اہل ایران نے اپنے رہبر اعظم حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای کو سپرد خاک کردیا۔ اُن کا جسد خاکی جہاں جہاں لے جایا گیا، خواہ وہ تہران ہو یا قم، نجف اور کربلا ہو یا مشہد، ہر جگہ لاکھوں سوگوار خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے بے تاب و بے قرار دکھائی دیئے۔
اہل ایران نے اپنے رہبر اعظم حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای کو سپرد خاک کردیا۔ اُن کا جسد خاکی جہاں جہاں لے جایا گیا، خواہ وہ تہران ہو یا قم، نجف اور کربلا ہو یا مشہد، ہر جگہ لاکھوں سوگوار خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے بے تاب و بے قرار دکھائی دیئے۔ انہیں نہ تو اس بات کی فکر تھی کہ امریکہ نے من مانے انداز میں سیز فائر ختم کردیا ہے اور اب میزائل حملوں کا خطرہ پھر پیدا ہوگیا ہے، نہ ہی اس بات کا احساس تھا کہ وہ کہاں ہیں، اتنے بڑے مجمع سے باہر نکلنے کی راہ بآسانی مل پائے گی یا نہیں اور جم غفیر کی وجہ سے خدانخواستہ کوئی مسئلہ پیدا ہوا تو کیا ہوگا۔ ہر شہر کے مجمع کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس میں لاکھوں افراد تھے مگر جذبہ ایک۔ اسی جذبے کے سبب اہل ایران اتحاد ویکجہتی کا غیر معمولی مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔
کل تک ساری دُنیا ایران کو امریکہ سے ہونے والے مذاکرات کے سبب نہیں دیکھ رہی تھی، آبنائے ہرمز کی وجہ سے نہیں دیکھ رہی تھی بلکہ اس لئے دیکھ رہی تھی کہ یہ قوم اپنے رہنما کو کتنا چاہتی ہے، اس کا کتنا احترام کرتی ہے، اُس کیلئے کیسا جذبۂ خلوص ان کے دلوں میں موجود ہے اور ان میں کتنی بے خوفی ہے کہ جارح اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کا ذرہ برابر بھی خوف ان کے دلوں میں نہیں ہیں!
کیا جوان اور بزرگ، کیا عورتیں اور بچے، سب اپنے رہبر اعظم کو الوداع کہنے کیلئے سڑکوں پر نکل آئے۔ اُنہوں نے آخری رسومات کے مناظر ٹی وی پر یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر دیکھنے کی تن آسانی سے کام نہیں لیا، گھر بیٹھ ایصال ثواب کرنے یا قریب کی مسجد میں دُعائیہ تقریب میں شریک ہونے پر اکتفا نہیں کرلیا بلکہ سب ایک جگہ جمع ہوئے۔ کون جانتا ہے کہ کس کو کتنی مسافت طے کرنے کے بعد وہاں پہنچنے کا موقع ملا جہاں اُن کے رہبر اعظم کا جسد خاکی رکھا گیا تھا۔ اس قوم کے بارے میں امریکہ بہادر یہ دعویٰ کررہی تھا اور مغربی میڈیا اس کا ساتھ دے رہا تھا کہ اسے ملک کی مذہبی قیادت سے بیر ہے، لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ اسی دعوے کے تحت امریکہ بہادر نے ایران میں نفاق کا بیج بویا اور اختلاف کرنے والوں کو شہ دے کر اُنہیں انحراف پر اُکسایا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو پورے خطے کیلئے خطرہ بھی بتایا تھا مگر کیا ہوا۔ جتنے عرصے تک انہوں نے ایران کے خلاف طومار باندھا تھا ایران کو اپنی یہ حقیقت آشکار کرنے کیلئے اس کا دس فیصد بھی وقت نہیں لگا کہ یہ پروپیگنڈہ قطعی بے بنیاد اور بے اصل ہے۔
بلاشبہ جنگ ہوئی جو نہ ہوتی توبہتر تھا مگر جنگ کے ذریعہ ایران نے اپنی بابت دُنیا پر بہت کچھ واضح کردیا ، مثلاً یہ کہ ایرانی قوم کو نہ تو معاشی پابندیوں سے زیر کیا جاسکتا ہے نہ ہی میزائل حملوں سے۔ مخالف پروپیگنڈہ کے ذریعہ نہ تو اس کا حوصلہ توڑا جاسکتا ہے نہ ہی اسے علم و حکمت اور کامیابی و ترقی کی راہ سے بھٹکایا جاسکتا ہے۔ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ اعلیٰ مذہبی، سیاسی، سائنسی اور فوجی قیادت ختم ہونے کے باوجود نہ تو ایران کے فیصلوں میں کمزوری آئی نہ ہی قوم کا حوصلہ پست ہوا۔ شاید اس قوم کے انہی خواص سے جل بھن کر امریکہ نے عین اُن دنوں میں، جب آخری رسوم ادا کی جارہی تھیں، سیز فائر ختم کیا۔ یہ بدترین بزدلی کا مظاہرہ ہے۔