Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایم ایس ایم ای ترمیمی بل

Updated: August 04, 2026, 11:38 AM IST | Mumbai

میکرو، اسمال اینڈ میڈیم اِنٹرپرائزیس ڈیولپمنٹ (امینڈمنٹ) بل گزشتہ روز راجیہ سبھا میں منظور کیا گیا۔ بل کا مقصدملک کی بہت چھوٹی (میکرو)، چھوٹی (اسمال) اور میڈیم (درمیانے) درجے کی صنعتی اکائیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

Rajya Sabha building. Photo: INN
راجیہ سبھا کی عمارت۔ تصویر: آئی این این

میکرو، اسمال اینڈ میڈیم اِنٹرپرائزیس ڈیولپمنٹ (امینڈمنٹ) بل گزشتہ روز راجیہ سبھا میں منظور کیا گیا۔ بل کا مقصدملک کی بہت چھوٹی (میکرو)، چھوٹی (اسمال) اور میڈیم (درمیانے) درجے کی صنعتی اکائیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس کیلئے حکومت نے صنعتی سرگرمیوں کی انجام دہی میں آسانی (ایز آف ڈوئنگ بزنس)،   سرکاری ضابطوں کی پاسداری میں سہولت، بینکوں اور مالیاتی اداروں سے قرض لینے میں ضابطہ جاتی رعایت اور مال فروخت کرنے کے بعد پیسہ وصولنے میں آنے والی دقتوں اور نزاع کے جلد نمٹارے کی ضمانت دینے کا قصد کیا ہے۔ اس کا یہ مقصد بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ صنعتی اکائیوں کو اتنی قوت دی جائے کہ وہ عالمی معیارات پر کھرا اُترنے کے قابل ہوں، جدید تکنالوجی کو اپنائیں اور اُن میں موجودہ عہد کے تجارتی و معاشی چیلنجوں کو سمجھنے کی اہلیت اور اُن کے مقابلے کی قوت پیدا ہو۔

یہ بھی پڑھئے: افسر شاہی اور تکا رام منڈے

حکومت کا اگر یہ ہدف ہے تو غلط نہیں کہ ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی سست رفتاری ختم ہو، اس میں نئی جان پھونکی جائے اور جی ڈی پی میں اس کی حصہ داری قابل ذکر ہوجائے۔ یاد رہنا چاہئے کہ یہ صنعتی اکائیاں، جو اپنے انگریزی مخفف ایم ایس ایم ای سے جانی جاتی ہیں، ملک کی مجموعی مینوفیکچرنگ کا بہت بڑا سہارا تھیں۔ یہاں ماضی کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا کہ اِدھر کئی برسو ں بالخصوص کووڈ کی وباء کے بعد سے اس شعبے کی حالت نہ صرف خراب ہے بلکہ بہت سی اکائیاں بند ہوچکی ہیں۔ یہ شعبہ جی ڈی پی میں ۳۰؍ فیصد کا حصہ دار تھا۔ مینوفیکچرنگ شعبے کی مجموعی پیداوار کا ۴۵؍ فیصد ایم ایس ایم ای کا مرہون منت رہا ہے۔ سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ ایم ای ایم ای سے وابستہ صنعتی اکائیاں روزگار کی فراہمی کا اہم ذریعہ تھیں۔ ان اکائیوں میں ۱۱۰؍ ملین لوگ روزگار پاتے تھے۔ کووڈ کی وجہ سے اس شعبے کی آزمائش شروع ہوئی جو وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔اس کے مسائل حکومت کے سامنے تھے لہٰذا کچھ تدابیر تو کی گئیں جو ناکافی ثابت ہوئیں۔ ۲۰۲۰ء میں جاری کیا گیا اُدیم رجسٹریشن پورٹل کتنا کارآمد ثابت ہوا اور زیڈ سرٹیفکیشن اسکیم کو کتنا کارگر کہا جاسکتا ہے یہ ہم نہیں جانتے مگر اتنا ضرور جانتے ہیں کہ بیشتر صنعتی اکائیوں کی حالت میں جس نمایاں تبدیلی کی ضرورت تھی،و ہ نہیں آئی۔ ’’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘‘ سننے میں اچھا لگتا ہے مگر بہت سے ضابطوں کی پاسداری کرنا اور کئی طرح کی رُکاوٹوں کو عبور کرنا آسان نہیں ہے بالخصوص تب جب کام ٹھپ پڑا ہو۔ بیشتر صنعتی اکائیاں غیر رسمی یا غیر منظم سیکٹر کا حصہ ہیں۔ حکومت نے غیر منظم کو منظم بنانے کی سنجیدہ کوشش کبھی نہیں کی۔ نہ تو سابقہ حکومتوں کے دور میں ایسا ہوا نہ ہی اب ہورہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ماضی میں بڑی صنعتی کمپنیاں ان چھوٹی اکائیوں کو کام دیا کرتی تھیں۔ یہ رشتہ اب مستحکم نہیں رہ گیا ہے جس کا اثر چھوٹی اکائیوں کی معاشی صحت پر پڑا ہے۔ چھوٹی اکائیوں کو مالیاتی اداروں سے قرض بھی آسانی سے نہیں ملتا۔ زیادہ لاگت کی وجہ سے بھی ان کی مشکلات بڑھی ہیں۔ ملک کا مینوفیکچرنگ شعبہ اگر متاثر ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایم ایس ایم ای، جو کہ ایک طرح کا معاون نظام تھا، کمزور ہوا ہے اسی لئے زیر بحث ترمیمی بل قانون بن گیا تو کتنا فائدہ ہوگا یہ کہنا ہنوزمشکل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK