Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایم ایس ایم ای ترمیمی بل پر پارلیمنٹ کی منظوری، لوک سبھا سے بھی منظور

Updated: August 07, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi

لوک سبھا نے اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ’مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ (ترمیمی) بل، ۲۰۲۶‘ کو بغیر بحث کے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی راجیہ سبھا سے پہلے ہی منظور ہو چکے اس بل پر پارلیمنٹ کی حتمی منظوری بھی مل گئی۔

MSME.Photo:INN
ایم ایس ایم ای۔ تصویر:آئی این این

 لوک سبھا نے جمعہ کو اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ’مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ (ترمیمی) بل، ۲۰۲۶‘ کو بغیر بحث کے صوتی ووٹ  سے منظور کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی راجیہ سبھا سے پہلے ہی منظور ہو چکے اس بل پر پارلیمنٹ کی حتمی منظوری بھی مل گئی۔

یہ بھی پڑھئے:ہم اسکول میں تھے جب سیف کی شادی کی خبر ملی: سوہا اور صبا علی خان


ایک مرتبہ کارروائی ملتوی ہونے کے بعد جب دوپہر ۱۲؍ بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن اراکین کان رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ایوان میں بیان دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کرنے لگے۔ ہنگامے کے درمیان ضروری دستاویزات ایوان کے ٹیبل پر رکھوائے جانے کے بعد پریذائیڈنگ آفیسر نے مرکزی وزیر برائے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز جیتن رام مانجھی سے ’ایم ایس ایم ای ڈیولپمنٹ (ترمیمی) بل،  ۲۰۲۶ء‘ کو غور و منظوری کے لیے ایوان میں پیش کرنے کو کہا۔ پریذائیڈنگ آفیسر نے بل پر ترامیم پیش کرنے والے اراکین کے نام بھی پکارے، لیکن ہنگامہ کر رہے اپوزیشن اراکین کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔ اس کے بعد بل کو بغیر کسی بحث کے ایوان کے سامنے رکھا گیا اور اسے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔
بل کی نمایاں خصوصیات کے مطابق، اب ایم ایس ایم ای اداروں کی درجہ بندی صرف پلانٹ، مشینری یا آلات میں سرمایہ کاری کی بنیاد پر نہیں بلکہ سالانہ کاروبار (ٹرن اوور) کی بنیاد پر بھی کی جائے گی۔ ان حدود کا تعین مرکزی حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے کرے گی۔ بل کے تحت تمام ایم ایس ایم ای اداروں کے لیے رجسٹریشن رضاکارانہ (اختیاری) ہوگا، جبکہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں رجسٹریشن کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی نوٹیفائی کر سکیں گی۔
ترمیمی بل میں مرکزی پبلک سیکٹر کے اداروں کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ ایم ایس ایم ای اداروں سے خریدی گئی اشیا اور خدمات کے تمام بلوں کی ادائیگی ٹریڈ ریسیویبلز ڈسکاؤنٹنگ سسٹم (TReDS) کے ذریعے کریں۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں دیگر سرکاری اداروں، اتھارٹیز اور تنظیموں پر بھی اس نظام کا اطلاق کر سکیں گی۔
تنازعات کے فوری حل کے لیے ثالثی (میڈی ایشن) اور پنچایت/ثالثی (آربیٹریشن) کے عمل کو بھی وقت کی پابندی سے مشروط کیا گیا ہے۔ پہلی سماعت کی تاریخ سے ۹۰؍ دن کے اندر ثالثی مکمل کرنا ہوگی۔ اگر ثالثی ناکام ہو جائے تو   ۳۰؍دن کے اندر معاملہ آربیٹریشن کے لیے بھیجا جائے گا، جبکہ دلائل مکمل ہونے کے بعد  ۹۰؍دن کے اندر فیصلہ سنانا لازمی ہوگا۔ اگر کونسل یا آربیٹریشن کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جاتا ہے تو عدالت جمع کرائی گئی رقم کا مناسب حصہ ایم ایس ایم ای سپلائر کو ادا کرنے کا حکم دے سکے گی۔ اگر مقدمہ چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک زیر التوا رہے تو کم از کم ۵۰؍ فیصد رقم سپلائر کو ادا کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اشفاق نے ۴۰۰؍ میٹر دوڑ میں قومی ریکارڈ توڑ کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی


بل میں بعض جرائم کو غیر فوجداری قرار دیتے ہوئے پہلی مرتبہ غلط معلومات فراہم کرنے یا مطلوبہ معلومات نہ دینے پر صرف انتباہ دیا جائے گا، جبکہ بعد کی خلاف ورزیوں پر جرمانہ عائد ہوگا۔ سالانہ مالیاتی کھاتوں میں ایم ایس ایم ای واجبات کی تفصیلات درج نہ کرنے پر بھی مرحلہ وار جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ترمیم نافذ ہونے کے بعد جرمانے کی کم از کم رقم میں ہر تین سال بعد ۱۰؍ فیصد اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت ترقیاتی کمشنر کو فیصلہ سنانے والا مجاز افسر مقرر کرے گی، جبکہ ان کے فیصلوں کے خلاف سیکریٹری برائے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے سامنے اپیل دائر کی جا سکے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK