Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپ بھی اسپیس سوٹ پہن سکتے ہیں، مگر کیسے؟

Updated: April 10, 2026, 6:22 PM IST | Afzal Usmani | Mumbai

اس کیلئے آپ کو STEM پر توجہ دینی ہوگی۔ اس فیلڈ میں پوسٹ گریجویشن کے بعد ’’ناسا‘‘ اور ’’اسرو‘‘ تک پہنچا جا سکتا ہے اور آپ کا خلاء کا سفر ممکن ہوسکتا ہے۔

From right: Jeremy Hansen, Christina Koch, Victor Glover and Reid Wiseman. Photo: INN
دائیں سے: جیریمی ہینسن، کرسٹینا کوچ، وکٹر گلووراور ریڈ وائزمین۔ تصویر: آئی این این

ناسا کا مشن Artemis II(آرٹیمس دوم) ۱۰؍ اپریل ۲۰۲۶ء (امریکی تاریخ) کو تقریباً شام ۸؍ بجے اختتام پذیر ہوگا۔ یہ خلائی تحقیق کے ایک نئے دور کی نوید ہے جس کا مقصد انسان کوچاند کے مدار تک دوبارہ لے جانا تھا۔ یہ مشن آرٹیمس پروگرام کا اہم مرحلہ ہے جس نے جدید ٹیکنالوجی، خلائی جہاز اورین اسپیس کرافٹ اور انسان بردار پروازوں کی صلاحیت کو کامیابی سے جانچا۔ اس پیش رفت نے طلبہ کیلئے خلائی سائنس میں کریئر کےوسیع مواقع پیدا کئے ہیں، جہاں فلکیات، ایرواسپیس انجینئرنگ، روبوٹکس اور ڈیٹا سائنس جیسے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ ایسے مشنز طلبہ کو تحقیق، اختراع اور عالمی اداروں میں کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، خصوصاً ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت اور سیٹیلائٹ سسٹمز میں مہارت حاصل کر کے طلبہ عالمی خلائی پروگرام کا حصہ بن سکتے ہیں۔ جانئےکیسے؟ 
خلائی سائنس میں کریئر بنانے کیلئے بنیادی طور پر تعلیمی مہارت، تحقیق اور عملی تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف سائنسی اور تکنیکی علم کا متقاضی ہے بلکہ صبر، تخلیقی سوچ اور ٹیم ورک کی بھی ضرورت رکھتا ہے۔ 
خلائی سائنس میں کریئر بنانے کیلئے اسپیشل اسکلز
خلائی سائنس کے شعبے میں کام کرنے کیلئے مخصوص مہارتیں اہم ہیں، جیسے روبوٹکس، ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیٹیلائٹ ڈیزائن اور کمپیوٹر ماڈلنگ۔ علاوہ ازیں، عملی تربیت جیسے ٹیم پراجیکٹس اور سیمولیشن پروگرامز بھی کریئر میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایس ایس سی طلبہ؛ چند ایسے کورسیز جن کی مانگ ۵؍ سال بعد بھی ہوگی

خلائی سائنسدا ں بننے کیلئے درکار تعلیمی لیاقت
اسکول کی بنیاد: ابتدائی تعلیم میں ریاضی، طبیعیات (فزکس)، کیمسٹری اور کمپیوٹر سائنس میں مضبوط بنیاد ضروری ہے۔ یہ مضامین بیچلر سطح پر انجینئرنگ یا سائنسی کورسیز کیلئے لازمی ہیں۔ گیارہویں اور بارہویں جماعت میں ریاضی اور فزکس لازمی ہیں۔ کیمسٹری اور کمپیوٹر سائنس اضافی فائدہ فراہم کرتے ہیں۔ 
بیچلر ڈگری:خلائی سائنس میں کریئر کیلئے عام طور پر بیچلر ڈگری درج ذیل شعبوں میں حاصل کی جاتی ہے:
ایرو اسپیس انجینئرنگ: راکٹ اور سیٹیلائٹ ڈیزائن کیلئے بنیادی کورس۔ اس کورس کی میعاد ۴؍ سال ہے۔ 
میکانیکل یا الیکٹریکل انجینئرنگ: راکٹ سسٹمز اور مشینری کیلئے۔ اس کورس کی بھی میعاد ۴؍ سال ہے۔ 
فزکس یا اسپیس سائنس: تحقیقی اور ماڈلنگ کیلئے۔ بی ایس سی اور بی ٹیک کور س کی میعاد ۳؍ اور ۴؍ سال ہوتی ہے۔ 
کمپیوٹر سائنس :روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور سمیولیشن کیلئے۔ یہ ۳؍ سالہ انڈر گریجویٹ کورس ہے۔ 
ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز:ماسٹرز یا پی ایچ ڈی آپ کی تخصص اور تحقیقاتی صلاحیت کو مضبوط کرتے ہیں :
ماسٹرز: اسپیس سائنس، فلکیات، ایرو اسپیس انجینئرنگ، یا روبوٹکس میں ۲؍ سالہ فُل ٹائم پاسڑز کیا جاسکتا ہے۔ 
پی ایچ ڈی: مخصوص تحقیقاتی شعبہ جیسے سیٹیلائٹ کمیونی کیشن، راکٹ پروپولشن، یا مصنوعی ذہانت پر تحقیقی کام۔ اس کورس کی میعاد کم از کم ۳؍ سال ہے۔ 
تحقیقی اور عملی تجربہ
تعلیمی قابلیت کے بعد تحقیقی منصوبوں اور لیبارٹری تجربات میں شامل ہونا ضروری ہے۔ ہندوستان میں ’’اسرو‘‘(ISRO) اور’’ وکرم سارا بھائی اسپیس سینٹر‘‘ (VSSC)اور دیگر خلائی تحقیقی ادارے نوجوان سائنسدانوں کیلئے انٹر ن شپ اور پروجیکٹ ورک کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ تجربہ مستقبل میں ملازمت یا تحقیقاتی کریئر کیلئے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایچ ایس سی طلبہ؛ مستقبل سے ہم آہنگ کریئر کا انتخاب ضروری

ہندوستان میں خلائی سائنس کے شعبے میں کریئر کےمواقع
اسرو خلائی تحقیق اور سیٹیلائٹ پروگرام کا قائد ہے۔ یہاں سائنسداں اور انجینئر مختلف مشنز پر کام کرتے ہیں :
سیٹیلائٹ ڈیزائن :اس شعبے میں ماہرین کمیونی کیشن، نیویگیشن یا ریسرچ سیٹیلائٹس کی تیاری کرتے ہیں۔ 
راکٹ انجینئرنگ: لانچ و ہینڈلنگ سسٹمز، پروپولشن اور پائلٹ پروگرامز کی نگرانی راکٹ انجینئر کی ہوتی ہے۔ 
مشن پلاننگ اور ڈیٹا انیلیسس:اس اہم شعبے میں خلائی مشنز کیلئے ماڈلنگ اور نتائج کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان کی تحقیقی خلائی ایجنسی’ اسرو ‘میں شامل ہونے کیلئے بیچلر یا ماسٹرز ڈگری ایرو اسپیس، مکینیکل، الیکٹریکل انجینئرنگ یا فزکس میں ضروری ہے۔ 
تحقیقی اور تعلیمی کریئر
یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں خلائی سائنس کے شعبے میں کام کرنے والے محققین اور استاد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ریسرچ سکالر فلکیات، سیٹیلائٹ کمیونی کیشن، راکٹ پروپولشن یا خلائی روبوٹکس کے مختلف شعبوں میں تحقیق کرتے ہیں جبکہ تعلیم اور لیکچرنگ کے ذریعے وہ انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کی تربیت فراہم کرتے ہیں۔ اس شعبے میں کریئر بنانے کیلئے ماسٹرز کی ڈگری کے بعد پی ایچ ڈی اکثر لازمی ہوتی ہے۔ 
ناسا میں خلائی سائنسداں یا خلا باز کیسے بنیں ؟
امریکی خلائی تحقیقی ادارہ ’ناسا‘ میں خلا باز بننے کیلئے ضروری ہے کہ امید وار امریکی شہری ہو، ’’STEM‘‘ (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور میتھس) کے کسی شعبے میں ماسٹرز ڈگری رکھتا ہو، کم از کم تین سال کا پیشہ ورانہ تجربہ (یا ایک ہزار گھنٹے سےزائد پرواز کا تجربہ) ہو اور طویل دورانیے کا فزیکل ٹیسٹ پاس کرے۔ اس ٹیسٹ میں نظر، بلڈ پریشر اور جسمانی فٹنس کی سخت جانچ شامل ہوتی ہے۔ 
اضافی مہارتیں جو آپ کی درخواست کو مضبوط بناتی ہیں 
اسکوبا ڈائیونگ مائیکرو گریوٹی اور اسپیس واک کی تربیت کی مشق کیلئے ضروری ہے۔ مشکل ماحول کی تربیت جیسے جنگلات یا برفانی علاقوں میں بقا کی تربیت بھی اہم ہے۔ روسی زبان (انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کیلئے ضروری) یا دیگر عالمی زبانوں پر عبور آپ کو خود اعتماد بنائے گا۔ 
واضح رہے کہ منتخب امیدواروں کو۲؍ سے ۳؍ سال کی سخت بنیادی تربیت دی جاتی ہے جس میں اسپیس واکنگ، روبوٹکس، جیٹ فلائنگ اور روسی زبان شامل ہوتی ہے، اس کے بعد وہ آرٹیمس جیسے مشنز کیلئے اہل بنتے ہیں۔ اس شعبے میں کامیابی کیلئے مستقل سیکھنا، جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ خود کو اپڈیٹ یا ہم آہنگ رکھنا اور ٹیم ورک میں مہارت حاصل کرنا بہت ضروری ہے تبھی کامیابی مقدر ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے: تین ماحولیاتی دن، اِن سے آپ کی واقفیت کیوں ضروری؟

آرٹیمس دوم کے خلا بازوں کا ’فوڈ مینو‘

ناسا کا آرٹیمس دوم مشن کے خلانوردوں کیلئے تیار کردہ یہ خصوصی مینو غذائیت، توانائی اور ذائقے کا متوازن امتزاج پیش کرتا ہے جو خلائی ماحول کی ضروریات کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں متنوع کھانے اور مشروبات شامل ہیں جو نہ صرف جسمانی قوت برقرار رکھتے ہیں بلکہ خلا میں بھی لطفِ ذائقہ کو زندہ رکھتے ہیں۔ 
مینو کی اہم جھلکیاں ایک نظر میں 
۱۸۹؍منفرد کھانے کی اشیاء
۱۰؍ سے زائد اقسام کے مشروبات
۵؍ کنیڈین مصنوعات
۵؍ مختلف تیز (اسپائسی) ساسز
کھانے کی عام اشیاء
ٹورٹیلا (روٹی)، گندم کی فلیٹ بریڈ، ویج کیش، بریک فاسٹ ساسیج، آم کا سلاد، بادام، کاجو، باربی کیو بیف برسکٹ، بروکلی آو گراٹین، اسپائی سی سبز پھلیاں ، میکرونی اور چیز، ٹراپیکل فروٹ سلاد اوربٹرنٹ اسکواش۔ 
مشروبات کی اقسام
کافی، گرین ٹی، مینگو پیچ اسمودی، چاکلیٹ بریک فاسٹ ڈرنک، ونیلا بریک فاسٹ ڈرنک، لیموناڈے، سیب کا جوس، انناس کا جوس، کوکو، اسٹرابیری ڈرنک۔ 
فلیورز (ذائقہ کیلئے):  چاکلیٹ اسپریڈ، پی نٹ بٹر، میپل سیرپ، ہاٹ ساس، اسپائی سی مسٹرڈ، اسٹرابیری جیم، شہد، دار چینی، المنڈ بٹر (بادام کا مکھن)۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK