ہم ہندوستانی ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ہندوستانی یا بھارتی ہیں۔ قومی تفاخر یا قومی شعائر کی تعظیم کو ضروری سمجھتے ہیں مگر منوج جھا کے اس جملے سے اتفاق بھی کرتے ہیں کہ صحیح قومی تعظیم پارلیمنٹ کے ذریعہ بنائے گئے قانون کے ذریعہ مسلط نہیں کی جاسکتی۔
۲۰؍ جولائی کو طلبہ کے خلاف جس قسم کے تشدد کا استعمال کیا گیا اس کے خلاف جب ممبران احتجاج کر رہے تھے، راجیہ سبھا میں وندے ماترم گانے کے دوران کسی بھی طرح کی رکاوٹ پیدا کرنے یا توہین کرنے کو مجرمانہ فعل قرار دینے والا مسودۂ قانون پیش بھی ہوا اور پاس بھی۔ دوسرے دن یہ مسودۂ قانون لوک سبھا میں بھی پاس ہوگیا۔ اس میں ترمیم پیش کرنے والے لوگ وہاں موجود نہیں تھے۔ فری پریس جنرل کے مطابق داخلہ امور کے وزیر مملکت نیتانند رائے نے کہا کہ اس مسودۂ قانون کا مقصد وندے ماترم کو جن گن من (قومی ترانہ) کی مساوی حیثیت دلوانا ہے۔ آر جے ڈی کے رکن منوج جھا نے راجیہ سبھا میں کہا کہ حکومت کے ذریعہ قومی گیت کو قومی ترانے کے خلاف کھڑا کیا جا رہا ہے یا یہ کہ سبھاش بابو کو نہرو جی کے مقابلے کھڑا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی تعظیم کو پارلیمانی قانون کے ذریعہ مسلط نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارہ میں اسرائیلی مظالم اورفلسطینی مزاحمت
ہم ہندوستانی ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ہندوستانی یا بھارتی ہیں۔ قومی تفاخر یا قومی شعائر کی تعظیم کو ضروری سمجھتے ہیں مگر منوج جھا کے اس جملے سے اتفاق بھی کرتے ہیں کہ صحیح قومی تعظیم پارلیمنٹ کے ذریعہ بنائے گئے قانون کے ذریعہ مسلط نہیں کی جاسکتی۔ بات رابندر ناتھ ٹیگور اور وندے ماترم کی ہے تو تاریخ کے اس اندراج کو دہرایا جاسکتا ہے کہ ۱۸۹۶ء میں کلکتہ (موجودہ کولکاتا) کے بیڈن اسکوائر پر ٹیگور نے وندے ماترم گایا تھا مگر بعد میں خیالات بدل جانے کے سبب سبھاش چندر بوس کو ۱۹۳۷ء میں لکھا تھا کہ ’’وندے ماترم اپنے مرکز میں درگا دیوی کیلئے لکھا گیا بھجن ہے۔ یہ اتنی سیدھی بات ہے کہ اس پر کوئی بحث ہو ہی نہیں سکتی۔ بنکم چندر چٹرجی (وندے ماترم کے خالق) نے درگا کو بنگال بھر سے متعلق دکھایا ہے مگر کسی مسلمان سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ وطن دوستی کی نسبت سے دس ہاتھوں والی اس دیوی کو دیش کے طور پر قبول کرے گا۔ اس سال کئی میگزینوں کے درگا پوجا نمبروں میں وندے ماترم سے اقتباسات شامل کئے گئے ہیں.... آنند مٹھ (ناول) ایک ادبی کارنامہ ہے اور یہ گیت اس میں موزوں ہے لیکن پارلیمنٹ سب کی یا تمام مذہبی طبقات کے ملنے کی جگہ ہے وہاں یہ بھجن مناسب نہیں ہوسکتا۔‘‘
۷؍ اگست ۱۹۴۱ء کو جب رابندر ناتھ ٹیگور کی موت ہوئی پنڈت نہرو انگریزوں کی قید میں تھے وہاں انہوں نے اپنا تاثر لکھا کہ ’’گاندھی اور ٹیگور دو قسم کے آدمی تھے۔ ایک دوسرے سے مختلف۔ اس کے باوجود دونوں روایتی ہندوستانی، دونوں ہندوستان کے عظیم انسانوں کی قطار میں کھڑے ہیں، کسی خاص خوبی کی بنا پر نہیں بلکہ مجموعی تاثر کی بنا پر....‘‘ رومین رولاں نے دونوں میں اختلافات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ اپنی ڈائری میں بھی لکھا ہے: ’’....بحث کا دوسرا نکتہ نیشنلزم (وطن دوستی) تھا جس کی وکالت گاندھی کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامیت تک پہنچنے کیلئے نیشنلزم سے گزرنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح امن کے حصول کیلئے کسی کا جنگ سے گزرنا۔‘‘ ۱۹۳۹ء میں ٹیگور نے اپنے دوست لیونارڈ ایلہمبرٹ کو لکھا تھا کہ ’’کسی شکست خوردہ کو شدت سے یہ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں کہ ان لاکھوں لوگوں کے مستقبل کا کیا ہوگا جو اپنی پُرامن روایات کے ساتھ بھکمری، بیماری، ملکی اور غیر ملکی حق تلفیوں اور فرقہ واریت کی ظالمانہ بے چینیوں کے محکوم بنا دیئے گئے ہوں۔‘‘وندے ماترم کی تخلیق بنکم چندر چٹرجی نے کی اور جن گن من کی تخلیق رابندر ناتھ ٹیگور نے۔ دونوں کی افتاد طبع الگ الگ تھی۔ ٹیگور پر الزام ہے کہ انہوں نے انگریز بادشاہ کے استقبال کیلئے یہ گیت لکھا مگر میں نے ٹیگور کی وضاحتوں اور تحریروں کی روشنی میں اپنی کتاب ’ٹیگور شناسی‘ میں واضح کیا ہے کہ ٹیگور نے یہ گیت حمد کے طور پر لکھا ہے اور اس کے نتیجے میں انگریزوں کے علاوہ انگریز نوازوں نے بھی ٹیگور اور ’شانتی نکیتن‘ کو ترچھی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ میرا مذکورہ مضمون ’ٹیگور شناسی‘ کے علاوہ روزنامہ ’انقلاب‘ کے اسی کالم میں شائع ہوچکا ہے، ۹؍ ستمبر ۲۰۱۱ء کی اشاعت میں اتیس داس گپتا کی مرتبہ کتاب ’’اے ٹریبیوٹ ٹو رابندر ناتھ ٹیگور: گلیمسیز فرام آرکائیول ریکارڈز‘‘ پر بھاس وتی چکرورتی کا ’دی ٹیلیگراف‘ میں تبصرہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیگور نے Ezra Pound سے کہا تھا کہ وہ جوانی میں پولیس کی نظر میں مشتبہ بن گئے تھے۔ پولیس ریکارڈ میں Class B، Suspect no 12 سے وہی مراد ہیں۔ شانتی نکیتن میں بھی جو انہوں نے قائم کیا ان کا نام Ex Suspect کے طور پر درج ہے۔ خفیہ پولیس نے ان کیخلاف جو فائل تیار کی تھی اس کا نمبر ۱۹۲۵/ ۲۸۵؍ ہے۔
ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ ٹیگور نے ’’بھارت بھاگیہ ودھاتا‘‘ کسے کہا تھا۔ جواب خود ٹیگور نے دیا ہے۔ ۲۰؍ نومبر ۱۹۳۷ء کو انہوں نے پولین بہاری کو لکھا کہ ’’میرے ایک دوست نے جو سرکاری آدمی اور حکومت کا وفادار تھا، یہ فرمائش کی کہ میں بادشاہ کا قصیدہ لکھ دوں۔ مَیں نے جن گن من ادھینایک میں ہندوستان کا مقدر طے کرنے والے کا قصیدہ لکھا ہے.... انسانی منزل کی جانب لے جانے والا عظیم رتھ بان کسی بھی طرح پانچواں، چھٹا یا کوئی بھی جارج نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ انشاء کے مدیر ف س اعجاز نے اپنی کتاب ’تھوڑا سا ٹیگور‘ (ص ۳۸) میں مزید اطلاع دی ہے کہ ٹیگور نے ’جے راجیشور بھاگیہ ودھاتا‘ کو تبدیل کرکے جے وشیشور مانو بھاگیہ ودھاتا یعنی جیت ہو تیری اے دُنیا کے انسانوں کا نصیب طے کرنے والے کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یہ خود سر نسل قابو میں آنے والی نہیں!
یہ ترمیم تو نہیں پڑھی جاتی مگر صدر جمہوریہ راجندر پرساد کے اس بیان کو جو انہوں نے ۲۴؍ جنوری ۱۹۵۰ء کو دستور ساز اسمبلی میں دیا تھا کہ ’’جن گن من کو قومی ترانہ اس شرط کے ساتھ قرار دیا گیا ہے کہ حکومت.... اس میں ترمیم کرسکتی ہے نہ بیشتر نے پڑھا اور دہرایا ہے۔ جن گن من اور وندے ماترم سنسکرت آمیز بنگلہ زبان میں لکھے گئے ہیں۔ اقبال کے ترانۂ ہندی کو جو ’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘ کا درس دیتا ہے اور ۱۹۳۵ء میں گاندھی جی جس کو پونے جیل میں پڑھ/ سن کر روتے تھے آسان ہندی/ اُردو میں ہے مگر نظرانداز کیا گیا ہے، شاید اس لئے کہ اقبال کو پڑوسی ملک نے اپنا قومی شاعر قرار دے دیا ہے۔ ہم کسی عقیدہ یا عبادت کے طریقے میں رخنہ اندازی کے نہ قائل ہیں نہ کسی دیوی کی مدح میں لکھے گئے گیت کے پڑھے جانے میں رکاوٹ ڈالنے کے حق میں ہیں، ہاں ہمارے عقیدۂ توحید پر کوئی وار نہ کیا جائے۔ ترانۂ ہندی کو قومی ترانۂ جن گن من کے مساوی حیثیت کیوں نہیں دی گئی اس سوال کے جواب میں بس ایک سوال کیا جاسکتا ہے کہ اس ترانۂ ہندی کے تئیں خود ہمارا کیا رویہ ہے؟ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ قومی ترانہ کب اور کیوں تخلیق کیا گیا۔ یہاں یہ بات دہرانا بھی شاید بے محل نہ ہو کہ پارلیمنٹ میں لتا منگیشکر جی اور اس ملک کے دونوں خلائی مسافر اس گیت یعنی ترانۂ ہندی کو گا چکے ہیں۔