Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کا کام جاری ہے!

Updated: June 05, 2026, 1:32 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

غزہ کے حالات کا بہت غم منایا گیا مگر ہم میں سے بیشتر کی قوت شاید جواب دے گئی اور ہم اپنے معمولات میں مصروف ہوگئے، غزہ کے حالات سے باخبر رہنے، اہل غزہ کا درد محسوس کرنے اور اُن کیلئے دست ِ دُعا بلند کرنے کا ہمارا معمول ختم ہوگیا۔

INN
آئی این این
غزہ کے حالات کا بہت غم منایا گیا مگر ہم میں  سے بیشتر کی قوت شاید جواب دے گئی اور ہم اپنے معمولات میں  مصروف ہوگئے، غزہ کے حالات سے باخبر رہنے، اہل غزہ کا درد محسوس کرنے اور اُن کیلئے دست ِ دُعا بلند کرنے کا ہمارا معمول ختم ہوگیا۔اب ہمیں  غزہ کی اُتنی فکر نہیں  رہ گئی ہے جتنی کہ دو سال پہلے تھی یا سال بھر پہلے تھی مگر موصولہ رپورٹوں  سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل غزہ اب بھی اُتنے ہی سخت حالات میں  زندگی گزار رہے ہیں  جتنے سخت حالات کا سامنا انہیں  نام نہاد جنگ بندی سے پہلےتھا۔
’’ڈاکٹرس ودھاؤٹ بارڈرس‘‘ کی ویب سائٹ سے استفادہ کیجئے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ جنگ سیاسی بیانوں  میں  بند ہے، زمین پر نہیں ۔ حکومت ِ اسرائیل نے بھلے ہی بمباری کم کردی ہو مگر اہل غزہ کو چین سے جینے کا موقع اب بھی نہیں  مل رہا ہے بلکہ ان پر الگ الگ طریقوں  سے ظلم جاری ہے۔اس خطۂ زمین پر غذائی اِمداد نہیں  آنے دی جاتی، پانی کے ٹینکروں  کو روکا جاتا ہے اور دیگر ضروریات ِ زندگی کی فراہمی پر بھی روک لگائی جاتی ہے۔ اسکولوں  کی عمارتیں ، اسپتال، کمیونٹی سینٹرس، پانی کی فراہمی کا پورا نظام، گندے پانی کی نکاسی کے ذرائع سب کچھ تباہ ہوچکا ہے۔ ایسے میں  زندگی موت سے بدتر ہے۔ اگر لڑکے یا بچے پانی کے حصول کیلئے قطاروں  میں  کھڑے ہیں  تب بھی اُن کی زندگی محفوظ نہیں  ہے۔ مذکورہ ویب سائٹ پر ایک خاتون، حنان، کا بیان ملتا ہے کہ ’’میرا پوتا نصیرت میں  پینے کا پانی لینے گیا تھا۔دوسرے بچوں  کے ساتھ وہ بھی قطار میں  تھا جب اسرائیلی فوج نے اُسے شہید کردیا۔ دس سال کا بچہ تھا وہ۔ کبھی سوچا نہیں  تھا کہ پانی لانے کا عمل اتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔‘‘ ایسی سیکڑوں  داستانیں  غزہ کے ایک ایک علاقے میں  سنی جاسکتی ہیں ۔ مذکورہ ویب سائٹ پر موجود رپورٹوں  میں  کہا گیا ہے کہ سب کچھ تہس نہس کرنے کے بعد اسرائیل اب پینے کے پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے۔ 
ہمارے محلوں  میں  زیادہ نہیں  صرف دو تین پانی نہیں  آتا تو سخت مشکل کا سامنا ہوتا ہے اور بجلی چند گھنٹے غائب رہے تو لوگ بے حال ہوجاتے ہیں  مگر ہائے اہل غزہ! نہ پینے کو پانی ہے نہ کھانے کو غذا۔ ڈاکٹرس ودھاؤٹ بارڈرس کا کہنا ہے کہ کمیونٹی کچن ہے اس کے باوجود پانچ میں  سے ایک خاندان کے افراد کو صرف ایک وقت کھانا نصیب ہوتا ہے۔ جنگ ’’بند‘‘ ہوئی مگر جنگ بندی کے دوران اب تک ۸۷۰؍ افراد جام ِ شہادت نوش کرچکے ہیں ۔ سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے پلانٹ اور غزہ کے اپنے آبی ذخائر تباہ ہوچکے ہیں ۔ یہ اُس خطے کی تفصیل ہے جہاں  کے لوگوں  نے اپنوں  کو مرتے دیکھا اور انہیں  اجتماعی قبروں  میں  دفن کیا، یہ وہ لوگ ہیں  جن کے گھر تباہ کردیئے گئے، گھریلو سامان اب بھی ملبے میں  دبا ہوا ہے، یہ وہ لوگ ہیں  جن کی نوکریاں  چھن گئیں ، کاروبار تلف ہوگئے، طلبہ سے معلم اور معلموں  سے طلبہ دور ہوگئے، ڈاکٹر ہیں  تو دوائیں  نہیں  ہیں  جبکہ غذائیت کی کمی کی وجہ سے عورتوں  اور بچوں  کا بُرا حال ہے، تنفس کی بیماری، جلد کی بیماری یا جسم میں  پانی کی کمی سے لاحق امراض، اہل غزہ ہزار دُکھ جھیلنے کے بعد اب ہزار مسائل سے گھرے ہوئے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ ۷۳؍ ہزار لوگوں  کو شہید اور ایک لاکھ ۶۹؍ ہزار لوگوں  کو زخمی کرنے کے بعدنیتن یاہو کی حکومت نے اب باقیماندہ لوگوں  کو بھوک اور پیاس سے، بیماریوں  اور دوا کی قلت سے نیز سخت ناموافق حالات سے مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔ دُنیا تماشا دیکھ رہی ہے۔ کبھی کبھی کچھ کہتی ہے۔ اکثر خاموش رہتی ہے۔ کوئی کچھ نہیں  کررہا ہے سوائے اسرائیل کے جس کا ’’کام‘‘ جاری ہے۔ 
gaza strip Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK