Inquilab Logo Happiest Places to Work

شولاپور میں خواتین کا ’ گاگر مورچہ‘

Updated: April 21, 2026, 11:45 AM IST | Agency | Solapur

ایک طرف ریاست میں درجۂ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف شولا پور میں پانی کی قلت نے مقامی باشندوں کی دشواریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بعض مقامات پر گزشتہ ۸؍ یا ۱۰؍ دنوں سے پانی نہیں آیا ہے۔

Women Protest At The Corporation Office With Empty Jugs.Photo:INN
خواتین نے خالی گاگر (ہنڈے) لے کر کارپوریشن دفتر پر احتجاج کیا-تصویر:آئی این این
ایک طرف ریاست میں درجۂ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف شولا پور میں پانی کی قلت نے مقامی باشندوں کی دشواریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بعض مقامات پر  گزشتہ ۸؍ یا ۱۰؍ دنوں سے پانی نہیں آیا ہے۔ اسکی وجہ سے لوگوں میں ناراضگی ہے۔ پیر کے روز شہر کی خواتین نے اس ناراضگی کا اظہار ایک ’گاگر مورچہ ‘ نکالا۔ خواتین نے ہاتھوں میں خالی گاگر ( ہنڈے) لے کر شہر کی مختلف گلیوں سے ہوتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کے دفتر تک مارچ کیا ۔ انہوں نے نعرے لگائے ’’ پانی دو ، پانی دو، ورنہ کرسی چھوڑ دو!‘‘ اہم بات یہ ہے ان خواتین میں شولا پور کارپوریشن میں برسر اقتدار بی جے پی کی کارکنان بھی شامل تھیں۔ ان لوگوں کا کہنا تھا ’’ہمارے علاقوں میں کئی دنوں سے پانی نہیں آ رہا ہے۔ ہم نے الگ الگ عہدیداروں سے کئی بار شکایت کی لیکن ہمیں ہر بار ٹال مٹول والے جواب دیئے گئے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ فوری طور پر شہرمیں پانی کا انتظام کیا جائے۔‘‘ مظاہرین نے کارپوریشن کے دفتر پہنچ کر حکام کومیمورنڈم پیش کیا اور جلد از جلد پانی کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا۔  
اہم بات یہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن میں ان دنوں ۱۴؍ سو کروڑ روپے کی لاگت سے پانی سپلائی کیلئے ایک پروجیکٹ شروع کرنے پر بحث ہو رہی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بہت شہر میں پانی کی قلت دور کر دی جائے گی۔ یاد رہے کہ ان دنوں ریاست میں درجۂ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔ شولا پور میں بھی سخت گرمی ہے۔  ایسی صورت میں پانی کی کمی نے شہروں کی مشکلیں اور بڑھا دی ہیں۔  
 
 
 بیڑ ضلع کے پرلی تعلقے میں این سی پی (اجیت) کے ایک اور لیڈر پر حملہ 
بیڑ میں ایک اور این سی پی (اجیت) لیڈر پر حملہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ضلع میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اطلاع کے مطابق این سی پی سے تعلق رکھنے والے سنجے جادھو جو بازار سمیتی کے سابق چیئرمین ہیں پر کچھ لوگوں نے کوئتے سے حملہ کیا۔ حملے میں جادھو شدید زخمی ہوئے اور اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ یہ واقعہ بیڑ کے پرلی تعلقے میں پیش آیا ہے جہاں کچھ ہی روز قبل این سی پی ( اجیت ) کے کارپوریٹر عزیز کچھی اور ان کے بیٹوں پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔چند دنوں میں این سی پی کے دو دو لیڈران پر حملے سے بیڑ  کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ 
 
 
اطلاع کے مطابق اتوار کی تقریباً ساڑھے ۱۱؍ بجے  بجے، سنجے جادھو اپنے فارم سے گووردھن ہیورا کی طرف سرسلہ روڈ پر اپنے گھر جا رہے تھے۔ جب وہ گووردھن شیوارہ پہنچے تو ۵؍ یا ۶؍ نامعلوم افراد نےانہیں روکا اور اچانک ان پر حملہ کردیا۔ حملہ آور پہلے سے جادھو کا انتظار کر رہے تھے۔  اس حملے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ ان کے سر اور جسم پر کئی وار کئے گئے۔ انہیں خون سے لت پت حالت میں اسپتال میںداخل کروایا گیا۔ اس وقت ان کا علاج چل رہا ہے۔ بازار سمیتی  کے سابق چیئرمین پر ہوئے اس طرح کے حملے سے شہریوں میں خوف کی فضا ہے۔ اس حملے کی اصل وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے علاقے میں  بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ دن پہلے، سنجے جادھو کا گاؤں کے ایک نوجوان کو مارنے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ اس پس منظر میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ حملہ اسی تنازع کی وجہ سے ہوا ہو گا۔ وہ وائرل ویڈیو اور اب مہلک حملہ دونوں کا فی الحال ضلع میں کافی چرچا ہو رہا ہے۔ پرلی پولیس اس حملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK