زیر ِ نظر مضمون میں قانونی حوالوں سے بتایا گیا ہے کہ کون ہندوستانی یا بھارتی ہے۔ جو ہندوستانی یا بھارتی ہے اُسے شہری ماننا چاہئے اور اُس کی شہریت کو تسلیم کرنا چاہئے۔ مضمون نگار کے خیال میں سب سے بڑی چیز ’’ہندوستانی ہونے کا احساس‘‘ ہے۔
پاسپورٹ آفس۔ تصویر:آئی این این
ہندوستانی شہریت اور پاسپورٹ کے سلسلے میں الجھنوں کے دوران ایک خبر نے توجہ مبذول کرائی کہ اب پاسپورٹ بنوانے کیلئے ۲۵۰۰؍ اور ۳۵۰۰؍ اور فوری پاسپورٹ (تتکال) کیلئے پانچ ہزار ادا کرنے ہوں گے۔ پہلے یہ فیس ۱۵۰۰؍ روپے تھی۔ اسی دوران کئی لوگوں نے پوچھا کہ ہندوستانی شہریت کا ثبوت اگر پاسپورٹ نہیں ہے تو کیا ہے؟ میرا پہلا مشورہ تو یہ ہے کہ اس سلسلے میں وکلاء سے رجوع کریں۔ وہ جو بتلائیں یا مشورہ دیں اس پر عمل کریں۔ میں نے لوگوں کے استفسار پر جو مطالعہ کیا یا ماہرین سے پوچھ گچھ کی اس کا حاصل یہ ہے کہ ہندوستان یا بھارت میں شہریت کی بنیاد آئین ہند کی ۵؍ تا ۱۱؍ دفعات اور شہریت قانون ۱۹۵۵ء ہے۔ آئین کی دفعہ ۵؍ کے مطابق آئین کے نافذ ہونے کے وقت یہاں بسنے والے یا یہاں سے کسی قسم کا تعلق رکھنے والوں کو ہندوستانی شہریت دی گئی تھی۔ ان میں وہ لوگ شامل تھے جو یہاں پیدا ہوئے تھے یا جن کے والدین میں سے کوئی یہاں پیدا ہوا تھا۔ ۶؍ سے ۸؍ تک کی دفعات میں تقسیم کے بعد ہندوستان آئے، پاکستان گئے اور لوٹے لوگوں نیز غیر ملکوں میں بسنے والے ہندوستانی نژاد لوگوں سے متعلق ضابطے ہیں۔ دفعہ ۹؍ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے کسی دوسرے ملک کی شہریت لیتا ہے تو اس کی ہندوستانی شہریت ختم ہوجاتی ہے۔ دفعات ۱۰؍ اور ۱۱؍ میں پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شہریت سے متعلق قوانین بنائے۔ اب رہا یہ سوال کہ ہندوستانی شہریت کے حصول کے کیا ذرائع ہیں تو جواب یہ ہے کہ:
By Birth l یعنی جن کی پیدائش ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء سے یکم جولائی ۱۹۸۷ء کے درمیان ہوئی ہو یا جن کے والدین میں سے کوئی ایک ہندوستانی ہو۔
By Descent l یعنی جن کی پیدائش تو ملک سے باہر ہوئی ہو مگر پیدائش کے وقت جن کے والدین ہندوستانی رہے ہوں۔
By Registration l یعنی جو لوگ ہندوستانیوں سے شادی کے بعد متعینہ مدت تک ہندوستان میں رہائش اختیار کرچکے ہوں۔
By Incorporation of Territory l یعنی وہ جس علاقے میں پیدا ہوئے ہوں وہ ہندوستان کا حصہ بن گیا ہو۔ یا
By Naturalization l یعنی وہ غیر ملکی جو قانونی طور پر ہندوستان میں قیام کرتے ہیں نیز زبان، کردار، قیام کی مدت وغیرہ کی شرطوں کو پورا کرتے ہیں۔ وہ ہندوستانی شہریت حاصل کرسکتے ہیں۔
یہ سوال بہتوں کو پریشان کئے ہوئے ہے کہ ہندوستانی پاسپورٹ ہندوستانی شہریت کا ثبوت ہے یا نہیں؟ جواب یہ ہے کہ پاسپورٹ یقیناً شناخت کا اہم دستاویز ہے لیکن یہ شہریت کا حتمی یا فیصلہ کن ثبوت نہیں ہے۔ پاسپورٹ سے متعلق ۱۹۶۷ء کے قانون کے مطابق یہ غیر ملک جانے کا پروانہ عطا کرنے والی اہم دستاویز ہے۔ شہریت کیلئے پیدائش سے متعلق ریکارڈ، والدین کی شہریت، سرکاری ریکارڈ اور شہریت قانون میں مطلوبہ دیگر شواہد کی جانچ کی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص دستور ہند اور قانون کے ضابطوں پر پورا اترتا ہے تو وہ ہندوستانی شہری ہے۔ ہندوستانی شہری ثابت کرنے کیلئے کسی ایک دستاویز کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پاسپورٹ، آدھار کارڈ یا ووٹر آئی ڈی کارڈ ہندوستانی شہری کو ہی دیا جاتا ہے مگر یہ یا ان میں سے کوئی بھی دستاویز ہندوستانی شہریت کی حتمی یا فیصلہ کن ثبوت نہیں ہے۔ ان کا یا ان میں سے کسی کا ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ ان کو حاصل کرنے والا ہندوستانی شہری ہے۔ یہ سبھی پہچان کیلئے ہیں مثلاً ووٹر آئی کارڈ، چونکہ ہندوستانی آئین ہر بالغ ہندوستانی کو ووٹ دینے کی ضمانت دیتا ہے اس لئے ووٹر آئی ڈی کارڈ یہ بتاتا ہے کہ یہ کارڈ رکھنے والا ۱۸؍ یا زائد برس کی عمر کا ہے اور ووٹ دینے کا حق رکھتا ہے۔ آدھار کارڈ بھی پہچان کیلئے ہے۔ ایس آئی آر کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کہہ چکا ہے کہ آدھار کارڈ کو شہریت کا ثبوت نہیں مانا جاسکتا۔ تو پھر ہندوستان کا شہری کون ہے؟ اس کا جواب میرے نزدیک جیسا کہ مَیں نے پڑھا اور ماہرین سے گفتگو کرکے نتیجہ اخذ کیا ہے یہ ہے کہ اگر ہم آئین اور قانون کے دائرے میں آتے ہیں تو ہم ہندوستان کے شہری ہیں۔ اس کیلئے الگ سے کسی دستاویز کی ضرورت نہیں ہے۔
ہمیں فخر ہے کہ ہم ہندوستانی ہیں۔ بچپن سے کہتے آئے ہیں کہ ’’ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا‘‘۔ ہم ہر قسم کی دہشت گردی اور گھس پیٹھ کیخلاف ہیں، قانون کے پاسدار ہیں مگر کسی فرد، جماعت یا سیاسی پارٹی سے کسی مسئلہ میں اختلاف کو جمہوری اور آئینی حق سمجھتے ہیں۔ اس اختلاف کی بنیاد پر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہماری ہندوستانیت یا قانون کی پاسداری میں داغ ہے مثلاً یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ اگر ووٹ دینے کیلئے ۱۲؍ دستاویزوں میں ایک پاسپورٹ بھی ہے تو پاسپورٹ شہریت کا ثبوت کیوں نہیں ہے؟ کیا کوئی غیر ہندوستانی، ہندوستان میں ووٹ دینے کا مجاز ہے۔ اٹل بہاری باجپئی جو ملک کے وزیراعظم ہوئے اور جب وزیر خارجہ تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہر ہندوستانی کے پاس پاسپورٹ ہونا چاہئے۔ چونکہ ہر ہندوستانی ہندوستان سے باہر سفر نہیں کرتا اس لئے اس بیان کو شہریت کے ہی ضمن میں لیا جانا چاہئے مگر بعد میں شاید انہی کے دور میں والدین میں کسی ایک کی شرط کو دونوں کے ہندوستانی ہونے کی شرط سے بدل دیا گیا تھا۔ بہرحال ہماری ہندوستانیت ہر شک و شبہ سے پرے ہے اور ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ہندوستانی ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ ہندوستانی یا بھارتی ہونے کا یہ احساس ہی ہندوستانی ہونے کا ثبوت ہے اور پاسپورٹ رکھنے سے زیادہ پختہ ثبوت ہے۔ ہندوستانی ہونے پر ہمیں فخر ہے۔ قانونی معاملات وکلاء اور ماہرین قانون بتائینگے ہم تو صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ جن میں ہندوستانی ہونے کا احساس ہے چاہے وہ پاسپورٹ رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں وہ سب ہندوستانی ہیں۔ پاسپورٹ صدر جمہوریہ کے حکم سے پولیس کی تفتیش کے بعد جاری کیا جاتا ہے۔ کیا یہ حکم اور یہ تفتیش ہندوستانی ہونے کا ثبوت فراہم کرنے میں معاون نہیں ہوگی؟