Updated: July 20, 2026, 5:06 PM IST
| Gaza
اقوامِ متحدہ کی تنظیم، دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (UN OCHA) نے بتایا کہ انتہائی بھیڑ بھاڑ والے رہائشی علاقے، گھروں کے پاس بڑی مقدار میں کچرے کی موجودگی، صاف پانی تک محدود رسائی اور نکاسیٔ آب کے نظام کی تباہی کے باعث غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں متعدی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ان بگڑتے ہوئے حالات نے محصور علاقے میں چکن پاکس کو عوامی صحت کے بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔
چکن پاکس سے متاثر فلسطینی بچہ۔ تصویر: ایکس
اقوامِ متحدہ نے رپورٹ کیا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے فلسطینی بچوں کے درمیان چکن پاکس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایسے معاملات میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بچوں میں چکن پاکس کے تقریباً ۹۳۰۰ معاملات ریکارڈ کئے گئے جن میں سے نصف سے زائد معاملات گنجان آباد شہر خان یونس میں سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل غزہ کے بچوں کو روز مرہ کے معمول کے طور پر قتل کر رہا ہے: رپورٹ
اقوامِ متحدہ کی تنظیم، دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (UN OCHA) نے بتایا کہ انتہائی بھیڑ بھاڑ والے رہائشی علاقے، گھروں کے پاس بڑی مقدار میں کچرے کی موجودگی، صاف پانی تک محدود رسائی اور نکاسیٔ آب کے نظام کی تباہی کے باعث غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں متعدی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ان بگڑتے ہوئے حالات نے محصور علاقے میں چکن پاکس کو عوامی صحت کے بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔
غزہ میں سانس کے شدید امراض اور جلدی بیماریاں اب بھی سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے صحت کے مسائل بن گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے گزشتہ ہفتے چکن پاکس، بیرونی طفیلئے (parasite) کے حملوں اور جلد کے بیکٹیریل انفیکشن ’امپیٹیگو‘ (impetigo) کے ۱۸ ہزار سے زائد نئے معاملات بھی رپورٹ کئے۔ رپورٹس کے مطابق، خاص طور پر خان یونس کے آس پاس کے علاقوں میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں بھی مسلسل پھیل رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے۱۶؍ ڈاکٹراسرائیلی جیلوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا
غزہ کا نظام صحت مکمل تباہی کے دہانے پر
غزہ کا صحت کا نظام، اسرائیل کی فوجی جارحیت کی وجہ سے بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ اسرائیل کے جنگی حملوں نے محصور فلسطینی علاقے کے اسپتالوں اور طبی انفراسٹرکچر کو بری طرح مفلوج کرکے رکھ دیا ہے اور ساتھ ہی ادویات، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت پیدا کر دی ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، غزہ کے شہری انفراسٹرکچر کا تقریباً ۹۰ فیصد حصہ شدید متاثر یا تباہ ہو چکا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل نے ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے نافذ العمل ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں ہیں جس کے نتیجے میں اس معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک ۱۱۲۷ فلسطینی شہید اور ۳۶۴۳ دیگر فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک میئر ظہران ممدانی، جنگی مجرم نیتن یاہو کو یو این دورے کے دوران گرفتار کرنے پر غور کر رہے ہیں
وزارتِ صحت کے مطابق، ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے شروع ہونے والی اسرائیل کی وحشیانہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک ۷۳ ہزار ۲۵۰ سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ ۷۳ ہزار ۷۵۱ سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ پانی، صفائی اور طبی انفراسٹرکچر کی اس تباہی نے محصور غزہ میں ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں جن میں چکن پاکس جیسی قابلِ علاج بچپن کی بیماریاں اب بھیڑ بھاڑ والے پناہ گزین کیمپوں میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔