Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ: طویل انتظار، معمولی تاخیر اور محرومی

Updated: June 23, 2026, 1:48 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

خدا خدا کرکے نیٹ کا امتحان ہوگیا اور اب تک کہیں سے پرچہ لیک ہونے کی شکایت نہیں ملی ہے۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ ۳؍ مئی کو لیا گیا امتحان اتنے تنازعوں میں گھر گیا۔

Neet.Photo:INN
نیٹ۔ تصویر:آئی این این
خدا خدا کرکے نیٹ کا امتحان ہوگیا اور اب تک کہیں سے پرچہ لیک ہونے کی شکایت نہیں ملی ہے۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ ۳؍ مئی کو لیا گیا امتحان اتنے تنازعوں میں گھر گیا اور اس کی وجہ سے امتحانی ادارہ ’’این ٹی اے‘‘ پر اتنا دباؤ پڑا کہ ہر اعتبار سے صاف و شفاف امتحان منعقد کرنا ا س کی مجبوری بن گیا۔ ایسے ہی اقدام ۳؍ مئی کے امتحان کیلئے بھی کئے جاسکتے تھے۔ تب نہ پرچہ لیک ہوتا نہ دیگر بے ضابطگیوں کا پردہ فاش ہوتا، نہ این ٹی اے تنازعوں میں گھرتا نہ وزیر تعلیم کا استعفےٰ مانگا جاتا، نہ طلبہ کو شدید ذہنی و نفسیاتی اذیت سے گزرنا پڑتا نہ اپنی قدر کھوتے اداروں کی فہرست میں این ٹی اے شامل ہوتا۔ ۲۱؍ جون کو ہونے والے ری اگزام کی بابت یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس کا پرچہ لیک نہیں ہوا، بس، ورنہ این ٹی اے سے شکایتیں تو اب بھی ہیں۔ ان میں کچھ پرانی ہیں اور کچھ نئی ہیں۔ نئی شکایتوں پر تبصرہ سے پہلے یہ کہنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ این ٹی اے کا ’’ٹیلی گرام‘‘ بند کرنا قطعی غیر ضروری تھا۔ یہ ایک طرح کا احساس عدم تحفظ تھا کہ اگر ہم پرچہ لیک ہونے سے نہ روک پائے تو اس کی نکاسی کا راستہ روک دیں تاکہ پھر سے ملک گیر تنازع نہ پیدا ہو۔
 
 
واضح رہنا چاہئے کہ ۲۱؍ جون کے امتحان کیلئے امتحان گاہوں کی اے آئی کے ذریعہ نگرانی اور طلبہ کی بایومیٹرک جانچ کی گئی، ایک لاکھ اڑتیس ہزار سی سی ٹی وی اور ۵۰؍ ہزار جیمرس لگائے گئے نیز بھاری تعداد میں پولیس اور انتظامی افسران تعینات کئے گئے تھے۔ اس سے واضح ہوا کہ این ٹی اے کو خود پر اور پرچہ تیار کرنے والے اپنے عملے پر اعتماد نہیں تھا۔ کیا ایسے ادارے کو تحلیل کردینا بہتر متبادل نہیں؟ 
 
 
جہاں تک نئی شکایات کا تعلق ہے، اُن میں چند ایسی ہیں جن کا تعلق انسانی نقطۂ نظر سے ہے۔ ڈسپلن اپنی جگہ بہت اہم ہے مگر ایک دو منٹ کی تاخیر سے اگزام سینٹر پہنچنے والوں کو ’’اِن ڈسپلن‘‘ کا شکار نہیں کہا جاسکتا۔  بعض طلبہ کے والدین کا یہ سوال غلط نہیں کہ طلبہ نے ’ری ٹیسٹ‘ کیلئے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ انتظار کیا، آپ دو منٹ نہیں رُک سکتے؟‘‘ ایسے طلبہ کو  روکنا غیر انسانی رویہ تھا جو اگزام سینٹروں پر مامور اہلکاروں اور اعلیٰ ادھیکاریوں نے اپنایا۔ گزشتہ روز منظر عام پر آنے والی میڈیا رپورٹس میںبتایا گیا کہ وِدیشہ ( ایم پی) کے ایک سینٹر پر ایک طالبہ کو شدید بارش اور والد کی موٹر سائیکل پنکچر ہوجانے کی وجہ سے دو منٹ کی تاخیر ہوگئی۔ سینٹر کے باہر اُس کے والد نے بڑی منت سماجت کی تب نوڈل آفیسر کی مداخلت پر طالبہ کو اندر تو لے لیا گیا مگر بائیو میٹرک ویری فکیشن بند کردیا گیا تھا۔ طالبہ جو زار و قطارر رو رہی تھی، امتحان سے محروم ہی رہی۔ دو منٹ نے اس کی تمام تیاریوں اور امتحان گاہ پہنچنے کی مشقتوں پر پانی پھیر دیا۔ اسی طرح ایک طالبہ کو اُس کے سینٹر سے یہ کہہ کر ہٹایا گیا کہ وہ اپنا ایڈمٹ کارڈ دوبارہ ڈاؤن لوڈ کرے۔ اُس نے ایسا ہی کیا مگر اس پر کوئی دوسرا سینٹر درج تھا۔ دوسرے سینٹر پر وہ پہنچی مگر معمولی تاخیر ہوچکی تھی اس لئے اُسے بھی امتحان دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔ایسی اور بھی خبریں ہیں جنہیں پڑھ کر یہی ایک تاثر اُبھرا کہ کیا این ٹی اے طلبہ سے اپنی بدنامی کا انتقام لینے پر تُلا ہوا تھا؟ یا بدنامی کو نیک نامی میں بدلنے کیلئے اس نے غیر معمولی ’’فعالیت‘‘ اور نام نہاد ڈسپلن کا مظاہرہ کیا؟

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK