Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھاراوی کو’جہنم‘ کہنے پر وزیراعلیٰ دیویندرفرنویس کے خلاف سخت برہمی

Updated: July 10, 2026, 1:41 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا: یہ منی ہندوستان ہے۔ جہنم دیونار ڈمپنگ گراؤنڈ اور وہ مقامات ہیں جہاں آپ اڈانی کی ایماء پر دھاراوی واسیوں کو بھیج کران کی زندگی خطرے میںڈالناچاہتے ہیں ۔

Dharavi.Photo:INN
دھاراوی۔ تصویر:آئی این این

دھاراوی کے تعلق سے ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے ضمن میں اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے وزیراعلیٰ فرنویس کےذریعے دھاراوی کو’نرک ‘(جہنم) کہنے پر دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران نے برہمی  کا اظہار کیااور شدید مذمت کی۔

یہ بھی پڑھئے:مغربی یورپ : جون کا مہینہ تاریخ کا گرم ترین ماہ،درجہ حرارت معمول سے۴؍ڈگری زیادہ

 
  دھاراوی بچاؤ آندولن کے منتظم اورکنچی کوروے سماج کے ترجمان جگناتھ بھونسلے نے وزیراعلیٰ کے بیان پرسخت رد عمل ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ ’’ اگر دھاراوی ’نرک‘ ہے تو اڈانی اس زمین کو ہتھیانے کیلئے اس حد تک کیوں گئے؟اس طرح کا بیان دھاراوی کے محنتی لوگوں کی توہین ہے، دھاراوی کے لوگوں نے اسے اپنے خون پسینے سے بنایا ہےاور سیکڑوں کروڑ کی معیشت بنی ہے۔ پورے شہر کا کچرا یہاں لایا جاتا ہے اور اسے ری سائیکل کرکے ایک نئی شکل دی جاتی ہے۔ ‘‘ انہوں نے ردعمل کے ساتھ وزیراعلیٰ  کے بیان پر مبنی ویڈیو کا وہ حصہ شیئر کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ ’’کیا آپ ہماری اس دھاراوی کو ’نرک ‘کہتے ہیں جو کچرے کو بھی سونے میں بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔دیونار کا ڈمپنگ گراؤنڈ جہنم ہے، جہاں آپ اڈانی کی ایماءپر دھاراوی کے لوگوں کو بھیجنا چاہتے ہیں۔ آپ نے دھاراوی کے لوگوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔ ان سے پوچھے بغیر ان کے گھر چھیننے کی سازش کی جارہی ہے۔ دھاراوی میں کوئی بھی مستحق یاغیر مستحق (پاتر،اپاتر) نہیں ۔ ہم آپ کی اس تقسیم کو قبول نہیں کرتےہیں۔  یہ محنتوں کشوں اور شہر کوآباد کرنے والوں کی بستی ہے۔ یاد رکھئے کہ دھاراوی کو جہنم کہنے والوں کی دھاراوی میں کوئی جگہ نہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:زہرہ سہگل نےہنستے کھیلتے ۷؍دہائیوں تک تفریح فراہم کی تھی


دھاراوی بچاؤ آندولن کےفعال رکن کامریڈ  نصیرالحق نے وزیراعلیٰ کے بیان پرحیرت کے ساتھ برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ’’دھاراوی بچاؤ آندولن وزیراعلیٰ دیویندرفرنویس کی شدید مذمت کرتا ہے۔ فرنویس صاحب، دھاراوی جہنم نہیں ہے۔ دھاراوی منی ہندوستان ہے۔ تمام ذات ، مذاہب اور زبانوں کے لوگ روزی روٹی کمانے کیلئے پورے ہندوستان سے یہاں آتے ہیں ۔ دھاراوی کے کاروباریوں سے ٹیکس کے مد میں ہزاروں کروڑ روپے آپ کی حکومت کوملتے ہیں، جس سے آپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کو چمکدار کپڑے پہننے اور پُرتعیش بنگلوں وغیرہ کی آسائش ہے ۔ آپ نے دھاراوی کو جہنم کہا لیکن دھاراوی جہنم نہیں ہے۔ آپ دھاراوی کے ۸۵؍فیصد باشندوں کو دیونار اور ملنڈ کے ڈمپنگ گراؤنڈز پر پھینکناچاہتے ہیں، وہاں اصل جہنم ہے، جہاں گندگی، غلاظت اور بیماری ہے، جہاں انسان نہیں رہ سکتے۔‘‘انہوں نےیہ بھی کہاکہ ’’ آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ اہل مکینوں کو دھاراوی میں گھر ملیں گے، حالت یہ ہے کہ صرف ۱۵؍ فیصد مکینوں کو اہل بنایا گیا ہے۔ آپ نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں دھاراوی میں کہاں رکھا جائے گا۔ کیا کسی اہلکار نے ان مکانات کا معائنہ کیا ہے جو ریلوے سے لیز پر لی گئی زمین پر این ایم ڈی پی ایل کے ذریعے بنا ئے جارہے ہیں ۔یہ گھر بغیرپختہ بنیاد کے تعمیر کئے جا رہے ہیں،آخر وہ کتنی مدت تک قائم رہیں گے۔کیا اس طرح دھاراوی کے باشندوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK