سپریم کورٹ اور ملک کی ہائی کورٹس کے ایسے کئی مقدمات ہمارے سامنے بطور نظیر موجود ہیں جن میں ججوں نےجانبداری اور مفاد کے ٹکراؤ کے الزمات سے بچنے اور عدالت کی شفافیت کو بحال رکھنے کیلئے خود کو مقدمے سے الگ کیا۔
سپریم کورٹ۔ تصویر:آئی این این
سپریم کورٹ اور ملک کی ہائی کورٹس کے ایسے کئی مقدمات ہمارے سامنے بطور نظیر موجود ہیں جن میں ججوں نےجانبداری اور مفاد کے ٹکراؤ کے الزمات سے بچنے اور عدالت کی شفافیت کو بحال رکھنے کیلئے خود کو مقدمے سے الگ کیا۔ اسی ماہ کے اوائل میں (۴؍ اپریل کو) سپریم کورٹ میں زیرسماعت ایک مقدمے سے جسٹس وشواناتھن نے خود کو محض اسلئے الگ کرلیا کہ انہیں یاد آیا کہ برسوں قبل بطور وکیل انہوں نے ایک فریق کی پیروی کی تھی۔ جسٹس وشواناتھن کے ساتھ اس بنچ میں جسٹس پاردی والا بھی تھے۔ اسی طرح جون ۲۰۲۱ء میں ایک ہفتے کے دوران سپریم کورٹ کے دو ججوں نے دو مختلف مقدمات سے یہ کہتے ہوئے خود کو الگ کرلیا تھا کہ ان مقدمات کا تعلق اُس ریاست سے ہے جہاں وہ ہائی کورٹ میں بطور جج اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ یہ دونوں مقدمات مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران تشدد اور ناردا اسٹنگ سے متعلق تھے جن سے بالترتیب جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس انیرودھ بوس نے علاحدگی اختیار کی تھی۔ اسی طرح بلقیس بانو کیس سے سپریم کورٹ کی جسٹس بیلا ایم ترویدی نےخود کو الگ کیا تھا (دسمبر ۲۰۲۲ء )۔ انہوں نے وجہ نہیں بتائی تھی لیکن قیاس کیا جارہا تھا کہ وہ چونکہ گجرات حکومت میں لاء سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے چکی تھیں، اس لئے ممکن ہے کہ انہوں نے مفاد کے ٹکراؤ کے اندیشے کے تحت خود کو الگ کیا ہو۔ جسٹس یو یو للت کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے جو بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ انہوں نے بابری مسجد مقدمے سے متعلق آئینی بنچ سے اس وقت علاحدگی اختیار کی تھی جب فریقین نے ان کی توجہ اس بات کی طرف دلائی کہ وہ اس مقدمے سے متعلق ایک فوجداری کیس میں بطور وکیل پیش ہوچکے ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس سورن کانتا شرما اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ ارو ند کیجریوال کے درمیان تنازع کو اس وسیع پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔ یہ تنازع دو لیڈروں، دو سیاسی جماعتوں یا دو طبقوں کے درمیان نہیں بلکہ عدالت اور سیاست کے درمیان ہے، اسلئے اس کا نوٹس لیا جانا اور عدالتی وقار اور اس کے تقدس کو بحال رکھنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں تاخیر سے عدالت کا وقار مجروح ہو سکتا ہے۔ اس کے لئےفریقین جسٹس سورن کانتا شرما اور اروند کیجریوال کے ساتھ ہی دیگر ذمہ داران یعنی دہلی ہائی کورٹ، مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ کو بھی آگے آنا چاہئے کیونکہ معاملہ عدالت کی ساکھ کا ہے۔
جسٹس سورن کانتا مشرا کی نیت پر شک کرنا اور انہیں جانبدار قرار دینا مناسب نہیں ہے۔ یہاں پر ملک کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی اس بات سے بھی اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ ’’ محض قیاس آرائیوں، اندازوں اور بے بنیاد خدشات کے پیش نظر جج پر سوال اٹھا کر کوئی بھی فریق اپنی پسند کا بینچ منتخب کرنے لگے، تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔‘‘ لیکن جہاں خدشات پیدا ہوگئے اور مفاد کا ٹکراؤ دکھائی دینے لگا، وہاں محض بیان بازی سے معاملے کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ دہلی کے سابق وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ جسٹس سورن کانتا کے بیٹے اور بیٹی سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے ساتھ سرکاری پینل میں شامل ہیں، مفاد کے ٹکراؤ کی واضح مثال ہے اور اس کا حل نکلنا چاہئے۔ مشہور قول ہے کہ انصاف ہونا کافی نہیں ہے بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے۔