاس گھلی ہوئی تھی۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا، ایک عام سفر پر، بغیر کسی خاص مقصد کے۔ اس کے ذہن میں کوئی پریشانی نہیں تھی، نہ کوئی سوال، نہ کوئی انتظار۔ وہ بس چل رہا تھا، جیسے اکثر لوگ چلتے ہیں۔ اور پھر اس نے اسے دیکھا۔ وہ اچانک اس کے سامنے آئی تھی، جیسے وہ پہلے سے وہاں موجود تھی مگر اس کی نظر اس پر ابھی پڑی ہو۔ وہ ایک عورت تھی مگر اس میں کچھ ایسا تھا جو اسے عام عورتوں سے مختلف بناتا تھا۔ اس کے بال لمبے اور نرم تھے، جیسے ہوا انہیں چھو کر بھی ہلکی سی موسیقی پیدا کرتی ہو۔ اس کی آنکھیں گہری تھیں، ایسی گہری کہ ان میں دیکھتے ہوئے انسان خود کو بھول جائے۔ وہ زمین پر بیٹھی تھی، جیسے کسی انتظار میں ہو، مگر اس کے چہرے پر کوئی بے چینی نہیں تھی۔ اس کی موجودگی میں ایک عجیب سا سکون تھا، مگر ایک ایسی کشش بھی تھی جو خطرناک محسوس ہوتی تھی۔
سپاہی کو محسوس ہوا کہ جیسے کوئی غیر ارادی کشش اسے عورت کے قریب لے جارہی ہو۔ اس کی خوبصورتی عام نہیں تھی۔ یہ وہ خوبصورتی تھی جو انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے، اور پھر اسے اپنے اندر قید کر لیتی ہے۔ عورت نے مسکرا کر سپاہی کو دیکھا۔ سپاہی نے کچھ کہنا چاہا، مگر الفاظ اس کے لبوں تک آ کر رک گئے۔
عورت نے آہستہ سے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ سپاہی نے اسے تھام لیا۔ اور اسی لمحے اسے محسوس ہوا کہ اس کے اندر کچھ بدل گیا ہے۔ وقت جیسے رک گیا تھا۔ اور شاید اسی لمحے، بغیر کسی اعلان کے، بغیر کسی وعدے کے، وہ اس کے جادو میں آ چکا تھا۔ سپاہی کو بعد میں یاد بھی نہیں رہا کہ اس نے اس کا ہاتھ کب چھوڑا، یا اس نے کبھی چھوڑا بھی تھا یا نہیں۔ اسے صرف یہ یاد تھا کہ وہ اس کے ساتھ تھا، اور یہی ایک حقیقت تھی جو باقی تمام حقیقتوں پر غالب آ چکی تھی۔ اس لمحے کے بعد وقت نے اپنی ترتیب کھو دی تھی، اور واقعات کسی سیدھی لکیر میں نہیں بلکہ ایک خواب کی طرح اس کے ذہن میں بکھر گئے تھے۔
وہ عورت خاموش تھی مگر اس کے اشارے، اس کی نگاہیں، اور اس کی ہلکی سی مسکراہٹ سب کچھ کہہ دیتی تھیں۔ سپاہی کو محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس کی ہر بات سمجھ رہا ہے۔ وہ اسے ساتھ لے کر چلنے لگی۔ سپاہی کو لگ رہا تھا کہ اس کے قدم خود بخود اس کے قدموں کے ساتھ ملتے جا رہے تھے، جیسے وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ کسی اور کی مرضی سے چل رہا ہو۔ کچھ دیر بعد وہ ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں زمین پر پھول بکھرے ہوئے تھے۔ ان پھولوں میں عجیب سی چمک تھی۔ عورت نے ان پھولوں کو چننا شروع کردیا۔ ایسا لگا جیسے وہ کوئی رسم ادا کر رہی ہو۔ اس نے پھولوں کو جوڑ کر ایک ہار بنایا اور اسے سپاہی کے گلے میں ڈال دیا۔ یہ ایک سادہ سا عمل تھا، مگر اس کے اندر ایک عجیب سی اہمیت تھی، جیسے یہ کوئی وعدہ ہو، یا شاید کوئی بندھن۔ اس کے بعد اس نے اسی طرح پھولوں کے کنگن بنائے، اور انہیں اس کے ہاتھوں میں پہنا دیا۔ سپاہی کو محسوس ہوا کہ جیسے وہ کسی رسم کا حصہ بن گیا ہے، ایک ایسی رسم جس کے قواعد اسے معلوم نہیں تھے، مگر جس کا اثر اس کے وجود پر واضح تھا۔ وہ اس کی طرف دیکھتی رہی۔ اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دل کی گواہی
پھر اس نے آہستہ سے کچھ کہا۔ وہ آواز نرم تھی مگر سپاہی اس کے الفاظ کو مکمل طور پر سمجھ نہ سکا۔ یہ زبان اس کیلئے اجنبی تھی۔ اور پھر بھی، عجیب بات یہ تھی کہ وہ اسے سمجھ رہا تھا۔ یہ سمجھ الفاظ کی نہیں تھی، بلکہ احساس کی تھی۔ دونوں آگے بڑھ گئے۔ اس بار وہ گھوڑے پر آگے تھی اور سپاہی پیچھے۔ وہ چلتے رہے، اور وقت جیسے ایک بار پھر بے معنی ہو گیا۔ اس نے سپاہی کو کچھ کھلایا۔ یہ عام کھانا نہیں تھا۔ کچھ ایسا جس کا ذائقہ اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ وہ میٹھا تھا، مگر اس میں ایک ہلکی سی تلخی بھی تھی، جیسے کسی خواب کا ذائقہ ہو۔ اسی لمحے اسے محسوس ہوا کہ وہ اس کے اور قریب ہو گیا ہے، جیسے ان کے درمیان کوئی آخری فاصلہ بھی ختم ہو گیا ہو۔ سپاہی نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اس لمحے میں اسے کچھ اور محسوس نہیں ہوا۔ نہ زمین، نہ آسمان، نہ وقت۔ صرف وہ۔ مگر اسی لمحے، اس کے اندر کہیں ایک ہلکی سی بے چینی بھی پیدا ہوئی۔ ایک بہت ہلکی سی جیسے کوئی دور سے آنے والی آواز مگر اس نے اسے نظر انداز کر دیا۔
وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہی لمحہ اس کے زوال کا آغاز ہے۔ سپاہی کو یہ اندازہ نہیں ہوا کہ وہ کب اس کے ساتھ چلتے چلتے ایک ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں زمین کی ساخت بدلنے لگی تھی اور فضا میں ایک انجانی سی سنجیدگی گھل گئی تھی۔ وہ ایک غار کے دہانے پر کھڑے تھے۔ وہ عورت بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اندر داخل ہو گئی، اور سپاہی بھی اس کے پیچھے چل دیا، جیسے اس کے پاس کوئی اور راستہ نہ ہو۔ وہ دونوں اندر کی طرف بڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے جہاں زمین نسبتاً ہموار تھی اور وہاں ایک قدرتی سا بستر بنا ہوا تھا۔ عورت وہاں بیٹھ گئی، اورسپاہی کا سر اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اس کے لمس میں ایک عجیب سی نرمی تھی۔ کچھ ہی لمحوں میں سپاہی کو محسوس ہوا کہ اس کی آنکھیں بند ہو رہی ہیں۔ جب اس کی آنکھیں مکمل طور پر بند ہو گئیں، تو اسے ایک خواب آیا۔ مگر یہ عام خواب نہیں تھا۔ اس نے خود کو ایک ویران میدان میں دیکھا۔ زمین خشک تھی، ہوا میں سردی تھی، اور فضا میں ایک عجیب سی بے چینی۔ اس کے سامنے کچھ لوگ کھڑے تھے، مگر وہ عام لوگ نہیں تھے۔ ان کے چہرے زرد تھے، آنکھیں گہری تھیں، اور ان کے جسم ایسے لگ رہے تھے جیسے وہ زندگی اور موت کے درمیان کہیں پھنسے ہوئے ہوں۔ وہ بادشاہ تھے۔ وہ شہزادے تھے۔ وہ جنگجو تھے۔ مگر ان سب میں ایک چیز مشترک تھی۔ ان کے چہرے پر ایک ہی تاثر تھا۔ خوف۔
انہوں نے سپاہی کی طرف دیکھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتے تھے، اور پھر ایک ایک کر کے انہوں نے بولنا شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی اس عورت کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی اسی طرح اس کے جادو میں آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی اسی طرح اس کے ساتھ گئے تھے۔ اور پھر انہوں نے کہا کہ اب وہ ختم ہو چکے ہیں۔ ان کی آوازیں ایک ساتھ گونج رہی تھیں، مگر اس میں کوئی شور نہیں تھا، بلکہ ایک عجیب سی ہم آہنگی تھی، جیسے وہ سب ایک ہی حقیقت کو مختلف لفظوں میں دہرا رہے ہوں۔ سپاہی نے ان کی بات سنی، اور پہلی بار اس کے اندر ایک واضح خوف پیدا ہوا۔ اس نے ان چہروں کو دیکھا، ان کی آنکھوں کو، اور اسے محسوس ہوا کہ وہ ان میں خود کو دیکھ رہا ہے۔ جیسے وہ بھی انہی میں شامل ہونے والا ہو۔ وہ پیچھے ہٹنا چاہتا تھا، مگر اس کے قدم نہیں ہلے۔ وہ چیخنا چاہتا تھا، مگر اس کی آواز نہیں نکلی۔ اور پھر ان سب نے ایک ساتھ کہا ’’وہ بے رحم ہے۔ ‘‘
اسی لمحے اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ غار میں تھا۔ مگر سب کچھ بدل چکا تھا۔ وہ عورت نہیں تھی۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا، مگر اس کا جسم اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ اسی لمحے اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ اکیلا ہے۔ اور یہ احساس پہلے سے زیادہ حقیقی تھا۔ جب سپاہی نے آنکھیں پوری طرح کھولیں تو اسے پہلا احساس یہی ہوا ہے کہ وہ غار میں نہیں ویران میدان میں ہے۔ زمین ویسی ہی زرد اور سوکھی تھی، درخت ویسے ہی خاموش اور بے جان، اور ہوا میں وہی سردی تھی۔
اس کے اندر عجیب سا خالی پن تھا جو کسی چیز کے ختم ہو جانے کے بعد رہ جاتا ہے۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ وہ پہلے جیسے نہیں تھے۔ ان میں وہ طاقت نہیں رہی تھی جو کبھی اس کی پہچان تھی۔ اس نے اپنے چہرے کو چھوا، اور اسے محسوس ہوا کہ جیسے اس کی جلد سرد ہو گئی ہے، جیسے اس کے اندر سے زندگی کی حرارت کم ہو چکی ہو۔ وہ کھڑا ہونے کی کوشش کرنے لگا، اور اس بار وہ کسی طرح کھڑا ہو گیا۔ اس کے قدم غیر مستحکم تھے، جیسے وہ چلنا بھول گیا ہو، مگر اس نے خود کو سنبھالا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ وہ چلتا رہا، اسی میدان میں، اسی خاموشی کے اندر، جیسے وہ کسی دائرے میں گھوم رہا ہو جس کا کوئی اختتام نہیں تھا۔
وقت گزرنے لگا۔ دن اور رات بدلتے رہے، مگر اس کیلئے ان کا فرق مٹ چکا تھا۔ وہ کبھی درخت کے نیچے بیٹھ جاتا، کبھی زمین پر لیٹ جاتا، اور کبھی بے مقصد چلتا رہتا۔ اس کے اندر اب کوئی خواہش باقی نہیں رہی تھی۔ نہ کسی چیز کو پانے کی، نہ کسی چیز کو سمجھنے کی۔ صرف ایک احساس باقی تھا۔ ایک یاد۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: اوور کوٹ
وہ یاد جو اس عورت سے جڑی ہوئی تھی۔ وہ اس کی آنکھوں کو یاد کرتا، اس کی مسکراہٹ کو، اس کے لمس کو۔ مگر یہ یادیں اب ویسی نہیں تھیں جیسی پہلے تھیں۔ اب ان میں ایک درد شامل ہو گیا تھا، ایک ایسا درد جو نرم بھی تھا اور گہرا بھی۔ وہ کبھی کبھی سوچتا کہ کیا یہ سب واقعی ہوا تھا، یا یہ صرف ایک خواب تھا۔
وہ اسی میدان میں رہنے لگا۔ کوئی اسے دیکھتا تو شاید پہچان نہ پاتا کہ یہ کبھی ایک سپاہی تھا، ایک ایسا شخص جس میں زندگی تھی، جس میں طاقت تھی۔ اب وہ صرف ایک سایہ تھا، ایک ایسا وجود جو آہستہ آہستہ ختم ہو رہا تھا مگر مکمل طور پر ختم نہیں ہو پا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی وہی خالی پن تھا، اور اس کے چہرے پر وہی تھکن جو کسی لمبے سفر کے بعد آتی ہے۔ مگر یہ سفر ختم نہیں ہو رہا تھا۔ وہ چلتا رہتا، رکتا رہتا، اور پھر چل پڑتا۔ جیسے وہ کسی ایسی چیز کا انتظار کر رہا ہو جو کبھی نہیں آئے گی۔
کبھی کبھی ہوا تیز چلتی، اور اسے ایک لمحے کیلئے محسوس ہوتا کہ جیسے وہ واپس آ گئی ہے، جیسے وہ اس کے قریب ہے۔ مگر یہ صرف ایک وہم ہوتا۔ ایک ایسا وہم جسے وہ جانتا بھی تھا، اور پھر بھی اس سے چمٹا رہتا تھا۔ اسی وہم میں، اسی یاد میں، اس کی زندگی گزرنے لگی۔ اور یوں وہ ایک کہانی بن گیا۔ ایک ایسی کہانی جسے شاید کوئی سنائے، یا شاید کوئی نہ سنائے۔ مگر جو اس میدان کی خاموشی میں ہمیشہ موجود رہے گی۔ کیونکہ کچھ ملاقاتیں ختم نہیں ہوتیں۔