• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

موبائل دوستی اور نئی نسل

Updated: January 04, 2026, 3:38 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

نیا سال بھی پرانے سال کی طرح جلد ہی گزر جائیگا یہ طے ہے۔ تین دن تو گزر ہی چکے ہیں ۔ آج چوتھا دن ہے۔ دن ہفتے میں ڈھلتا ہے، ہفتہ مہینے میں اور مہینہ سال میں ۔

INN
آئی این این
نیا سال بھی پرانے سال کی طرح جلد ہی گزر جائیگا یہ طے ہے۔ تین دن تو گزر ہی چکے ہیں ۔ آج چوتھا دن ہے۔ دن ہفتے میں  ڈھلتا ہے، ہفتہ مہینے میں  اور مہینہ سال میں ۔ ہرچند کہ دنوں ، ہفتوں  اور مہینوں  کی پہلے بھی یہی روش تھی کہ اُنہیں  گزرنا ہے لہٰذا اُن کی روش تو کیا بدلتی، رفتار بھی نہیں  بدلی مگر دورِ جدید کا انسان محسوس کرتا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں  اب وقت جلدی گزر جاتا ہے۔ ایسا کہنے یا سمجھنے والے لوگ بالفاظ دیگر وقت کو قصوروار ٹھہراتے ہیں  خود کو نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں  انسان کے اتنے مشاغل نہیں  تھے جتنے اب ہیں ۔ کئی مشاغل کا ایک مشغلہ موبائل  دوستی ہے۔ سابقہ ادوار میں  بڑے بوڑھے، نئی نسل کے لوگوں  کو بُری صحبت سے دور رہنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ اُنہیں  قصے کہانیاں  سناتے تھے جن کا لب لباب یہ ہوتا تھا کہ بُری صحبت سے انسان بُرا ہی بنتا ہے، اچھا نہیں  بن سکتا۔ اُس دور میں  ایک فارسی مقولہ اکثر سنایا جاتا تھا کہ ’’صحبت صالح تُرا صالح کند، صحبت طالح ترا طالح کند‘‘ جس کا مفہوم یہ تھا کہ تم اچھوں  کے ساتھ رہو گے تو اچھے بنو گے، بُروں  کے ساتھ دوستی کرو گے تو بُرے بنو گے۔ اب کسی بھی بزرگ کو ایسی تلقین کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں  آتی کیونکہ اب بچوں  یا لڑکوں  کی دوستی، دوستوں  سے نہیں ، موبائل سے ہے۔ والدین خود موبائل خرید کر دیتے ہیں ۔ یہ آلہ ہر دو طریقے کی صحبت فراہم کرتا ہے۔ اس کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ اچھی صحبت کا لطف اور فائدہ بہم پہنچاتا ہے اور غلط استعمال کیا جائے تو بُرے دوستوں  سے کہیں  زیادہ بُرا ثابت ہوسکتا ہے۔
بچوں  ، نوعمروں  اور نوجوانوں  کو اس کے صحیح استعمال کی ترغیب کیسے دی جائے یہ اہم سوال ہے۔ آسٹریلیا نے ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں  کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کے لئے باقاعدہ پابندی عائد کی اور یہ قدم اُٹھانے والا دُنیا کا پہلا ملک بن گیا۔ اب دوسرے ممالک بھی اس کے نقش قدم پر چلنے کی تیاری کررہے ہیں ۔ یہ اچھا اقدام ہے مگر اس سے مفید نتائج ہی برآمد ہوں  ایسا نہیں  ہے۔ اس سے مضر نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں ۔ سوشل میڈیا سے دوری کی وجہ سے نوعمروں  میں  تنہائی اور مایوسی یا بے بسی پیدا ہوسکتی ہے اور اگر ایسی کوئی کیفیت اُن پر حاوی ہوگئی تو اس سے اُن کا مستقبل بُری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔ اپنے ملک میں  ایسا قانون بنایا گیا تو ہم اس کا خیرمقدم کریں  گے مگر اس کے ساتھ ہی حکومت سے درخواست کرینگے کہ پابندی کو مفید سے مفید تر بنانے کیلئے رہنما اُصول مرتب کئے جائیں  اور والدین کی بیداری اور تربیت کا جامع منصوبہ تیار کرکے اُس پر سختی سے عمل کیا جائے تاکہ اگر سوشل میڈیا سے دوری کی وجہ سے نوعمروں  میں  منفی ردعمل پیدا ہوتا ہے تو اس سے کس طرح نمٹا جائے۔ 
اگر والدین اپنے بچوں  کو ویسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں  جیسا کہ اُن کی آرزو ہے تو اُنہیں  حکومت کی جانب سے پابندی کا انتظار کئے بغیر خود مستعد ہونا چاہئے۔ ہم اس مستعدی کو زیادہ مؤثر دیکھتے ہیں ۔ اس کے ذریعہ بچوں  اور نوعمروں  کو ذہنی طور پر تیار کیا جائے کہ اُنہیں  کیا دیکھنا ہے اور کیا نہیں  دیکھنا ہے، جو دیکھنا ہے وہ کتنی دیر دیکھنا ہے۔ اُنہیں  موبائل کے ساتھ حد سے زیادہ دوستی کے مضر اثر سے باخبر کیا جائے کہ یہ آلہ رحمت بھی ہے اور زحمت بھی۔ خدارا اسے زحمت نہ بنائیے رحمت ہی رہنے دیجئے تاکہ آپ کا مستقبل خراب نہ ہو۔ ذہنی طور پر تیار کرنے کے ساتھ ساتھ احتساب بھی ضروری ہے تاکہ والدین اپنی آنکھوں  سے دیکھ سکیں  کہ اُن کی ذہن سازی کتنی کارگر  ہے۔ اس حکمت عملی کے نتائج کسی بھی پابندی سے بہتر اور زیادہ مؤثر ہونگے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK