Updated: July 19, 2026, 10:06 PM IST
| Gaza
ڈیجیٹل مہم نے غزہ کی جنگ بندی کے بارے میں اسرائیل کے بیانیے کو بے نقاب کر دیا، سول ڈیفنس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ،یہ کیسی جنگ بندی ہے جب بچے اب بھی مارے جا رہے ہیں، گھر بمباری کی زد میں ہیں، خیموں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور ہر دن خاندان سوگوار ہیں۔
کارکنان تمثیلی انداز میں غزہ کے حالات پیش کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
انٹرنیٹ کے فعال کاکنوں نے’’#They Lied to You‘‘ (انہوں نے تم سے جھوٹ کہا) کے ہیش ٹیگ کے تحت ایک ڈیجیٹل مہم شروع کی، تاکہ غزہ میں ہونے والی اسرائیلی جارحیت کو عالمی توجہ کے مرکز میں دوبارہ لایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقے میں ہونے والے واقعات کی بین الاقوامی میڈیا کوریج میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ نسل کشی کی جنگ ختم ہو گئی ہے یا اس کے باشندوں کی مصائب کا سلسلہ رک گیا ہے۔یہ مہم، جو۱۶؍ جولائی کو عربی اور انگریزی میں شروع کی گئی، میں صحافیوں، انسانی ہمدردی کے کارکنوں، غزہ کے بچوں اور عرب و غیر ملکی حامیوں نے شرکت کی۔ ویڈیو کلپ اور تحریری پوسٹس کے ذریعے، فعال کارکنوں نے فلسطینیوں کے اسرائیل کے ہاتھوں مارے جانے کے مناظر اور بھوک، بے دخلی اور بیماری کی وجہ سے ہونے والی متعدد اقسام کے مصائب کی طرف ازسر نو توجہ دلانے کی کوشش کی۔ ان کا مقصد اس وسیع تاثر کو چیلنج کرنا تھا کہ ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے نافذ جنگ بندی معاہدے نے جنگ اور انسانی المیے کا خاتمہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک میئر ظہران ممدانی، جنگی مجرم نیتن یاہو کو یو این دورے کے دوران گرفتار کرنے پر غور کر رہے ہیں
واضح رہے کہ یہ مہم غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اضافے کے ساتھ ہی شروع ہوئی، جس میں بمباری اور قتل کی کارروائیاں شامل تھیں جن میں درجنوں فلسطینی ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔ زمینی سطح پر یہ شدت جاری بے دخلی، بھوک اور مناسب طبی علاج کی کمی کی شکل میں موجود تھی۔ حالات اس وقت مزید خراب ہو گئے جب اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے میں طے پانے والیشرائط کی خلاف ورزی کی، بشمول کراسنگز کو دوبارہ کھولنا اور خوراک، امداد اور طبی امداد کی متفقہ مقدار کو داخل ہونے دینا۔فعال کاروں نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی باقیات کو بچانے کے لیے اقدام کرے کیونکہ اسرائیل نے تباہی کی رفتار تیز کر دی اور اپنے قبضے کو علاقے کے۷۰؍ فیصد تک بڑھا دیا، جو معاہدے کے خلاف ہے جس میں اسرائیلی فوجی کنٹرول صرف۵۳؍ فیصد تک فراہم کیا گیا تھا۔
سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل، جنہوں نے (انہوں نے تم سے جھوٹ کہا )مہم میں حصہ لیا، نے کہا ،یہ کیسی جنگ بندی ہے جب بچے اب بھی مارے جا رہے ہیں، گھر بمباری کی زد میں ہیں، خیموں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور ہر روز خاندان سوگوار ہیں؟ انہوں نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مزید کہا،’’حقیقی جنگ بندی کا مطلب ہے کہ قتل رک جائے، بمباری خاموش ہو جائے، بچے بغیر خوف کے سوئیں، اور لوگ اپنی زندگیوں میں واپس آ جائیں۔ لیکن پرسکون ہونے کے تمام دعووں کے باوجود ،غزہ میں، فضائی حملے جاری ہیں اور شہری اب بھی روز بروز قیمت ادا کر رہے ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا انفلوئنسر اینڈر یوٹیٹ اپنے بھائی کے ہمراہ میامی میں گرفتار
بعد ازاں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ’’گمراہ کن خبروں کو حقیقت کو دھندلا کرنے کی اجازت نہ دیں۔‘‘اسی ہیش ٹیگ کے تحت، ایک فلم بند کیا گیاویڈیو بڑے پیمانے پر گردش کیا۔ فلسطینی کارکن غازی محی نے ایکس پر لکھا،’’مسئلہ یہ نہیں کہ انہوں نے تم سے جھوٹ کہا۔ مسئلہ یہ ہے کہ تم ان پر یقین کرنا چاہتے تھے۔‘‘ جبکہ فلسطینی کارکن احمد مرتضیٰ نے بھی غزہ میں جنگ بندی کے بار بار میڈیا حوالوں کی مذمت کی۔ ا س کے علاوہ بچوں نے بھی اپنی مصائب کی عکاسی کرنے والی ویڈیوز کے ساتھ اس مہم میں حصہ لیا، تاکہ دنیا بھر میں ان کی آواز سنی جا سکے۔ فلسطینی انفارمیشن سینٹر کی شائع کردہ ایک ویڈیو میں ایک فلسطینی بچہ، جواسپتال میں زیر علاج تھا، نے کہا، ’’انہوں نے تم سے جھوٹ کہا اور کہا کہ جنگ ختم ہو گئی۔ اب بھی جنگ، بھوک، تباہی، بمباری، اور عزیزوں اور پڑوسیوں کی موت ہے۔ جو کہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو گئی، وہ جھوٹے ہیں۔‘‘اس کے علاوہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی کارکن زارا مفتی نے لکھا، ’’نسل کشی جاری ہے۔ فلسطین کے بارے میں بات کرنا بند نہ کرو۔‘‘
واضح رہے کہ غزہ کی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق،امریکہ کی ثالثی میںہونے والی جنگ بندی معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں جمعرات تک۱۱۲۷؍ فلسطینی شہید اور۳۶۴۳؍ زخمی ہو چکے ہیں۔جبکہ جنگ مختلف شکلوں میں جاری رہی، جس میں۷۳۰۰۰؍ سے زائد افراد ہلاک اور۱۷۳۰۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ۹۰؍ فیصدشہری نظام اسرائیل نے تباہ کردیا ہے۔